لاک ڈائون میں اللہ کا زیادہ شکر ادا کریں!
18 اپریل 2020 (13:29) 2020-04-18

کرونا وائرس اس صدی کا سب سے بڑا المیہ بن کر سامنے آیا ہے جس کے آگے بڑی بڑی طاقتوں نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ وطن عزیز میں بھی صورت حال پریشان کن ہے کیونکہ کرونا وائرس کی آفت اپنی جگہ، لوگوں کو بے روزگاری کے باعث جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ بہت سے لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کرونا سے پہلے ہی لوگوں کے لیے مہنگائی کے باعث دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو رہا تھا جبکہ تقریباً اک ماہ سے لگے اس لاک ڈائون کے باعث نوبت فاقوں تک آگئی ہے۔ ایسے میں ملنے والی حکومتی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے جس کی رسائی بمشکل پندرہ سے بیس فیصد ضرورت مندوں تک ہوسکی ہے جبکہ دی جانے والی رقم سے گھر کا خرچ چلانا تو دور کی بات ایک ہفتہ بھی نکال لینا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

مشکل کے اس وقت میں سب سے روشن پہلویہ ہے کہ اسلامی اور فلاحی تنظیمیوں نے اور صاحبِ ثروت لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بار پھرمثالی کردار ادا کیا ہے۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی پاکستان کی ذیلی تنظیم الخدمت نے ہمیشہ کی طرح جان و مال کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف بلوچستان، سندھ،خیبر پختونخواہ اورپنجاب کیطبی عملے کو ٹرک کے ٹرک بھر کے حفاظتی کٹس فراہم کی ہیں بلکہ غریبوں کوبھی فیس ماسک،ہینڈ سوپ اور سینی ٹائزر فراہم کیے ہیں۔

دیکھا جائے تو اس وقت عملاً ہر جگہ جماعت اسلامی ہی نظر آرہی ہے کیونکہ ہرشہر، قصبے،میدانی سے برفیلی علاقوں تک تنظیمی ڈھانچہ ہونے کے سبب جماعت اسلامی ملک کے چپے چپے تک رسائی رکھتی ہے۔ اس موقع ہر اگر حکومت تعصب سے بالاتر ہوکر جماعت اسلامی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک حکمت عملی بنا لیتی تو ایک نئی ٹائیگر فورس کی قیام کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ کسی بھی آفت کے موقع پر ملکی مفاد پیش نظر ہونا چاہیے نہ کہ ذاتی پسند نہ پسند کو فوقیت دی جانی چاہیے۔ اپنے اپنے علاقوں میں الخدمت کے ارکان دن رات جان ومال کی پرواہ کیے بغیر مسلسل ایک ماہ سے لگاتار تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں یہ دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں تک دو وقت کا کھانا پہنچارہے ہوتے ہیں تو کہیں یہ آٹا، چینی چاول،گوشت، دودھ اور سبزی سمیت سب مصالحہ جات بانٹتے نظر آتے ہیں۔ کہیں یہ مندروں، گرجا گھروں اورمسجدوں میں سپرے کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں خواجہ سرائوں کو راشن دیتے نظر آتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے انسان تو انسان جانوروں کے لیے بھی خوراک کا انتظام کیا۔ الخدمت کا سب سے روشن پہلویہ کہ بغیر کسی تشہیر اور میڈیا کوریج کی لالچ کے بغیر کرونا کے پھیلائو کے پیش نظر مستحقین کو ان کے گھروں تک کھانا اور راشن پہینچایا گیا اور جو لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا چاہتے تھے ان کے

گھروں میں رات کے اندھیرے میں خاموشی سے سامان پہنچایا گیا، بلاشبہ یہ ایک عظیم خدمت ہے جس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔

لاک ڈائون میں مخصوص امیروں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ انہوں نے اس کو بھی تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے کئی کئی ماہ کا راشن سٹور کرنے کے بعد قرنطینہ ڈشوں کی ریسیپیز یا پھر نت نئے ورک آئوٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہوتی ہیں۔ یا پھر ان کی نسل روز بوریت کو ختم کرنے کی ٹپس بتا رہی ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے عذاب کو بھی مذاق بنا لیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک غیر ملکی جریدے میں تو باقاعدہ رپورٹ شائع ہوئی کہ اس کرونا وائرس کے دوران آن لائن ڈیٹنگ کی شرح میں تیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ ہمارے یہاں کے غریبوں کا بھی ویسے کوئی حال نہیں، ایک طرف تو وہ جو خدمت میں ہلکان ہورہے ہیں دوسری طرف یہ پروفیشنل بھکاری یا پھر نشے کے عادی افراد مختلف جگہ اپنی فنکاری سے راشن وصول کرکے دکانوں پر بیچ دیتے ہیں ۔کئی ایسے پیشہ ور گداگر ہیں جو بار بار راشن وصول کر کے دوسروں کا حق مار رہے ہیں۔

