آئیں ندامت کے چندآنسو بہالیں
18 اپریل 2020 (13:28) 2020-04-18

کہتے ہیں کروناسے ڈرنانہیں لڑناہے۔قدرتی آفات،بلیات،آزمائش اورامتحانوں سے توڈراجاتاہے لڑانہیں مگر نہ جانے ہم کس قسم کے ڈھیٹ ،ظالم ،جاہل اورسرکش لوگ ہیں کہ جوباربارکی تنبیہ اوروارننگ کے باوجودبھی اپنی ان گھٹیا حرکات، سکنات اورسرکشیوں سے باز نہیں آ رہے۔ اس ذات سے لڑناتودوراس خدائے عزوجل کی ایک چھوٹی سی قدرت کامقابلہ بھی انسان کیا۔۔؟پوری دنیاکے بس کی بات نہیں۔مغرب سے مشرق اورشمال سے جنوب تک ڈونلڈٹرمپ،نیتن یاہو،پوٹن اورمودی جیسے فرعون بھی نعوذبااللہ اس زمین پر خودکوخداسمجھ کرپروردگارعالم سے ڈرنے کی بجائے لڑنے کی بڑھکیں ماراکرتے تھے لیکن ایک کروناکی وجہ سے آج نہ صرف ان سب کی بولتی تک بندہوگئی ہے بلکہ کروناکے خوف سے اب ہرایک اپنی جگہ سرسے پائوں تک تھرتھرکانپ رہاہے۔ جوکل تک خداکوبھی نہیں مان رہے تھے ۔کروناکی صورت میںروئے زمین پراللہ کی بے آوازلاٹھی پڑنے پر آج وہ بھی نہ صرف خداکومان رہے ہیں بلکہ اب تووہ بھی ہر وقت ندامت کے آنسو بہا بہاکر خدا کو پکار رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم مسلمان جوپہلے سے نہ صرف خدا کو اپنا خدا، مالک،رازق اورخالق مان رہے ہیں بلکہ اللہ کی قدرت اوروحدانیت پربھی سچے دل سے ایمان ویقین رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجودکروناجیسی آفات،بلیات اورآزمائشوں کے موقع پرہم اپنے اس خداسے رجوع کرنے اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائشوں، آفات اوربلیات سے ڈرنے ،کانپنے اورلرزنے کی بجائے،، لڑنے اورمقابلہ کرنے، جیسے کفریہ کلمات کا ورد شروع کرکے سرکشی میں مزیدمست ہوجاتے ہیں جوہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔یہ تودنیاکابھی دستور،رواج اورمزاج ہے کہ اپنے مالک اورخالق سے کوئی لڑتانہیں بلکہ ہرشخص وانسان یہ کوشش کرتاہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے وہ اپنے مالک کے غیظ وغضب سے بچے۔انسان کیا۔۔؟جنگلوں میں چرنے والے وہ وحشی جانوراوردرندے بھی کبھی اپنے مالک سے لڑنے کی بڑھکیں نہیں ماراکرتے۔پھرہم انسان ہیں کہ یاکوئی بت۔۔؟جوعقل،فہم اورشعورکے باوجودنہ صرف اس طرح کے کفریہ کلمات اداکرتے ہیں بلکہ یہ سوچ بھی رکھتے ہیں کہ ہم قدرتی آفات وبلیات کوکہیں شکست دے دیں گے۔یادرکھیئے۔اللہ کی کبریائی اوربڑائی کی طرف اٹھنے والے ہاتھ اورپیرپھرکبھی سالم واپس نہیں آتے۔یقین نہ آئے توقرآن مجیدفرقان حمیداٹھاکرپڑھ لیجیئے۔ احادیث مبارکہ کامطالعہ کیجیئے۔ فرعون، نمرود، قارون اور ابرہہ کے انجام کودیکھ لیجیئے۔ ابرہہ بھی حضرت عبدالمطلب اوران کے قوم کے ضبط کیئے گئے اونٹ واپس کرکے اللہ سے لڑنے اورمقابلہ کرنے کے لئے چل پڑے تھے ۔آپ کویادہے پھران کے ساتھ کیاہواتھا۔اللہ سے لڑنے کے لئے ابرہہ نے جب اپنی فوج کے ساتھ مکے پرحملہ کیاتوخدانے مکے والوں کی مددکے لئے ابابیلیں بھجیں جن کے پنجوں میں کنکریاں تھیں۔یہ کنکری جس شخص کولگ جاتی۔اس کابدن پھٹ جاتااوروہ تڑپ تڑپ کرمرجاتا۔وہ خداتوجب کسی کو بچانے پرآتاہے تواسے پھرموت کے منہ سے بھی بچا لیتاہے لیکن جب وہ کسی کومارنے پرآئے توپھراسے چھوٹی چھوٹی کنکریوں ،ڈینگی اورکروناجیسے نہ نظرآنے والے وائرس سے بھی ماردیتاہے۔ اس لئے اس اللہ سے ڈراجاتاہے لڑا نہیں۔ ہمیں بھی اپنے عادات واطوار، طورطریقے اوراپنی سمت ٹھیک کرکے اپنے اس خالق اورحقیقی مالک سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے آنے والے قیامت خیززلزلوں،سیلاب ،آندھی اور طوفانوں سے ہمیں کس نے بچایا۔۔؟ایک ہی اللہ توہے جو باربارہمیں آفات اوربلیات سے بچارہے ہیں۔اس رب کی مرضی اورمنشاء کے بغیرہم ایک سانس بھی نہیں لے سکتے۔اس رب کاحکم نہ ہواتودنیاکی پوری طاقت اورمشینری مل کربھی ہمیں کرونا جیسے چھوٹے سے وائرس سے بھی نہیں بچا سکتی۔ دنیاکایہ نظام توقائم ہی اس رب کی قدرت سے ہے۔ اس رب کی قدرت کامقابلہ بھلاکون کرسکتاہے۔۔؟