امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے گی
18 اپریل 2018 (19:34) 2018-04-18

واشنگٹن: امریکہ کے سیاسی معاملات کے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھومس شینن نے کہا ہے کہ امریکا میں یکم مئی سے پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت جوابی طور پر محدود کردی جائیں گی اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے تقرر کردہ مقام پر 40 کلو میٹر کی حدود میں رہیں،سمجھ سکتا ہوں لیکن ہم صرف بڑے شراکت دار نہیں بلکہ پاکستان کے لیے چین میں بہت اہم اور بڑا شراکت دار ہے۔اسلام آباد کو چاہیے کہ پاکستان میں باقی رہنے والی عسکریت پسندی پر وسطی ایشیائی ممالک کے تحفظات کو سمجھے اور انہیں دور کرے۔

ایک انٹرویو میں امریکی سیاسی معاملات کے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھومس شینن نے کہا کہ امریکا، یہ سب اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اسلام آباد کی جانب سے پہلے ہی اسی طرح کی پابندیاں پاکستان میں امریکی سفارتکاروں پر نافذ کردی گئی ہیں۔امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر اس طرح کی پابندیاں اپنے طور پر باہمی ہوتی ہیں اور میں اسے ایسے ہی چھوڑ دینا چاہوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارے سفارتکاروں پر محدود سفری پابندیاں عائد ہیں لیکن وہ مزید سفر کرسکتے ہیں، جس کے لیے انہیں پاکستانی حکومت کو اطلاع دینی ہوگی۔اس طرح کی چیزیں سفارتکاری میں عام ہیں اور ہمیں اس پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔یہاں کیا ضروری ہے اور کس چیز پر بات کرنی چاہیے ہمیں علم ہے اور افغانستان میں ہونے والے واقعات پر ہماری پاکستانی حکومت سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم وسیع مفاہتی عمل کے ذریعے ایسے لوگوں کی تعمیر کرنے کے قابل ہوجائیں گے، جنہیں نے ہماری مدد کی ۔

اپنے انٹرویو کے دوران تھومس شینن نے مزید بتایا کہ پاکستان کو اپنے ملک میں موجود عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے مزید دبا بڑھانا ہوگا۔انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے دی گئی تجویز کہ وسطی ایشیا کے ممالک چاہتے ہیں کہ امریکا اس معاملے پر پاکستان پر دبا ڈالے پر تھومس شینن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر میں سمجھ سکتا ہوں لیکن ہم صرف بڑے شراکت دار نہیں بلکہ پاکستان کے لیے چین میں بہت اہم اور بڑا شراکت دار ہے۔انہوں نے کہا اسلام آباد کو چاہیے کہ پاکستان میں باقی رہنے والی عسکریت پسندی پر وسطی ایشیائی ممالک کے تحفظات کو سمجھے اور انہیں دور کرے۔


ای پیپر