اسی دوران چھینا جھپٹی اورچوری کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے رات کو گھر سے نکلنا کسی خطرے سے کم نہیں کئی جگہوں پر کچھ لوگ گروہوں کی شکل میں اچانک نمودار ہوتے ہیں اور سامنے آنے والی کار پر حملہ کردیتے ہیں۔ اور تو اوراس عذاب کے دور میں بھی کئی لوگوں کے حسد، کینہ پروری اور رقابت کے جذبات مدھم نہیں ہورہے۔

سرگودھا میں کوٹ مومن کے علاقہ ''مڈھ رانجھا'' میں بہو اور ساس کی انوکھی لڑائی ہوئی۔ بہو نے بدلہ لینے کیلیے ہیلپ لائن پر کال کر دی کہ میری ساس کو کرونا وائرس ہے اس کو لے جائیں۔ پولیس نے بہو سمیت سب گھر والوں کو قرنطینہ بھیج دیا۔ اس صورتحال میں ایک اور کلاس بھی ہے جو شائد سب کی نظرسے پوشیدہ ہے وہ ہے تنخواہ دار، پرائیویٹ یا سرکاری ملازم جو اپنے گھر کا خرچ تو بہرطور چلا رہے ہو تے ہیں۔ اس کرونا کی آفت میں ان کے لیے کوئی بھی سوچ بچار نہیں کی گئی، کیونکہ ان کو اپنے گھروں کا کرایہ بھی دینا تھا، بجلی پانی گیس کے بلوں میں کوئی رعایت نہیں دی گئی، انہوں نے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے ایک ماہ کا راشن اور ضروری ادویات بھی لینی تھیں، اس میں بھی کوئی کمی یا رعایت نہیں ملی۔

سکول جہاں ان کے بچے جاتے ہیں وہاں بھی فیسیں ادا کیں، اگر خود کوئی ملازم رکھا تو اس کو بھی تنخواہ ادا کی الغرض اس مڈل کلاس کو پوری طرح سے اس کرائسز میں نظر انداز کیا گیا گویا وہ اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں۔ جبکہ اس سب کے باوجود ڈیم فنڈ کی طرح اس بار بھی ان کی تنخواہوں میں سے کرونا کے لیے کٹوتی کی گئی۔ لیکن یہ کلاس اتنی صابر ہے کہ اس نے اس کے باوجود اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اپنے ارد گرد لوگوں پر بھی نظر رکھی اور فلاحی کاموں میں بھی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔ یاد رکھیں کہ اگر اس لاک ڈائون میں آپ اپنے گھر میں صحتمند ہیں، اپنی فیملی کے ساتھ ہیں، آپ کے پاس ایک ماہ کا راشن موجود ہے، اپنی ذاتی سواری ہے، آپ اپنی ضرورت کی دوائی خرید سکتے ہیں۔ اپنے پیاروں سے رابطہ میں ہیں تو یقین مانیں آپ دنیا کے 10 فیصد خوش قسمت انسانوں میں سے ہیں۔ اللہ کا شکر اداکریں اور اس کا فضل طلب کریں۔ جو پیدا ہونے سے مرنے تک رزق دیتا ہے مگر جتاتا نہیں آج لوگ دو پیکٹ دے کر پوری دنیا میں تشہیر کرتے ہیں مگرپھر بھی ہم سے اس رب کا شکر ادا نہیں ہوتا۔ انسان بھی کتنا بدنصیب ہے جوساری زندگی مفت سانس لیتا ہے مگر شکر ادا نہیں کرتا لیکن جب سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر کی نوبت آئے تو لاکھوں دے کر بھی سکون نہیں ملتا۔

تو پھر آئیں اس لاک ڈائون میں اپنے رب کریم کا دل وجان سے شکر ادا کریں کہ وہ اپنا فضل ہم پر قائم رکھے اوراس موقع پر وہ دعا پڑھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر پڑھتے تھے۔

اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَائَۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیعِ سَخَطِکَ

یعنی، یا اللہ میں پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت دی ہوئی پلٹ جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور سب تیرے غضب والے کاموں سے۔


ای پیپر