”بے فائدہ ہے زیست میں افراد کا ہجوم“
18 اپریل 2018 2018-04-18

میری گفت وشنید اور تبادلہ خیالات محترم ومحسن افتخار مجاز کے ساتھ ہوتے رہتے تھے کیونکہ دنیا بھر کے معاملات بشمول ، زن، زمین، زر، آخر کار باہمی مشاورت، اور دلائل سے ہی حل ہوتے ہیں۔

اِسی لیے تو میں اپنے یار کو ، صدافتخار اور عجزوانکسار سے جناب اشفاق احمد مرحوم ومغفور کے بارے میں ان باتوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جن کے بارے میں انہیں شاید آگہی نہیں، یا انہوں نے جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ قارئین کے اصرار پر جن سے میں نے رائے مانگی تھی، میں دوبارہ اُسی موضوع پہ لکھ رہا ہوں۔ میں نے یہ بھی عرض کی تھی کہ ایک انسان، کو اپنے جیسے انسان کے آگے اس طرح سے ”حالت رکوع“ میں جانے سے گریز کرنا چاہیے، گو یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ کہ ہر دینی علوم کو پھیلانے والی ہر شخصیت قابل احترام ہوتی ہے، اور خصوصی طورپر بقول پیر مہرعلی شاہ گولڑوی کہ شہرعلم کا دستِ مبارک اور دستِ شفقت ”خاتم النبیین“ کے خادمین کی پشت پر ہوتا ہے۔ میں بھی اصل میں خاصے عرصے سے لاہور، اور کچھ لاہور سے باہر مخفی اور ”دانستہ حالت ِگمشدگی“ میں پائے جانے والے مردمیدان اور مردان ملامت حضرات سے واقفیت کا شرف رکھتا ہوں، بلکہ بقول حضرت علامہ اقبالؒ

معلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں بھی

مدت ہوئی گزرا تھا، اِسی راہ گزر سے

یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار

جو فلسفہ لکھا نہ گیا خون ِجگر سے !!!

اِس دور کو کون دورِ دُوراندیشی کہے گا؟ جس کی قلعی عطاءالرحمن صاحب نے ”بی جمہوریت “نام کا مضمون لکھ کر اور ”کھول کر“ راز فاش کردیا جہاں خودستائی، خود نمائی، خودپسندی، خودرائی، خودرفتگی کے رسیا، یہ جانے اور سوچے سمجھے بغیر کہ خودی اور خدائی میں بیر ہوتا ہے، کیونکہ خدا غرور کو بالکل پسند نہیں فرماتا، کیونکہ اللہ سبحانہ‘ تعالیٰ متکبر انسان کو اِس دنیا میں ہی جھکاتا، اور سزادیتا ہے، بلکہ بزرگ تو یہاں تک کہتے ہیں، کہ سر کے بالوں سے پکڑ کر زمین پہ پٹخ دیتا ہے۔ باقی سب گناہوں کی خواہ وہ ایک سے بڑھ کر ایک ہو، اور سب جُرم قتل سے لے کر قسم توڑنے کی سزا، اللہ تعالیٰ آخرت میں دے گا، مگر ایک مغرور اور متکبر شخص کو اس دنیا میں ہی سب کے سامنے سزادیتا ہے، صرف اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر لوگ آپ کو اُس صفت کے ساتھ موصوف کردیں، کہ جوآپ کی ذات میں نہ ہو، تو اُس تعریف ِناجائز سے مغرور نہیں ہوجانا چاہیے کہ بعض اوقات ایسا عمل منجانب جاہلین ہوتا ہے۔

اکثر آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ کسی آدمی کو جب اس کی بساط اور اوقات سے زیادہ دنیا مِل جاتی ہے، تو لوگوں کے ساتھ اُس کا برتاﺅ بُرا ہوجاتا ہے۔