وہی خدا تو ہے جو جبار بھی ہے۔۔ قہار بھی ہے۔۔قادربھی ہے۔۔خالق بھی ہے۔۔رازق بھی ہے ۔۔احدبھی ہے۔۔صمدبھی ہے۔۔کرونا،ڈینگی اورابابیل یہ تواس خداکی قدرت کی ہلکی سی جھلک اورچھوٹی چھوٹی نشانیوں میں سے ہیں۔اس زمین پرکل تک جواپنے آپ کوخداسمجھ رہے تھے۔ کروناکانام سن کرآج ان کے بھی پیر پھولنا شروع ہوجاتے ہیں۔جوڈینگی کے ایک چھوٹے سے مچھراورکروناجیسے کسی چھوٹے سے وائرس کی ڈرسے کمروں میں قیدہوکرکانپنے اورلرزنے لگیں ان کی اوقات کیاہوسکتی ہے۔۔؟ایک کرونانے آج پوری دنیاکوہلاکررکھ دیاہے۔جوخلاء میںچاندپر محل بنانے اورآسمان کوفتح کرنے کی باتیں کررہے تھے وہ بھی آج کروناکے سامنے بے بس اوربے وس دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ ،سپین اوراٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح ویرانگی ،خاموشی،خوف وہراس اورلاک ڈائون یہ اس بات کاٹھوس اورواضح ثبوت ہے کہ ہم انسانوں کی کوئی اوقات، طاقت ،بس اوروس نہیں۔ قدرتی آفات، بلیات ،آزمائش اور اس قسم کی وبائیں ہمیں وارننگ دینے کے لئے آتی ہیں۔ اس سے پہلے بھی زلزلے، سیلاب، وبائیں، بلائیں ، سیلاب ،آندھی اوربہت سے طوفان آئے مگرہم راہ راست پرنہیں آئے۔یہ کرونابھی ہمارے لئے رب کی طرف سے ایک وارننگ ہے۔اب کی بار ہمیں سچے دل سے توبہ کرکے راہ راست پر آنا چاہیئے۔ توبہ کادروازہ بھی ہمیشہ کھلانہیں رہتا۔معافی کے مواقع بھی باربارنہیں ملتے۔ہمیں اس موقع کوغنیمت جان کراس سے فائدہ اٹھاناچاہیئے۔بندے کواپنی غلطی اورگناہ کااحساس اور پھر اس غلطی اورگناہ پربندے کی گریہ وزاری اور شیرخوار بچوں کی طرح بلک بلک کررونااللہ تعالیٰ کوبہت پسند ہے۔ جب کوئی انسان جرم اورگناہ کرنے کے بعداپنے مالک حقیقی کے سامنے روتاہے توخدااس سے بے انتہاء خوش ہوتا ہے۔ کیونکہ گریہ وزاری اوراللہ کے سامنے سرجھکاکربلک بلک کررونے کے ذریعے بندہ اپنی بندگی،عاجزی اوراللہ کی عظمت کااعتراف کرتاہے اوریہی وہ تصورہے جس کے استحکام پراللہ تعالیٰ نے اپنے قرب اوربڑی نعمتوں ورحمتوں کاوعدہ فرمایاہے۔ایک موقع پررسول اکرمؐ نے ارشادفرمایاکہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کی توبہ سے اتناخوش ہوتاہے جیساکہ وہ سوارجس کی سواری کھانے اورپانی کے ساتھ کسی چٹیل میدان میں کھوجائے اوروہ مایوس ہوکرایک درخت کے نیچے سوجائے ۔جب آنکھ کھلے تودیکھے کہ وہ سواری کھڑی ہے۔ایک اورحدیث جس کامفہوم ہے کہ اللہ کے نزدیک کوئی چیزدوقطروں سے زیادہ محبوب نہیں۔ایک آنسوکاوہ قطرہ جواللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا خون کاوہ قطرہ جواللہ کے راستے میں گراہو۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے نزدیک ندامت کے آنسو شہیدوں کے خون کی ماننداہمیت رکھتے ہیں۔مولانارومی فرماتے ہیں کہ ۔۔قطرہ اشک ندامت درسجود۔۔ہمسری خون شہادت می نمود۔۔ ندامت کے آنسوئوں کے وہ قطرے جوسجدے میں گنہگاروں کی آنکھوں سے گرتے ہیں ۔اتنے قیمتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کوشہیدوں کے خون کے برابروزن کرتی ہے۔کروناسے لڑنے اورمقابلے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں۔بحیثیت انسان ہم بہت کمزورحدسے بھی زیادہ کمزورہیں۔کسی وباء اورآفت کامقابلہ ہمارے بس میں نہیں ۔ہم چاہتے ہوئے بھی کروناجیسی وبائوں کے سامنے کچھ نہیں کرسکتے۔آیئے اپنے رحیم وکریم رب کے سامنے اپنے سرجھکااورہاتھ اٹھا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔مجھے سوفیصد یقین اورامیدہے کہ اپنے ایک ایک بندے سے ستر مائوں سے زیادہ پیارکرنے والاوہ رحیم وشفیق رب ہمیں ضرورمعاف کردیں گے۔اس لیئے یہ وقت کروناسے ڈرنے یالڑنے کانہیں بلکہ اپنے رب سے رجوع کرنے کاہے۔آئیں دل کھول کراس رب کے سامنے ندامت کے چند آنسو بہا لیں تاکہ نہ صرف کروناجیسی یہ مصیبت بلکہ ہر بلا اور وباء سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ کرونا تو صرف ایک قطرے کی مار ہے۔


ای پیپر