لاک ڈائون میں اپنے آپ کو ان لاک کیجئے؟
18 اپریل 2020 (13:28) 2020-04-18

دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی جانی و مالی نقصانات کا اندازہ لگانا اس وقت مشکل ہے لیکن موجودہ حالات سے ان نقصانات کی شدت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ اب تک پوری دنیا میںمرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ابھی تک اس جان لیوا وئرس کے وار بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے بھی اس نظر نہ آنے والے چھوٹے سے جرثومے کے خلاف گھٹنے ٹھیک دئے ہیں اور اپنی بے بسی کا اظہار کررہے ہیں۔ پوری دنیا میں ہوکاعالم ہے۔ آفت کی اس گھڑی میں کسی امیر کی دولت اس کے کچھ کام نہیں آرہی ، ستم بالائے ستم یہ کہ انکو اپنے ہی دولت سے ڈر لگنے لگا ہے۔وہی دولت مند اپنے بڑے بڑے محلات کو چھوڑکر گھر کے کسی چھوٹے سے کونے میںاپنے ہی اہل وعیال سے بیگانہ، خلوت پر مجبور ہے۔وہ بیگمات جو اپنے لئے کبھی چائے بنانے کو اپنا توہین سمجھتی تھیں، آج وہ اپنے سارے ملازمین کو رخصت پر بھیج کر اپنے بچوں کیلئے کھانا بنانے اور اپنے گھر کے برتن مانجھنے پر مامور ہیں۔ایسے میں اس وبائی مرض کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش وامتحان کی گھڑی سمجھیں یا عبرت کا تازیانہ ، یہ سوال اپنی جگہ کیونکہ آج یہ سوال موضوع بحث نہیں ہے۔یہاں پر اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں مشکل کی اس گھڑی میں کرنا کیا چاہیے؟۔ قوموں کی زندگیوں میں اس قسم کے واقعات وقتا فوقتا رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن اسیے حالا ت میں گھبرانے کی بجائے ایک سلیم العقل انسان سوچتا ہے کہ وہ ان درپیش چیلنجز کوحکمت بالغہ کے ساتھ کیسے اپنے حق میں بہترین متاع زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے؟کارخانہ قدرت میں کوئی کام بے مقصد نہیں ہوتا ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ لاک ڈائون کے دوران گھر میں فارغ بیٹھ کر اس وبائی مرض کے منفی پہلوں پر سوچ وبچار کرکرکے اپنے آپ کو نفسیاتی مریض بنانے کی بجائے ہمارے پاس دستیاب وقت کا بہترین مصرف کیا ہے؟ لاک ڈائون میں سب کچھ لاک ڈائون نہیں ہے۔ ہماری سوچ لاک ڈائون نہیں ہے۔ اپنی فکراور سوچ کے دریچوں کو کھولیے اور زرا سوچیے کہ آفت کی اس گھڑی میں ہم اپنے ہموطنوں کے لئے اور اپنے ملک کیلئے اپنی بساط کے مطابق کیا کچھ کرسکتے ہیں تاکہ اس مٹی سے محبت کاکوئی ثبوت تو دے سکیںکیونکہ وطن اور ہموطنوں سے محبت اور اسکے اظہار پرکوئی پابندی نہیں ہے۔اپنی ذہن کو تھوڑی دیر کیلئے ان لاک کرکے سوچیے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان غریب مزدوروںکا کیا حال ہوگا جن کے گھر کے چولہے نہیں جل رہے۔ ہمارے ملک کا ایک طبقہ ہمیشہ اپنے ملک سے یہی گلہ کرتا نظرآتا ہے کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا ؟یہ وقت ہے اس بات پر سوچنے کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا۔اس ملک کی کھلی فضاوں میں سانس لینے کا صلہ

ہم نے کیا دیا،اس ملک کی خاک میںپھلنے پھولنے کی قیمت ہم نے کیا ادا کی ؟ اس ملک کا سورج کل بھی طلوع ہوگا اور ہمیں ایک نئی زندگی کی امید دے گا۔کیونکہ سورج لاک ڈائون نہیں ہے۔ چاند، تارے لاک ڈائون نہیں ہے۔ ہوائیں لاک ڈائون نہیں ہیں، کائنات کے حسن اور رب کائنات کی کاریگری پر سوچئے کیونکہ سوچ لاک ڈائون نہیں ہے اور پھر اس رب

کائنات کا شکر ادا کیجئے جس نے یہ ساری کائنات اس بنی آدم کیلئے مسخر کیا ہے کیونکہ شکر ادا کرنے پر پابندی نہیں ہے۔۔انسانیت سے محبت کرنے پر پابندی نہیں ہے، انسانوں کے علاوہ جانوروں سے محبت اور مہربانی کرنے پر پابندی نہیں ہے۔گھرکے اندر رہ کراپنے بچوں کو وقت دیں کیونکہ آجکل کے مشینی دور میں بچوں کے ساتھ ہمیں کم ہی وقت ملتا ہے۔دستیاب وقت میں ہم اچھی اچھی کتابوں کا مطالہ کرسکتے ہیں۔کیونکہ پڑھنے اور سیکھنے پر پابندی نہیں ہے۔ اپنے پیاروں سے گھر بیٹھ کر فون پہ بات کرنے سے محبتیں بڑھتی ہیں۔ جن دوستوں اور احباب سے سالوں میں ہماری بات نہیں ہوتی ، ملاقات نہیں ہوتی ان سے تجدید تعلقات کرائے ۔ کیونکہ بات کرنے پر پابندی نہیں ہے۔اپنی تخلیقی ذوق کو پروان چڑھائیے اور سوچئے کہ ہماری زندگی کے وہ کونسے چھپے گوشے ہیں جن کو آج تک ہم نے دریافت نہیں کیا ہے، اپنے اس چھپے گوہر کو نکھرنے کا موقع دیجئے کیونکہ تصورات ، تخلیقی زوق اور صلاحیتوں کے اظہار پر پابندی نہیں ہے۔عبادات پر پابندی نہیں ہے۔ یہ بہترین وقت ہے اپنے رب کے سامنے سربسجود ہوکر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور رب کائنات سے اپنے تعلق کو جوڑنے کا کیونکہ امید پر پابندی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک مشکل وقت ہے لیکن اس غفور ورحیم ذات سے ہمیں قوی امید ہے کہ اس وبا کا نجام ہمارے اور ہماری ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہو گاور اسکے نتائج اس کرہ ارض کے لئے امن، محبت اور انسان دوستی کی نئی نوید لے کر آئیگا۔


ای پیپر