Shafiq Awan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
18 اپریل 2021 (11:05) 2021-04-18

صحافت کے دو بڑے نام آئی اے رحمان اور ضیاء شاہد بھی آگے پیچھے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرماے اور اگلی منزلیں آسان کرے۔آمین۔

ضیاء شاہد صاحب نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز ایک عامل صحافی کی حیثیت سے کیا اور پھر اپنی جہد مسلسل اور محنت سے ایک میڈیا ہائوس کے مالک بن گئے۔ کامیاب اخبارات نکالے اور پھر ایک نیوز چینل کی بھی بنیاد رکھی اور ان کی جلائی گئی شمع آج تک روشن ہے۔ یہ عامل صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ 

میں نے صحافت کا آغاز مستند انگریزی جریدے ViewPoint سے کیا۔ پھرDaily Democrat، Weekly The Friday Times، The News، The Nation اور Daily Times  سے بھی منسلک رہا۔ اردو جرنلزم سے کبھی واسطہ نہ رہا تھا۔ یہ ضیا ء شاہد صاحب ہی تھے جو مجھے اردو صحافت میں لے کر آئے اور کالم نویسی کی ترغیب دی۔ ضیا ء شاہد صاحب سے ابتدائی ملاقاتیں سلام دعا تک رہیں۔ پھر ہوا یوں کہ ضیا شاہد صاحب نے روزنامہ خبریں کا اجرا ء کیا ان کی پیشہ وارانہ مہارت سے خبریں تیزی سے مقبول ہونے لگا۔ اس وقت میں دی نیوز سے وابستہ تھا۔ پھر ایک دن خوشگوار حیرت ہوئی جب میں نے اپنی انگریزی کی خبر کا اردو ترجمہ خبریں اخبار میں دیکھا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور اکثر میری خبریں ان کے اخبار کی زینت بنتی رہیں۔ پھر ان کے شام کے اخبار میں بھی یہ سلسلہ چل نکلا۔ انہیں فون کر کے شکریہ ادا کیا تو انہوں نے کمال شفقت سے ملاقات کے لیے بلا لیا۔ ایک دن ان کے دفتر حاضری دی تو میری رپورٹنگ اور انگریزی کالمز کی تعریف کی۔ پھر کہنے لگے اردو میں کیوں نہیں لکھتے یہ مقبول میڈیا ہے اور اس کی پہنچ عوام تک ہے اور تمہیں ریسپانس بھی ملے گا۔ میں نے کہا کبھی لکھا نہیں کہنے لگے شروع کر دو۔ ایک دن ڈرتے ڈرتے اردو میں کالم لکھ کر حاضر ہوا تو پڑھ کر مسکرانے لگے میں ڈر سا گیا۔ کہنے لگے اچھا لکھا ہے لیکن انگریزی الفاظ سے پرہیز کرو آہستہ آہستہ بہتر ہو جائے گا۔ یہ بھی تاکید کی کہ اردو بہتر کرنے کے لیے اردو اخبارات کے ایڈیٹوریل ضرور پڑھنا۔پھر میرے کالم کا نام ’’سرگوشیاں‘‘ بھی انہوں نے تجویز کیا۔ یوں یہ 

سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔

شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے ایک بار پنجاب حکومت نے کتا مار مہم شروع کی تو اس پر میں نے ایک کالم لکھا جس پر پنجاب حکومت بہت جزبز ہوئی۔ اکرم شہیدی ڈی جی پی آر پنجاب تھے انہوں نے اس کالم کی لمبی چوڑی وضاحت جاری کر دی جو کہ کالم سے بڑی تھی اور وہ خبریں کے صفحہ اول پر شائع ہوئی۔ مجھے صبح صبح ضیا ء صاحب کا فون آیا اور کہا کہ اخبار پڑھا میں نے کہا نہیں اچھا پڑھ کر میرے پاس آئیں۔ میں نے اخبار دیکھا تو صفحہ اول پر اپنے کالم کی لمبی چوڑی وضاحت دیکھی لیکن اس پوری وضاحت میں میرے اٹھائے گئے نکات کا کوئی ذکر نہ تھا۔ خیر میں ضیا ء صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ہمیشہ کی طرح محبت سے ہنستے ہوئے ملے اور ہنستے ہی چلے گئے۔ کہنے لگے تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بجے ہیں میں نے کہا کہ اخبار کے صفحہ اول پر میرے کالم کی وضاحت میں میرا نام لے کر مجھے متعصب قرار دیا گیا ہے۔ کہنے لگے یہ تمہارے لیے اعزاز ہے مجھے نہیں یاد کہ کسی حکومت کو کوئی کالم اتنا چبھا ہو۔ چلو تم اس کا جواب اگلے کالم میں دے دینا۔ ان کی حوصلہ افزائی سے مجھے رہنمائی ملی جو آگے چل کر بھی میرے کام آئی کیونکہ پنجاب حکومت اکثر و بیشتر میری خبروں پر اس قسم کی مہربانیاں جاری رہیں جن کا ضیا ء صاحب کی ہدایات کی روشنی میں جواب دیتا رہا۔ کئی بار انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اپنے کالموں پر مشتمل کتاب لکھنے کو کہا لیکن روایتی سستی کی وجہ سے یہ نہ کر سکا۔

