گندم کے سنہرے لہلہاتے کھیت…!
18 اپریل 2020 (13:27) 2020-04-18

یہ اللہ کا کرم اور اس کے عطا کیے ہوئے وسائل اور انسانی محنت کا ثمر ہے کہ ہمیں اپنے پیارے وطن میں سال میں خریف اور ربیع کی فصلوں کی صورت میں وسیع و عریض زرعی رقبوں پر مشتمل خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی فیصلوں، زرعی اجناس اور سبزیوں کے کھیت ہی نظر نہیں آتے ہیں بلکہ میٹھے، شیریں اور ذائقہ دار پھلوں سے لدے پھندے سر سبز و شاداب باغ بھی اپنی بہاریں بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان دنوں گندم جو ہمارے ملک کی سب سے بڑی زرعی پیداوار اور ہماری روزمرہ خوراک کا اہم ترین جزو ہے کے سنہرے اور شاداب کھیتوں میں صحت مند دانوں سے بھرے سٹوں اور خوشوں سے لدے پھندے پودے ہوا میں جھومتے جھامتے ہماری نگاہوں کو خیرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ نسلی اور خاندانی طورپر ایک کسان اور کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پر جبلی طور پر کھیتی باڑی سے لگاؤ اور ایک طرح کا جو رومانس میرے خون میں رچا بسا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے یا میرے مولا کے مجھ پر خصوصی کرم کا اعجاز ہے کہ گاؤں آتے جاتے ہوئے سڑک کے اطراف میں گندم کے لہلہاتے سنہرے اور شاداب کھیتوں کو دیکھتا ہوں تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ اس مہربان ذات کا خصوصی کرم اور فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسی زمین، ایسے موسم، ایسی آب و ہوا، ایسا ماحول اور ایسے دوسرے قدرتی وسائل وافر مقدار میں عطا کر رکھے ہیں کہ یہاں کے محنت کش کسان، کاشتکار اور زرعی زمینوں کے مالک چھوٹے بڑے زمیندار ان سے استفادہ کرتے ہوئے ہر گام اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ زرعی اجناس کے ساتھ سبزیاں اور پھل اتنی مقدار میں پیدا کریں اور اگائیں کہ نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہو سکیں بلکہ ان کو بیرون ملک برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکے۔ یقینا یہ رب کریم کا احسان ہے کہ اس پاک ذات نے ہمیں دریاؤں، ندی نالوں، چشموں اور برفانی گلیشروں سے بہہ کر آنے والا میٹھا پانی جہاں وافر مقدار میں عطا کر رکھا ہے، وہاں گرم موسم اور سورج کی تپش اور حرارت کی قدرتی نعمتوں سے بھی نواز رکھا ہے۔ اس کے ساتھ انسانی محنت، جدوجہد اور ہر گام آگے بڑھنے کا جذبہ اور کھیتی باڑی اور زراعت کے شعبوں کو ترقی دینے اور آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریاؤں پر بیراج اور ڈیموں کی تعمیر اور ان سے نکالی جانے والی نہریں اور ان کے ساتھ کنویں، ٹیوب ویل کھادیں اور جدید زرعی آلات وہ وسائل اور ذرائع ہیں کہ جن کی بنا پر زراعت کی ترقی ہی ممکن نہیں ہوئی ہے بلکہ ہر موسم میں مختلف طرح کی فصلوں کے لہلہاتے کھیت قدرت کی صناعی اور انسانی عظمت کا نقش ابھارتے نظر آتے ہیں۔

جیسا ہم سب جانتے ہیں پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک اور گندم ہماری سب سے بڑی فصل اور زرعی پیداوار ہے۔ گندم پر خشک اور بنجر صرائی اور پتھریلے علاقوں کو چھوڑ کر تقریباً پورے ملک میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک خاص حد (غالباً پچیس، پچیس ملی ٹن) سے کم پیداوار ہمارے لیے اس کی قلت اور دوسرے مسائل پیدا کرنے کا سبب ہو سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی پیداوار ضروریات سے کم نہ ہو بلکہ

