مجبوریاں اور نامناسب طرزِ عمل
18 اپریل 2020 (13:30) 2020-04-18

لاک ڈائون کے نقصانات اپنی جگہ مگر فوائد سے انکاربھی ممکن نہیں کیونکہ کرونا سے متاثرہ مریضوں کا جب تک ٹیسٹ نہ ہوبظاہر پتہ چلنا ناممکن ہے اُن کی نقل وحرکت روکنے کا واحد حل لاک ڈائون ہی ہے وگرنہ سب کو گھومنے پھرنے کی آزادی دینے سے صحت مند لوگوں میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہے اور پھر میل ملاقات سے صحت مند افراد کسی بیمارسے مل کر وائرس اپنے خاندان اور محلے تک لانے کا زریعہ بن سکتے ہیں اِس لاعلاج مرض کا حل میل ملاقات محدود کرنے اور سماجی دوری اختیار کرنا ہے اللہ کے رسولؐ نے فرمایا جس وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے مت نکلو نہ ہی وبا والی جگہ پر جائو۔ چین سے لیکر یورپ تک اسی نسخے پر عمل کیا جارہا ہے ایک طرف کرونا وائرس دنیا میں محدود ہورہا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں مسلسل فروغ پا رہا ہے پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ یورپ اور ایران سے آنے والے زائرین اِس وائرس کا شکار ہیں مگر گزشتہ ہفتے سے جو مریض سامنے آرہے ہیں اُن کی بڑی تعدادمقامی طور پر وائرس کا شکار ہوئی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ابھی بھی جانچ پڑتال کے مواقع نہیں بلکہ صحت مند اور بیمارکا الگ تعین کرنے کی رفتاربہت سُست ہے باربار طبی سامان درآمد کرنے کے باوجود پورے ملک میں روزانہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کوچیک اپَ کرنا ممکن ہوا ہے یہ بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں چیک اپَ کی پست ترین شرح ہے مگر اِ س حوالے سے حکمرانوں کو کوسنا یا موردِ الزام ٹھہرانا بھی درست نہیں محدود وسائل کے باوجود حکومت نے خطرے کا بروقت ادراک کرتے ہوئے بساط کے سے بڑھ کر سدِ باب کے لیے کوشاں ہے لاک ڈائون کی ہونے والی خلاف ورزیوں کا دنیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں لاک ڈائون کی پاسداری کی صورتحال تسلی بخش نظر نہیں آئی یہ ٹھیک ہے کہ فوج ،پولیس اور دیگر اِداروں کے زریعے لاک ڈائون پر عملدرآمدکرانے کی ہرممکن کوشش کی گئی لیکن دنیا کے دیگر مہذب ممالک کی طرح حالات نہیں بنے مگر یہ بھی غنیمت ہے کہ لوگوں کی قلیل تعدادہی سہی آگاہی کی وجہ سے نقل و حرکت کم کرنے پر کچھ قائل ہوگئی لیکن ہمیں یہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اب بھی ہمارے ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے اِس کے باجود حکومت کا لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ رحمدلی کا مظہر ہے۔

پاکستان بطور ملک بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور عوام کی اکثریت بھی غربت کا شکار ہے یہاں صاحبِ حیثیت افراد کی بھی کمی نہیں لیکن امیراور غریب

