سنپولیوں کو سانپ نہ بننے دیں
18 اپریل 2018 2018-04-18

عالم اسلام میں اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ملی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے ہمہ جہتی ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ قومی یکجہتی کے لئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اُس دین کامل کے پیروکار جو دنیائے انسانیت کو محبت اور اخوت کا پیغام دینے میں پیش پیش رہے ، آپس ہی میں نہ صرف یہ کہ دست و گریباں ہیں بلکہ ایک دوسرے کیلئے ’’ہلاکت کے پیغام بر‘‘ بن چکے ہیں۔ فروغِ اسلام، فروغِ صداقت اور فروغِ حقانیت کے لئے اسلامی تاریخ کی نامور ترین ہستیوں نے بے مثال قربانیاں دیں ۔ یہ عظیم قربانیاں پیروانِ اسلام کو وحدت اور اتحاد کا درس دیتی ہیں۔

یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی قوتیں اور عناصر اسلام، پاکستان اور عوام تینوں کے دشمن ہیں۔ یہ عناصر اسلام مخالف قوتوں کے آلۂ کار کی حیثیت سے مسلم امہ کو فرقوں، مسلکوں اور اکائیوں میں نہ صرف منقسم کرتے ہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے کی تکفیر کی بھی ترغیب دیتے ہیں۔ جہاں تک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا تعلق ہے، تو یہ بات بلامبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ طالع آزما نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے مسلکی تعصبات کو انفرادی و گروہی دکانداریاں چمکانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔اگر دیانتداری سے عالم اسلام کے تنزل کے اسباب اور وجوہات کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو آخری تجزیئے کے مطابق یہ حقیقت روز روشن کی طرح ابھر کر سامنے آئے گی کہ عالم اسلام کو اس کے خارجی اور بیرونی دشمنوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا، جتنا اس کے داخلی اور اندرونی دشمن پہنچاتے رہے۔ خارجی اور بیرونی دشمن تو علانیہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہیں، لیکن یہ داخلی اور اندرونی دشمن ’’زیر زمیں‘‘ اور ’’پس پردہ‘‘ کارروائیوں سے اسلامی معاشروں اور مملکتوں کی وحدت کو پاش پاش کرنے میں مصروف ہیں۔وہ پریشر گروپس اور مسلکی انتہا پسندی کی علمبردار جماعتیں جو فرقہ واریت کے زہر کو اس ملک کی شریانوں میں دوڑانا چاہتی ہیں، انہیں اپنے نظریات و عزائم پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا تاریخ کے اس نازک اور حساس موڑ پر وطن عزیز اِن متعصبانہ اور تنگ نظرانہ رجحانات و تصورات کے فروغ کا متحمل ہو سکتا ہے؟ روحِ اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ علمائے کرام اور ذاکرین عظام بلاامتیاز مسالک و