کچھ وافر ہی ہو اس کے باوجود کچھ مخصوص حلقے اس کی مصنوعی قلت اور آٹے کا بحران پید اکر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں۔ یہ ہماری بد نصیبی اور حکمرانوں اور فیصلہ ساز حلقوں کی نا اہلی، نا لائقی اور چشم پوشی ہے کہ عوام کے ساتھ چند ماہ قبل یہ واردات ہو چکی ہے۔ حکومت اور برسراقتدار حلقوں میں اثر و رسوخ اور تعلق رکھنے والے لا لچی عناصر نے جہاں اپنی تجوریاں بھری ہیں وہاں عام لوگوں کو آٹے کے حصول کے لیے خجل خوار اور در بدر کی ٹھوکریں کھانا اور مہنگے داموں آٹا خریدنا بھی پڑا ہے۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ میں واپس گندم کے لہلہاتے سنہرے کھیتوں کی طرف آتا ہوں۔

اس بار (پچھلے چند برسوں میں بھی ایسے ہوتا رہا ہے) بارشیں کچھ زیادہ بلکہ بہت زیادہ برسی ہیں ان کے اثرات گندم کی فضل پر پڑے ہیں جو نقصان دہ ہیں۔ ہمارے ہاں گندم کے پودوں کو ایک بیماری (جسے مقامی زبان میں کنگنی کی بیماری کہتے ہیں) وسیع پیمانے پر لگی ہے۔ پچھلے سال بھی یہ بیماری لگی تھی اور اس کی وجہ سے گندم کی پیداوار متاثر اور تخمینے سے کم ہوئی۔ تاخیر سے کاشت کیے جانے والے گندم کے کھیت اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس سال بھی ایسے ہی ہوا ہے۔ اس کی زراعت کے محکمے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایک تو گندم کی کاشت کے موقع پر اس بیماری کا مقابلہ کرنے والے معیاری بیج دستیاب نہیں تھے تو بعد میں جب یہ بیماری کھیتوں میں غلبہ جمانے لگی تو محکمہ زراعت کی طرف سے حسب سابق نہ تو مناسب رہنمائی ملی اور نہ ہی کھیتوں میں بیماری کا تدارک کرنے والی زہروں کے چھڑکاؤ اور سپرے (Spray) کا معقول بندوبست سامنے آیا۔ خیر اس بیماری کے ضرر رساں اثرات کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ استثنیٰ کو چھوڑ کر گندم کے کھیتوں میں اس وقت اس بیماری کے مجموعی اثرات بفضل تعالیٰ اس حد تک اور وسیع پیمارے پر نظر نہیں آتے ہیں جتنا چند ہفتے قبل تک دکھائی دے رہے تھے۔ یقینا یہ بھی اللہ کریم کا احسان ہی ہے کہ ہماری بے تدبیریوں اور نا اہلیوں کے باوجود ذرائع ہمیں رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے یقین واثق ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے بھی انجام کار ان شاء اللہ ایسی ہی صورت حال سامنے آئے گی۔

اوپر میں نے ذکر کیا کہ کھیتی باڑی اور کاشتکاری سے ایک طرح کا رومانس میرے اندر رچا بسا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت اور حصول معاش کے تقاضوں کے تحت گاؤں سے باہر رہنے کے باوجود کھیتی باڑی اور کاشتکاری سے تعلق کسی نہ کسی صورت میں ضرور جڑا رہا ہے۔ والد گرامی محترم لالہ جی مرحوم و مغفور زندہ تھے تو کھیتی باڑی کی محنت و مشقت انہوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔ طویل عمری کے دوران اکیلے محنت و مشقت کا اتنا بوجھ اٹھانا بلاشبہ اللہ کریم کے فضل سے ان ہی کی ہمت کی بات تھی۔ تاہم بڑے بھائی جو بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں اور مجھ سے عمر میں تقریباً چھ سال بڑے ہیں۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے اور فوج میں بھرتی ہو کے حتیٰ الوسع کھیتی باڑی میں لالہ جی مرحوم و مغفور کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے شاید یہ پچھلی صدی کے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بات ہو گی۔ لالہ جی بیل اور گائے کی جوڑی کے ساتھ ہل چلانے کے لیے صبح صادق کے وقت ہی کھیتوں کا رخ کر لیا کرتے تھے۔ میں گھر پر ہوتا تو سورج طلوع ہونے کے وقت ان کے لیے چائے وغیرہ لے کر جاتا۔ وہ چائے پینے اور حقے کے کش لگانے کے لیے بیٹھتے تو میں ہل چلانے لگتا۔ وہ مجھے روک دیتے کہ تو صحیح ہل نہیں چلا سکے گا۔ ہل کی ہر گہری نالی (جسے اپنی زبان میں ’’سیاڑ‘‘ کہتے ہیں) کے درمیان خالی جگہ (پاڑہ) چھوڑ دے گا۔ میرا خیال ہے کہ میں ہل چلانے سے اتنا بھی نا بلد نہیں تھا لیکن وہ شاید اس لیے مجھے ہل چلانے سے روک دیتے کہ وہ اس طرح مجھے ہل چلانے کی مشقت اور کچھ کچھ تکلیف سے بچانا چاہتے ہوتے تھے۔ ہائے شفقت پدری میں تجھے کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں۔ ویسے محترم والد صاحب لالہ جی مرحوم و مغفور کو ہل چلانے میں بے پناہ مہارت حاصل تھی۔ لوگ ان کے چلائے ہوئے ہل کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ ہل سے زمین پر بنی ہر گہری نالی یا ’’سیاڑ‘‘ آپس میں اتنا متوازی ہوتا تھا کہ لگتا تھا کہ جیسے کسی بے زبان جانوروں کی مدد سے ہل کی یہ گہری نالیاں یا ’’سیاڑ‘‘ نہیں لگائے ہیں بلکہ باقاعدہ پیمائش کر کے یہ ’’سیاڑ‘‘ یا گہری نالیاں بنائی گئی ہیں۔

