اصل چیلنج کیا ہے

18 اپریل 2018

طارق محمود چوہدری

خبر یہ نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے۔ چیلنج یہ ہے کہ وہ الیکشن کس طرح کے ہوں گے۔
خوشخبری اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز شخصیت صدر مملکت کی جانب سے آئی۔ صدر پاکستان ممنون حسین فرماتے ہیں کہ وہ بر وقت انتخابات کا انعقاد ہوتے دیکھ رہے ہیں۔اب اس منصب سے اوپر تو اور کوئی نہیں۔ ریاست پاکستان کے وہ آئینی سربراہ ہیں، مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ہیں۔ سرد و گرم چشیدہ سیاسی شخصیت ہیں۔ صدارت کے عہدے تک پہنچنے سے قبل وہ گورنری کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔ کراچی ایسے معاشی طور پر ریڑھ کی ہڈی قرار دیئے گئے میٹرو پولیٹن شہر کے چیمبر آف کامرس کی سیاست میں بھی وہ سر گرم رہے۔اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) پر 12 اکتوبر 1999ء میں مارشل لاء کی شکل میں ابتلا اور آزمائش کا وقت آیا تو وہ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ایسے وقت میں جب نواز شریف کے پسینے پر خون بہا دینے کے دعویدار بھی بغیر پاسپورٹ ویزے اور این او سی کے من جانب گجرات شریف پہنچ گئے۔کراچی میں مشاہد اللہ، سلیم ضیاء اور ممنون حسین سمیت چند وفا شعار ہی تھے جو سڑکوں پر نکلے۔باقی تو تتر بتر ہو گئے۔ ایسی باخبر شخصیت جب خبر دے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔باتیں تو صدر مملکت نے اور بھی بہت کیں۔جو بہت اہم تھیں۔لیکن میرا موضوع الیکشن کا انعقاد ہے ۔لکھنے اورتحسین کیلئے یہ کیا کم ہے کہ جناب صدر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کیلئے مقامی دفتر پہنچ گئے۔ اورعام آدمی کی مانند پراسس سے گزرے۔ دوسرے ملکوں کے سر برا ہان کی مثالیں دیتے ہم نہیں تھکتے۔اپنے ملک کا صدر ایسی ہی نظیر قائم کرے تو کسی کو ایک لفظ لکھنے بولنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ہاں اگر صدر مملکت آئین میں دی گئی ذمہ داریوں کے مطابق اپنا کردار ادا کریں تو لطیفے گھڑنے اور جگت بازی میں ہم ذرا نہیں چوکتے۔شاید ہماری قومی نفسیات میں کوئی گرہ یا کجی ہے ۔اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے والا فرد ہمیں اچھا ہی نہیں لگتا۔اپنا کام پس پشت ڈال کر سماج سدھار مہم چلانے والے ہمیں اپنے ہیرو لگتے ہیں۔ہاں یاد آیا صدر مملکت نے بھی تو پاسپورٹ آفس میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے ایسی ہی بات کی۔قلمکار نے تو جو اخبار میں شائع ہوا وہی پڑھا اور لکھ رہا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ اصل مسئلہ یہی ہے ۔اپنی حدود میں رہے تو پتا کیسے چلے کہ طاقتور کون ہے ۔ اب معلوم نہیں کہ صدر مملکت کی یہ بات کس کو بری لگی اور کس کو اچھی۔جو بھی ہو مسائل کے حل کی کنجی یہی چھوٹا سا فقرہ ہے ۔ایسے مواقع پر موجودرپورٹر حضرات کو تو خبر درکار ہوتی ہے ۔لہٰذا وہ ایسا سوال پوچھتے ہیں جس سے خبر نکلتی ہے ۔اب کسی نے پوچھ لیا ہو گا عدالتی مقدمات کے متعلق۔جو جواب صدر مملکت نے دیا اسے میں کیوں دہراؤں۔قارئین خود اخبار میں پڑھ لیں۔لیکن بات تو انہوں نے درست کی۔احتساب ہو تو سب کا۔کسی ایک فرد، گروہ یا جماعت کو نشانہ بنانا درست نہیں۔سارا ملک یہی باتیں کر رہا ہے ۔پانامہ ہو یا کرپشن۔ ایک ہی جرم میں مختلف افراد کیلئے سزائیں الگ الگ کیوں۔جس طرح قانون سب کیلئے برابر ایسے ہی انصاف بھی سب کیلئے یکساں،مساوی،برابر۔ جیساکالم کے آغاز میں عرض کیا کہ اصل موضوع تو الیکشن کی خوشخبری ہے ۔صدر مملکت کہتے ہی تو پھر شک اور ابہام کی گنجائش کیسی۔چلیں آج سے تیاری شروع۔جو وہم اور وسوسہ ڈالتے ہیں ان کا تو کام ہی یہی ہے ۔خاکسار تو 1992ء سے اس خار زار صحافت میں آبلہ پا ہے ۔آج تک کوئی ایک بھی الیکشن ایسا نہیں ہوا جس کے متعلق یقین سے کہا جا سکتا ہو کہ وہ مقررہ تاریخ کو منعقد ہوں گے۔بزعم خود با خبر حضرات آتے ادھراُدھر دیکھتے سر گو شی کرتے بھائی جی الیکشن کوئی نہیں ہونے ایویں ٹائم ضائع نہ کریں۔نگران لمبے عرصے کیلئے آئے ہیں۔یہ نہیں جانے والے۔اس مرتبہ بڑا سخت اور کڑا احتساب ہو گا۔لوٹی دولت واپس آئے گی۔لٹیرے جیل میں ہوں گے۔سر عام سزائیں ملیں گی۔ایسی چھلنی لگے گی کہ صرف نیک اور پاک لوگ ہی الیکشن میں حصہ لیں گے۔دیکھ لینا۔1993ء سے تا دم تحریر 6 الیکشن ہو چکے۔لوٹی رقم آئی نہ عوام کو پیسہ ملا۔تما م الیکشن وقت کے مطابق ہوئے۔لہٰذا اتنا تو خاکسار کو بھی یقین ہے کہ الیکشن ضرور ہو گا۔کیونکہ آرمی چیف سے لے کر چیف جسٹس تک اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات نے یقین دہانی کرا دی ہے ۔اور اب صدر مملکت بھی۔الیکشن کمیشن زور شور سے تیاریاں کر رہا ہے ۔نئی انتخابی فہرستوں کی تیاری جاری ہے ۔نئے ووٹروں کا اندراج ہو رہا ہے ۔جس کیلئے 24 اپریل تک کی ڈیڈ لائن ہے ۔ہزاروں نہیں لاکھوں نئے ووٹر بنیں گے۔اسی طرح حلقہ بندیوں کا آئینی تقاضا بھی پورا کیا جا رہا ہے ۔حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کی گئی۔الیکشن لڑنے کے خواہشمند حضرات نے اعتراضات کی بھر مار کر دی۔جو کہ ہر شہری کا حق ہے ۔ان فہرستوں کی از سر نوتشکیل کیلئے آج کل سماعتیں ہو رہی ہیں۔جہاں اعترا ضات جائز اور حقیقی ہیں۔ان میں مناسب تبدیلیاں کی گئیں۔جو کسی کو پسند آئیں گی کسی کو شاید بری لگیں گی۔جن کو مرضی کے حلقے نہیں ملیں گے وہ عدالتوں میں جائیں گے۔لیکن یہ سب تو الیکشن کا حصہ ہے ۔ اپیلیں، پٹیشن ،عذر داریاں ایک دوسرے کو ڈس کوالیفائی کی
کوششیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ انتخابی مواد کی ترسیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔70 فی صد انتخابی مواد الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔یکم مئی تک یہ سارا پراسس مکمل ہو جائے گا۔یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن پھر ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ کافی ہے ۔ان لوازمات سے الیکشن مکمل ہو جاتا ہے ۔اور الیکشن صاف و شفاف منصفانہ ہیں۔ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں۔لیکن پھر 2013ء کے الیکشن کی جانب دیکھتا ہوں تو سوال کا جواب مل جاتا ہے ۔اس الیکشن میں یکساں مقابلہ نہ تھا۔پیپلز پارٹی، اے این پی،ایم کیو ایم کو طالبان نے الیکشن مہم سے روک دیا۔پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو بھی روز طلب کیا جاتا۔پارٹیا ں بدلی جا رہی تھیں۔لوٹا کریسی عروج پر تھی۔ایک مرتبہ پھر انتخابی مہم سامنے ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کرانے والے کس طرح کا الیکشن کراتے ہیں۔لیکن اگر سیاسی جماعتوں پر مرضی کی لیڈر شپ مسلط کی جا رہی ہو۔پارٹی سربراہ تبدیل کیے جا رہے ہوں۔انتخابی مہم پرقدغن ہو۔اور لیڈروں کی زبان بندی ہو تو الیکشن شفاف کیسے ہوں گے۔ اصل امتحان الیکشن کا انعقاد نہیں بلکہ ایسا الیکشن ہے جس میں سب کیلئے یکساں مواقع ہوں۔

مزیدخبریں