کرونا سے پاکستان میں کب صورتحال بگڑ سکتی ہے ،وزیر اعظم نے آگاہ کر دیا
18 اپریل 2020 (17:26) 2020-04-18

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی صورتحال بہتر ہے، 15 سے 20 مئی تک مشکل ہوگی، ہسپتالوں پر پریشر بڑھے گا، آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا، ذخیرہ اندوزوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، اپنی بساط کے مطابق معاشی ریلیف پیکیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوروناوائرس کے باعث پیداصورتحال کی مثال پہلے نہیں ملتی، نیشنل کمانڈاینڈا ٓپریشن سینٹر میں تمام ٹاپ ادارے شامل ہیں اور یہ اداریہ رروزبیٹھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ماہرین روزانہ مریضوں اور کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، ادارے تمام رابطوں کے بعد ایک ڈیٹا مرتب کرتے ہیں اور ہر روز صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہوتا ہے۔ کورونا کیسز کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پہلے 25اپریل تک 50ہزار کیسز متوقع تھے، اب یہ اندازہ 12سے 15ہزار کیسزتک کا ہے، تاہم متوقع مریضوں کی تعداد کم ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں ، دنیا اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھی، دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، بڑھتے کیسز کے پیش نظر پوری تیاری کررہے ہیں، 15 سے 20مئی تک کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی نگہداشت کے لئے وسائل درکار ہیں، بروقت اقدامات کے باعث ایک بھی کیس چین سے پاکستان نہیں ا ٓیا، آہستہ آہستہ فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن میں کمی کریں، یورپ اور امریکا کے حالات دیکھیں تو ہمارے حالات ان سے مختلف ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کچی ا ٓبادیوں میں لوگ جڑ کر رہتے ہیں،صاف پانی تک نہیں ملتا، مئی کے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کے لئے مزید تیاری کرلیں گے۔تعمیراتی شعبے سے متعلق انھوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبے کھولنے جارہے ہیں، غریب کیلئے سرکاری اورامیروں کیلئے پرائیویٹ اسپتال ہیں، پاکستان میں طبقاتی نظام بناہوا ہے، پہلے دن سیکہہ رہا ہوں جوفیصلے کررہیہیں کیا غریبوں کا سوچ رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سیغریب طبقے کے کیاحالات ہوں گے،غریب طبقے کے حالات سے متعلق مجھے بہت خطرہ ہے، ماضی میں پاکستان میں طبقاتی نظام پروان چڑھا، تعمیراتی شعبے کو کھولنے کا فیصلہ مزدورطبقے کے مسائل دیکھتے ہوئے کیا۔

عمران خان نے کہا کہ جورجسٹرڈ نہیں ان مزدوروں تک نہیں پہنچ سکتے، ایک کروڑ20لاکھ خاندانوں میں امدادی رقم پہنچا رہے ہیں، اگر لوگ بھوک سے لوگ سڑکوں پرا?جائیں گیتو لاک ڈاؤن کا مقصد ختم ہوجائے گا، لوگ باہر آگئے تو سماجی فاصلے بھی ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات ہیں، امریکا سمیت دیگر ممالک میں مزدور رجسٹرڈ ہیں، کنسٹرکشن شعبے میں صنعت کاروں کو شرکت کا کہا تاکہ لوگ بھوک سے بچیں۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن ڈنڈے سے مینٹین نہیں ہوگا، شہری خود سمجھیں، جب کورونا پھیلتا ہے تو ان کی بیماری، لاک ڈاؤن سے قوم متاثر ہوتے ہیں، اینکرز،علما و دیگر عوام کو بتائیں کہ لاک ڈاؤن سب کی بھلائی کیلئے ہے، جتنا جلد لاک ڈاؤن کامیاب ہوگا اتنا ہی بہتر ہے۔

رمضان پالیسی سے متعلق عمران خان نے کہا کہ رمضان المبارک میں سب مساجد میں جاناچاہتے ہیں، صدرعارف علوی نے علما کے ساتھ میٹنگ کی، اپیل ہے امام مسجد طے شدہ چیزوں اور نمازیوں سے مساجدمیں پابندی پرعملدرآمد کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی بساط کے مطابق معاشی ریلیف پیکج دیا ہے،کوروناپھیلا توفیکٹری یاکنسٹرکشن سائٹس بھی بند ہوجائیں گی۔وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے خطرہ ہے لوگوں نے پیسہ بنانیکیلئیذخیرہ اندوزی کرنی ہے، ذخیرہ اندوزی پرا?رڈیننس بن گیا ہے اب بہت سختی ہوگی ، جوناجائزپیسہ بنانیکی کوشش کریں ان کوپکڑاجائے گا، ایسانہیں ہوگا کہ چھوٹوں کوپکڑاجائے گا ، بڑوں پربھی ہاتھ ڈالیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ سیمتعلق بھی ا?رڈیننس ا?نیوالا ہے، ذخیرہ اندوزی،اسمگلرزکوبتادوں 2آرڈیننس بن گئے بہت سختی ہوگی۔


ای پیپر