میں گندم کی اپنی فصل اور اپنے کھیتوں کا ذکر کرنے کی بجائے پتہ نہیں کئی سہانے زمانوں اور پیارے اور محترم ہستیوں کا ذکر کرنے لگ پڑا۔ ویسے یہ ذکر بھی مجھے بہت پیارا ہی ہے۔ نہیں ہے میرے لیے ہمیشہ اس میں انسپائریشن رہی ہے۔ میں واپس گندم کے لہلہاتے سنہرے کھیتوں کی طرف آتا ہوں۔ میرے گاؤں کے مشرق اور جنوب میں گاؤں سے متصل اور شمال مشرق اور جنوب مغرب میں گاؤں سے ہٹ کر دور تک کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں جابجا کنویں، رہٹ اور چھوٹے موٹے پانی کے بوریا ٹیوب ویل موجود ہیں۔ ان ہی میں میرے گھرانے کے کھیت بھی پھیلے ہوئے ہیں جن میں ہم تینوں بھائی بفضل تعالیٰ الگ الگ کھیتی باڑی یا کاشت کرتے ہیں۔ ان میں ٹیوب ویل بھی ہے اور ایک پرانا کنواں جس میں چار انچ پانی کھینچنے والی بجلی کی موٹر بھی نصب ہے یہ ہماری نا لائقی، نا اہلی، عدیم الغرصتی یا افرادی قوت کی کمی کہ ہم اپنے ان کھیتوں اور اپنی اس مزروعہ زمین سے وہ کچھ پیداوار حاصل نہیں کر پا رہے ہیں جتنی ہمیں حاصل کرنی چاہیے ۔ لے دے کے ایک گندم کی فصل ہے جسے بڑی مشکل سے (سال میں ایک بار) ہم کاشت کرنے کا بندوبست کر پاتے ہیں۔ اس طرح گندم کے یہ کھیت ہمیں خاص طو رپر مجھے کچھ زیادہ عزیز اور سہانے لگتے ہیں۔ میں ہر ہفتے گاؤں جاتا ہوں تو کتنی دیر تک اپنے ان کھیتوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہوں۔ نومبر میں گندم کی کاشت کے وقت موسم کچھ ایسا تھا کہ گندم کی کاشت میں تاخیر ہو گئی۔ بعد میں بارشیں خوب ہوتی رہیں۔ (ابھی بھی ہونے کا امکان ہے) فضل کو کچھ بیماری لگ گئی لیکن پھر بھی گندم کے پورے بڑی حد کت سڈول اور سٹے اور خوشے صحت مند دانوں سے بھرے لیکن ابھی ان کے پکنے میں کچھ وقت کم از کم دو ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا۔ اس کے ساتھ گندم کی کٹائی اور اس کو سنبھالنا۔ یقینا یہ مشکل اور کٹھن مراحل ہیں۔ اللہ کریم اپنی رحمت خاص سے نوازیں گے اور سب کچھ بخیر و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے انشاء اللہ! آخر میں خالص اردو نظم کے نمائندے اور بے مثال شاعر جناب مجید امجد مرحوم کی نظم میری ہری بھری فصلو کے دو مصرعے

ہری بھری فصلو

جگ جگ جیو ، پھلو


ای پیپر