میں واضح تفاوت ہے جہاں ایک طرف بڑی بڑی گاڑیاں ،بنگلے اور عمارتیں ہیں وہیں جھونپڑیوں اور نہ پختہ مکانوں میںکی بھی بھرمار ہے چھوٹی چھوٹی رہائشی عمارتوں میں بڑے بڑے کنبے رہائش پذیر ہیں جنھیں صحت وتعلیم کی سہولتوں سے بہت ہی کم حصہ ملتا ہے دنیا اکیسویں صدی میں جدید سہولتوں سے فائدہ اُٹھا رہی ہے ہمارے ملک میں آج بھی ایسے بچوں کی تعداد کروڑ سے زائد ہے جو یا تو سکول جاکر پڑھنے کی سکت نہیں رکھتے یا گھریلو حالات کی وجہ سے ابتدائی جماعتوں کے دوران ہی تعلیمی سلسلہ ختم کرنے اور چائلڈ لیبر کا حصہ بننے پر مجبورکردیے جاتے ہیں ہمارے ملک میں سماجی تحفظ پربھی کم توجہ دی جاتی ہے ای او بی آئی سے آج بھی پینشنرز کو ماہانہ تین ہزارسے زائد نہیں دیے جاتے صوبوں مین بھی کم وبیش ایسی صورتحال ہے اِس لیے عوام زیادہ دیر لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ افزائش زیادہ اور کمانے والے کم ہیں جس کی وجہ سے غربت میں کمی نہیں ہو رہی ایک مزدورکی روزانہ اُجرت پر گزربسر کرنے والے خاندان کی لاک ڈائون سے مشکلات ڈھکی چھپی نہیں یہ مزدور نہ تو تعلیمافتہ ہیں نہ ہی کوئی معقول ہنررکھتے ہیں اِس لیے جدید دنیا کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہیں جنھیں طویل لاک ڈائون جیتے جی مارنے کا باعث بن سکتا ہے ویسے تو ہمارے حکمرانوں کی اکثر پالیسیاں سطحی ہوتی ہیں اور اُن سے بھی زیادہ تر حکومتی جماعت کے کارکنان یا منظورِ نظرافراد ہی زیادہ تر فائدہ اُٹھاتے ہیں مستحق اور غریب کسی بااختیار سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مالی مدد سے محروم رہتے ہیںمگر احساس پروگرام سے عین ممکن ہے خرابیوں پر قابو پایا جاسکے کیونکہ حقدار اپنی رقم خود وصول کرتا ہے اِس لیے بدعنوانی کے مواقع ختم نہیںتوکم کیے جا سکتے ہیں ۔

لاک ڈائون میں نرمی کے ذریعے حکومت نے غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی مشکلات کم کرنے کی رحمدلانہ کوشش کی ہے لوگ حکومت کی مجبوریاں سمجھتے ہیں اسی لیے موجودہ نرمی پر بھی سُکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ مزدور اور ایسے غریب جن کی گزر بسر کا انحصار روزانہ کی آمدن پر ہے وہ مخصوص اوقات میں کام کاج سے آمدنی کامنقطع سلسلہ بحال کر سکتے ہیں لاک ڈائون میں نرمی جزوی ہی سہی لیکن عام لوگوں کی مشکلات میں کمی کا باعث بنے گی حکومت کے اِس فیصلے کو تقریباََ ہر مکتبہ فکر نے سراہا ہے سندھ میں ابھی سختی ہے لیکن کامل یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ جلد بدیر پی پی کو بھی صوبے میں بڑھتی غربت کا احساس کرنا پڑے گا اگر نہ کیا توعوام میں بے چینی جنم لے سکتی ہے جس سے امن وامان درہم برہم ہوسکتا ہے اِس لیے عوامی مشکلات سے چشم پوشی کی تائید نہیں کی جا سکتی۔

عام طورپر ہمارے ملک میں حکمران غریب لوگوں کو ووٹر کے علاوہ کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگروزیرِ اعظم عمران خان نے وسائل سے غریب طبقے کے لیے پہلی بار حصہ بڑھایا ہے جسے سراہے بنا نہیں رہا جا سکتا مگر کچھ فیصلوں سے بے حکمتی عیاں ہے مثلاََ سکول و کالج بند ہیں لیکن کتابوں کی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی درزی بھی کام کرسکتے ہیں مگر کپڑے کی دکانوں پربددستور بندش ہے کپڑے کے بغیر درزی کیسے کام کریں گے؟ٹرانسپورٹ بند ہے لیکن ورکشاپس کو کھولنے کا پروانہ جاری کر دیا گیا ہے ایسے کاروبار ی سرگرمیاں کیسے بحال ہوں گی؟ ممکن ہے اِس سوال کا جواب حکمرانوں کے پاس ہو بظاہر کچھ سمجھ نہیں آتی شاید فیصلوں کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار پر فائز شخصیات کو عام آدمی کی مشکلات کا درست اندازہ نہیں اسی بنا پر فیصلے کر تے ہوئے الجھن کا شکار رہتے ہیں اِس نامناسب طرزِ عمل کا درست جواب تو حکمران ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں مناسب ہوتا کہ ہنرمندوںکو کاروبار کھولنے کی اجازت کے ساتھ اگر مال کی سپلائی پر عائد قدغن ہٹا دی جاتی تو حکومتی رحمدلی سے زیادہ لوگ فائدہ اُٹھانے کے قابل ہوتے ۔


ای پیپر