مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی بات مان لی
18 اپریل 2020 (23:51) 2020-04-18

ڈیرہ اسماعیل خان :جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کورونا وائرس کے باعث رمضان المبارک میں نماز اور تراویح گھر میں ہی ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہفتہ کو اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس مسئلے پر اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو اس کا احترام کرنا چاہیے، اتفاق رائے کے بعد میری ذاتی رائے بس ذاتی رائے رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں تمام مسالک کے علما کا اجلاس ہوا جس میں اپنی کچھ تجاویز دی تھیں، ابتدا میں ہماری اور ان کی تجاویزمشترکہ تھیں جبکہ بھارت کے علما کی مساجد کے حوالے سے جو تجاویز آئیں وہ بھی تقریبا اس کے برابر تھیں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں حدود و قیود کا خیال رکھنا چاہیے، رمضان المبارک میں گھر پر نماز پڑھوں گا اور گھر میں بھائی، بیٹوں اور بھتیجوں کے ساتھ تروایح ادا کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کوشش کروں گاکہ رمضان میں مسجد میں جاکر وہاں کسی اجتماع کا سبب نہ بنوں۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلا روکنے کیلئے لاک ڈائون جاری ہے جبکہ مساجد میں بھی 4 سے زیادہ افراد کی جماعت پر پابندی عائد ہے۔ تاہم اس پر عمل نہیں کیا جارہا۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور علمائے کرام کے اجلاس میں مساجد کے احاطے میں نماز تراویح کی ادائیگی پر اتفاق ہوا ہے۔

حکومت اور علمائے کرام کے درمیان 20 نکات پر اتفاق ہوا ہے جس کے مطابق مساجد اور امام بارگاہوں میں دریاں یا قالین نہیں بچھائے جائیں گے، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی، مسجد کے فرش کو صاف کرنے کے لیے کلورین کا استعمال ہو گا اور نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔


ای پیپر