مذاہب آگے بڑھیں اور اپنا حقیقی فریضہ ادا کرتے ہوئے قوم کو وحدت کا پیغام دیں ۔

اربابِ حکومت وطنِ عزیز کو فرقہ وارانہ اور مسلکی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لئے متعدد مسلک پرست اور فرقہ پرست جماعتوں پر پابندی عائد کر چکے ہیں جو یقیناًایک مثبت قدم ہے۔ اس تناظر میں محبِ وطن عوامی حلقے ارابابِ حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ تشدد پسندی اور انتہا پسندی کے پرچارک صرف مسلکی اور فقہی تنظیموں ہی میں موجود نہیں بلکہ ان سے کہیں بڑی تعداد میں یہ عناصر لسان پرست، علاقہ پرست، صوبہ پرست اور قوم پرست جماعتوں میں موجود ہیں۔کون نہیں جانتا کہ 2006ء سے آپریشن ضرب عضب کے آغاز تک بلوچستان میں غیر بلوچی آباد کاروں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا رہا ۔ اُنہیں بسوں سے نکال کر قطاروں میں کھڑا کرنے کے بعد شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں اور جن کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے، اُنہیں ’’سامراجی‘‘ قرار دے کر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ اور جن کا تعلق سندھ سے ہوتا انہیں غیر بلوچی ہونے کے جرم کی پاداش میں دن دہاڑے لقمۂ اجل بنادیا جاتا۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ ملک بھر میں قوم پرستی،صوبہ پرستی، لسان پرستی اور علاقہ پرستی کے نام پر تعصب پھیلانے والی جماعتیں کھلے بندوں کام کرتی رہی ہیں۔ عوام یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ قوم پرست، لسان پرست، علاقہ پرست اور صوبہ پرست تمام رہنماؤں کی جماعتوں کے ہیڈ کوارٹرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنا پر نتیجہ خیز کریک ڈاؤن کیاجائے اور مستقبل میں ان سے رابطہ کرنے والے تمام افراد کی نقل و حرکت کو سنجیدگی سے مانیٹر کیا جائے۔ اس سے قبل اربابِ حکومت فرقہ وارانہ اور مسلکی انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لئے متعدد مسلک پرست اور فرقہ پرست انتہا پسند جماعتوں پر پابندی عائد کر چکے ہیں جو یقیناًایک مثبت قدم ہے۔ اس تناظر میں محبِ وطن عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ تشدد پسندی اور انتہا پسندی کے پرچارک صرف مسلکی اور فقہی تنظیموں ہی میں موجود نہیں بلکہ ان سے کہیں بڑی تعداد میں یہ عناصر لسان پرست، علاقہ پرست، صوبہ پرست اور قوم پرست جماعتوں میں موجود ہیں اور انہوں نے سیاستدان یا ارکان پارلیمان کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس امر کا سراغ لگانا از بس ضروری ہے کہ ان قوم پرست جماعتوں کی انتہائی مہنگی سرگرمیوں کو کونسی داخلی و خارجی قوتیں اقتصادی اور مالی سطح پر سپانسر اور فنانس کر رہی ہیں۔ پہلی فرصت میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں کسی بھی قسم کے تعصب ، انتہا پسندی اور تفریق و انتشار کی علم بردار ہر جماعت پر بلاتاخیر پابندی عائد کر دی جائے اور ان کے تمام فنڈز اور اثاثے بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں۔

پہلی فرصت میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں کسی بھی قسم کے تعصب ، انتہا پسندی اور تفریق و انتشار کی علم بردار ہر جماعت اور تحریک پر بلا تاخیر مکمل پابندی عائد کر دی جائے اور ان کے تمام فنڈز اور اثاثے انتہا پسند مسلکی تنظیموں کی طرح بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں۔ ان تعصب کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ان تحریکوں کے بینر اور پلے کارڈ ہولڈرز کو ابتدائی مرحلے پر ہی کچل دینا چاہیے۔ سنپولیوں کو سانپ بننے کا موقع نہ دیا جائے ۔کیا یہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان آئینی طور پر ایک مسلمہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ اسلام آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا، وہ آفاقیت کا پرچم بردار ہے۔ روح اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ علمائے کرام اور ذاکرین عظام بلاامتیاز مسالک و مذاہب آگے بڑھیں اور اپنا حقیقی فریضہ ادا کرتے ہوئے قوم کو وحدت کا پیغام دیں ۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دینی پیشوا اپنے منصب کی اہمیت اور نزاکت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے وحدت و یگانگت کی فضا کو ساز گار بنانے کے لئے سرگرمِ عمل ہو جائیں۔ ایسے میں حقیقی دینی پیشواؤں اور قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا فرضِ منصبی ملک و قوم کی مسیحائی ہی بنتا ہے۔انہیں اس امر کا ادراک و احساس ہو نا چاہیے کہ لسانی انتہا پسندی اور علاقائی تعصبات اور تشدد انگیز فرقہ واریت نے مسلم امہ کے جسم و روح پر گہرے چرکے لگائے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ اب دینی پیشوا مسلم امہ کے جسم و روح کو ان چرکوں کی مضرت رسانی سے بچانے کے لئے مسیحا اور طبیب کا کردار ادا کریں۔ دینی پیشواؤں اور سیاسی رہنماؤں کا فرض منصبی یہی ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو امن و آشتی اور محبت و اخوت کی شاہراہ کا مسافر بننے کی تلقین کریں۔ یہ شاہراہ منافرت، تعصب ، تشدد، تخریب کاری اور دہشت گردی کے خار زاروں سے ہمیشہ پاک اور صاف ہوتی ہے۔ حقیقی علماء و مشائخ اور لیڈر ہمیشہ عوام کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں ۔ وہ توڑنے اور تفرقہ پھیلانے کے مذموم عمل کو ہمیشہ نفرت اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔


ای پیپر