ضیا ء صاحب ہمیشہ شفقت سے پیش آتے اور گاہے بگاے ان سے سیر حاصل بحث ہوتی اور وہ اپنے تجربے سے رہنمائی کرتے۔ پھر ملک میں نیوز چینل آئے میں جیو نیوز کے ہراول دستے میں تھا۔ پھر آج ٹی وی شروع ہوا تو اس کا پنجاب کا بیوروچیف مقرر ہوا۔ آج ٹی وی کے شروع کے دنوں میں ہم نے صحافت کے جید ناموں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا میں ضیا ء صاحب کے پاس حاضر ہوا تو پہلے اپنے بیٹوں عدنان شاہد اور امتنان شاہد کے پاس لے گئے۔ پھر ضیاء صاحب سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے پاکستان میں میڈیا کی تاریخ پر بات کی۔ کہنے لگے کہ ہم بھی چینل شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں میری خواہش ہے کہ تم اس کو ہیڈ کرو۔ 

پھر وقت گزرتا گیا عدنان شاہد کی موت پر بہت رنجیدہ تھے لیکن خدا نے انہیں حوصلہ دیا اور وہ ایک بار پھر نئے عزم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ وقت کاپہیہ چلتا رہا اور پھر میں نے ان کے ٹی وی پروگرام ’’کالم نگار‘‘ میں بطور تجزیہ نگار آنا شروع کر دیا۔ امتنان شاہد صاحب نے پھر خبریں میں کالم لکھنے کو کہا اور یہ سلسلہ ایک بار پھر چل نکلا۔ پھر ضیاء صاحب کے حالات حاضرہ کے پروگرام ’’ضیا ء شاہد‘‘ کے ساتھ میں ان کے ساتھ کام کا موقع ملا یہاں بھی انہیں یکتا پایا۔ انہیں حالات حاضرہ پر کمال عبور حاصل تھا۔ پھر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو نشر کرنے پر چینل بند بھی کر دیا گیا۔ اس پر بھی انہوں نے رہنمائی کی۔

ان کی یادیں تو اتنی ہیں کہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ 

یہ دنیا فانی ہے ایک دن سب کوجانا ہے اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔ آمین 

ضیاء صاحب کی طرح آئی اے رحمان بھی مرے اساتذہ میں شامل تھے۔ انگریزی صحافت میں ViewPoint میں صحافت کے جید اساتذہ کے زیر سایہ کام کا موقع ملا۔ ان میں استاد محترم حسین نقی صاحب، آئی اے رحمان صاحب، نوابزادہ مظہر علی خان صاحب، ظفر یاب صاحب، ظفر مرزاصاحب ، زم صاحب، شفقت تنویر مرزا صاحب، عزیز صدیقی صاحب اور دیگر شامل تھے۔ ان اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت تھی کہ ViewPoint سے شروع ہونے والا سفر آج تک جاری ہے۔

آئی اے رحمان صاحب سے اکثر نشست رہتی اور وہ انگریزی جرنلزم کی باریک بینی سکھاتے۔ ان کا ایک درس تھا رپورٹنگ میں سنسنی کی بجائے سچ پر توجہ دو۔ اس کے بعد ہم سب نقی صاحب کے ساتھ پہلے پنجابی روزنامے سجن سے وابستہ ہو گئے اور رحمان صاحب سے ملاقاتیں کم ہوتی گئیں۔ لیکن جب بھی موقع ملتا ان سے سیکھنے کو ملتا۔ پھر وہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ اللہ پاک غریق رحمت کرے۔ آمین۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر