یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(چوتھی قسط )
18 اپریل 2020 2020-04-18

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھے جانے والے کالموں کی گزشتہ تیسری قسط میں، میں عرض کررہا تھا ” ہماری دعائیں، ہماری عبادتیں ہمارے اعمال کی طرح بناوٹی و ملاوٹی ہوچکی ہیں۔ شاید اِسی لیے اللہ نے ہم سے اپنی عبادتوں کی توفیق چھین لی، روضہ رسول اور خانہ کعبہ کے دروازے تک اِس بناوٹی وملاوٹی دنیا پر بند کردیئے، ہمارے ایک معروف عالم دین مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر کورونا سے نجات کے لیے روروکر دعا فرمائی تھی، اُن کا رونا پوری دنیا نے دیکھا، بعد میں خود بھی اُنہوں نے دیکھا ہوگا ایسے کرتے ہوئے میں کیسا لگ رہا تھا؟۔ میرے نزدیک یہ عمل تنہائی میں کرنے کا ہے، ایسے ہی جذباتی انداز میں رو رو کر ہمارے کچھ علماءکرام ٹیلی وژن پر دعائیں مانگنے کے بجائے تنہائی میں مانگیں ممکن ہے اُن کی دعائیں اِس طرح ردنہ ہوں کہ اُن کی دعاﺅں کے نتیجے میں کورونا رُکنے کے بجائے مزید بڑھتا جارہا ہے، ہر عمل دکھاوے کا نہیں ہونا چاہیے، ....خصوصاً نیکی تو دکھاوے کی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، سو بڑے ادب سے، ہاتھ باندھ کر مولانا طارق جمیل صاحب سے گزارش ہے جس طرح رو روکر ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اُنہوں نے دعا فرمائی، ویسی ہی دعا وہ تنہائی میں فرما دیں، جب کوئی اُنہیں دیکھنے والا نہ ہو سوائے اللہ کے ، اُس دعا میں اُنہیں ”دنیاوی بادشاہوں“ کے بارے میں اللہ کو اِس انداز میں صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوگی جیسے اللہ اِن ”دنیاوی بادشاہوں“ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، ویسے اِس معاملے میں بھی اُنہوں نے ”ڈنڈی“ ماری، اگر موجودہ بادشاہوں کے ساتھ ساتھ وہ کچھ ”سابقہ بادشاہوں“ کا ذکر بھی اپنی دعا میں فرما دیتے تو سابق بادشاہوں کو یہ سوچنے کا موقع نہ ملتا کہ مولانا صرف موجودہ بادشاہوں کے ذکر خیر کرنے کو ہی اپنی دعا کی قبولیت کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، ....میں ابھی سوچ رہا تھا ایک وقت تھا پاکستان میں مذہبی رہنماﺅں اور مذہبی جماعتوں کا بڑا دبدبا ہوا کرتا تھا، وہ حکومتوں سے اپنی بات منوا کر دم لیتی تھیں، خصوصاً ملک میں جب بھی کوئی آفت آتی اُس آفت کے متاثرین کی مدد کے لیے بہت کام کیا کرتی تھیں، گزشتہ کئی برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں پاکستان میں کسی بھی حوالے سے کوئی مشکل وقت آتا ہے زیادہ تر مذہبی جماعتیں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ اکثر مولوی صاحبان یکدم غائب ہو جاتے ہیں، آج مسجدیں کتنے ہی روز سے بند ہیں، ممکن ہے حکومت کا مسجدوں کو بند رکھنے کا فیصلہ بہت سے حوالوں سے درست ہو، مگر مجال ہے اجتماعی طورپر مذہبی جماعتوں یا علمائے کرام کی طرف سے کوئی مطالبہ، حکومت سے کوئی گزارش کی گئی ہو کہ مسجدیں کھول دی جائیں اِس ضمن میں ہراحتیاطی تدبیر کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمارے کچھ مولوی صاحبان مسجد کو بھی ایک ”کاروباری مرکز“ ہی سمجھتے ہیں، اس کاروبارسے اصل میں اُنہوں نے اتنا کمالیا ہوا ہے اُن کے نزدیک یہ کاروبار کچھ عرصے کے لیے بند بھی رہے مالی طورپر اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہمارے کسی مولوی نے حکومت سے یہ سوال کیا ”اگر دنیاوی شفا کے مراکز ہسپتال وغیرہ کھلے رکھے جاسکتے ہیں تو دینی شفا کے مراکز (مسجدیں) کیوں بند کردی گئی ہیں ؟“....خیر بات پھر کسی اور طرف نکلتی جارہی ہے، لوگ، خصوصاً میرے پکے قارئین پہلے ہی مجھ پر بڑا اعتراض کرتے ہیں کہ ”بات کو گُھما پھرا کر کرنے میں تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے، کالم تم نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں زیر بحث آنے والے مسائل اور حقائق پر لکھنے ہیں اور مارتم اِدھر اُدھر کی بونگیاں رہے ہو“،....گزارش یہ ہے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں جو باتیں ہوئیں وہ میڈیا میں اپنے سٹوڈنٹس کو دیئے جانے والے دوچارمختلف انٹرویوز میں، میں تفصیل سے بتا چکا ہوں، پچھلے کچھ عرصے سے میں وزیراعظم کی کچھ بداعمالیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہا تھا، وہ اُسے بڑے حوصلے سے برداشت کررہے تھے، وہ اب جس مقام پر ہیں، سچ پوچھیں کم ازکم میرا احساس اُن کے بارے میں یہی ہے اُنہیں اب اِس بات کی کوئی خاص پروا ہی نہیں کون اُن کے حق میں لکھ رہا ہے، کون خلاف لکھ رہا ہے ؟، کون اُن کے حق میں بول رہا ہے ؟ کون خلاف بول رہا ہے ؟۔ میرا یہ تاثر اُن سے ملنے کے بعد مزید پختہ ہوگیا، اِس کے باوجود کہ میں پچھلے کئی ماہ سے مسلسل اُن کے خلاف لکھ

رہاہوں، اورمیرے بے شرمی کا عالم یہ ہے اُن کے خلاف کالم وغیرہ لکھ کر، یا کسی چینل کو کوئی انٹرویو وغیرہ دے کر اُنہیں اُن کے واٹس ایپ پر سینڈ بھی کردیتا ہوں، میری اِس ” بے شرمی“ کا ذکر ملاقات میں اُنہوں نے بھی بڑے دلچسپ انداز میں کیا، کچھ لوگ اِس حوالے سے اپنی طرف سے مجھے بہت ڈرانے کی کوشش کرتے تھے کہ وزیراعظم تم سے ناراض ہو جائے گا ، وہ تم سے رابطہ ختم کرلے گا، تم نے اپنے چوبیس سالہ پرانے تعلق کو داﺅ پر لگا لیا ہے وغیرہ وغیرہ، میں دوستوں کی یہ باتیں سن کر ہنستا تھا، میں سوچتا تھا اِس کے باوجود کہ میرے دوست مجھے جانتے ہیں، وہ کیوں یہ سمجھتے ہیں میں کسی ”دنیاوی بادشاہ“ کے ناراض ہونے سے ڈر جاﺅں گا، اور اُس عمل سے رُک جاﺅں گا جو میری فطرت میں شامل ہے؟ اِن دنیاوی بادشاہوں کی ناراضگی کا مجھے ڈر ہوتا تو سابقہ بادشاہوں بلکہ کم ظرف بادشاہوں کی کرپشن اور دیگر بداعمالیوں کو بے نقاب کرنے سے کم ازکم اُس کے بعد تو رُک گیا ہوتا جب اپنے پالتو غنڈوں (ایم ایس ایف) کے ذریعے مجھ پر قاتلانہ حملہ اُنہوں نے کروایا جس میں بال بال میں بچ گیا، اِس طرح کی کئی انتقامی کارروائیاں کروائیں، کئی کئی ماہ تک میرے کالم میرے اخبارات کے مالکان سے کہہ کر، بلکہ اُنہیں حکم جاری کرکے بندکروا دیئے جاتے تھے، نوائے وقت میں تو خیر جب میرے کالم بند کروادیئے جاتے تھے میرا معاوضہ بھی بند کروا دیا جاتا تھا، میں جب روزنامہ جناح سے وابستہ تھا، اُس دور کے حکمران میری تحریروں سے اتنا خوفزدہ ہوگئے، اور اتنے ناراض ہوگئے، اُنہوں نے اخبار کے مالک (ملک ریاض حسین) سے کہہ کر میرے کالم بند کروادیئے، ملک ریاض نے مجھے اسلام آباد اپنے گھر بلایا، میری بڑی عزت کی، نامور کالم نگار جاوید چودھری بھی موجود تھے، ملک ریاض نے پہلے تو حکمرانوں کی ناراضگی سے مجھے آگاہ کیا، پھر ایک چیک مجھے دیا جو میری تین ماہ کی ایڈوانس تنخواہ کا تھا، وہ مجھ سے کہنے لگے ”ہمیں مجبوراً آپ کے کالم کچھ عرصے کے لیے بند کرنا پڑیں گے۔ پر میری خواہش ہے آپ کوئی اور اخبار جائن نہ کریں، یہ میں آپ کو تین ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دے رہاہوں، اس دوران میں کوشش کروں گا حکمرانوں سے آپ کی ناراضگی ختم یا کم ہوجائے جس کے نتیجے میں آپ کے کالم دوبارہ شروع کردیئے جائیں گے“ .... میں نے ٹیبل پر پڑا چیک اُٹھایا اور بڑے ادب سے اُن کے آگے رکھ دیا، میں نے عرض کیا ” میں لکھنے کا معاوضہ لیتا ہوں بھیک نہیں لیتا، جب میں نے کالم ہی نہیں لکھنے اُس کا معاوضہ کیوں لُوں ؟؟؟(جاری ہے)


ای پیپر