داستان سرائے کے داستان گو، کو جب جنرل ضیاءالحق وزیر بنانے پر تلے ہوئے تھے، تو آخر اُن کی کون سے مکتب کی کرامت نے، یہ عہدہ جلیلہ قبول کرنے سے انکار کرادیا تھا، مگر اپنے افکار سے انہیں اپنا گرویدہ بنائے رکھا، اُن کی کسر نفسی کی ایک بہترین مثال یہ ہے کہ مجھ جیسا طفل مکتب جن کی انگلی پکڑ کر پاکستان ٹیلی ویژن میں داخل ہوا تھا، ان کی خواہش تھی کہ میں وہاں اداکاری کروں، مگر میں خبریں پڑھنے پہ بضد تھا، اُنہوں نے اُس وقت کے جی ایم ، نثار حسین کو رقعہ دے کے اُن کے پاس بھیجا، اور نثار صاحب نے رقعہ پڑھ کر مجھے دوبارہ ملنے کو کہا، میںنے واپس آکر اشفاق احمد صاحب کو بتادیا، تو اُنہوں نے فوراً نثار حسین کو فون کیا اورکہا کہ مجھے بڑا تعجب ہوا ، کہ میرے بھیجے ہوئے بندے کا بھی، ایک جائز کام جسے میں نے Recommendکیا تھا، تم نے اگلی تاریخ دے کر مجھے بڑا مایوس کیا ہے، اور اس کے بعد فوراً فون بند کردیا .... بس اِس کے بعد نثار حسین صاحب نے مجھے ڈھونڈنا شروع کردیا، اور سرعام کی موجودہ ٹیم اقرار الحسن کی طرح ، جو پروڈیوسر طاہر عالم پروگرام کیا کرتے تھے ، جن کابلڈپریشر ہمیشہ 200رہتا تھا۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کرکے جناب نثار حسین کے پاس پہنچایا، تو نثار حسین نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ آپ نے اشفاق صاحب کو مجھ سے ناراض کرادیا ہے، آپ نے اچھا نہیں کیا۔ اس کے بعد جی ایم کنور آفتاب آئے، ان کو شاید ”خرابی تعلقات“ کی بھنک پڑ چکی تھی۔ لہٰذا ان کے ساتھ ”سلوک ِناروا“ کی اُمید عبث تھی، جب وہ ریٹائر ہوئے تو ان کے ساتھ میل ملاقات کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا، اور انہوں نے مجھے کہا کہ آپ تو بڑے کام کے بندے ہیں، دوران ملازمت مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہوا تھا، اور واقعی کنور آفتاب صاحب پاکستان ٹیلی ویژن کا اثاثہ تھے، وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، ایک دن عطاءالحق قاسمی کرنٹ افیئر شعبے کے سربراہ شعبہ جوخاصی گہری رنگت کے تھے، اور دبلے پتلے سے تھے مجھے ملانے کے لیے لے گئے، اور اپنا تعارف کرایا ، مگر اُنہوں نے اوپر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا، بلکہ پہچاننے سے بھی انکار کردیا ، اور اپنے کام میں مگن رہے۔ شاید اُن کے بعد میرے علاقے کے اور میرے دوست جناب ضیاءالرحمن امجد صاحب اپنے شعبے کے سربراہ بنے، جو کبھی بھی نیچے نہ بیٹھتے تھے، اور اُنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا، کہ دنیا میں ٹرمپ ، اور پیوٹن سے بھی زیادہ یہ شخص مصروف تھے، کیونکہ دنیا بھر کا رنج اُنہوں نے اپنے سر پہ سوار کررکھا ہوتا تھا، اللہ اُنہیں غریق رحمت کرے۔

اشفاق احمد مرحوم ، میرے لیے اس لیے بھی قابل اور واجب الاحترام ہیں کہ میں ان سے جب بھی درخواست کرتا، تو وہ بچوں کی سالگرہ سمیت، اگر کسی شخصیت یا کسی معزز مہمان سے ملاقات کرنی مقصود ہوتی، تو ہمیشہ شامل ہوکر میری عزت افزائی فرماتے، مثلاً ایک دفعہ جناب محمود علی، جن کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، اور جو وزیر بے محکمہ تھے، اور پاکستان حکومت نے اُنہیں تاحیات وزیر بنادیا تھا۔ میں نے ان کی حب الوطنی کے پیش نظر اُنہیں اپنے گھر دعوت پہ بلایا تھا، اور میں نے اشفاق احمد صاحب کو بھی درخواست کی کہ وہ بھی دعوت میں تشریف لے آئیں، جناب محمودعلی سے میرا تعارف جناب ظہور عالم شہید صاحب نے کرایا تھا۔ ظہورعالم شہید جیسے بزرگ صحافی، ادیب اور نامور شخصیت ہماری صحافیانہ وادیبانہ تاریخ کا درخشاں وتابندہ نام ہیں، مجھے فخر ہے کہ شبیر صاحب میرے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار فرماتے تھے، مثلاً ایک دفعہ ان کے گھرمنعقدہ ایک شادی کی تقریب میں انہوں نے اپنے مہمانان خاص کو خوش آمدید کہنے، الوداع کہنے اور دیکھ بھال کرنے کا حکم دیا تھا۔

بہرکیف جب جناب محمودعلی صاحب میرے گھر تشریف لائے، تو اشفاق احمد صاحب نے ان کو اپنی گفتگو اور بنگلہ دیش کے بارے میں اپنے ذخیرہ ِعلم ومعلومات سے اس قدر متاثر کیا کہ کہنے لگے ، میں حیران ہوں، بلکہ یہ جان کر پریشان ہوگیا ہوں کہ آپ کو تو مجھ سے بھی زیادہ مشرقی پاکستان کے بارے میں معلومات ہیں۔ایک انسان میں تمام خوبیوں کا یکجا ہونا، ناممکن ہے، غیب گوئی کسی کی بھی کی جاسکتی ہے۔ خدا ہرمسلمان کو ناگہانی، اور اچانک، افتاد، اور بُری خبر سے بچائے، اگر ایک ایسے شخص کو جس نے کبھی رزق حرام نہ کمایا ہو، اس کو اگر اچانک ملازمت ختم کردینے کی ”نوید“ سنا دی جائے، تو شاید آپ کا اور ہمارا ردعمل بھی تو کل کے باوجود ایسا ہی ہوتا، حضرت امام جعفر صادق ؓفرماتے ہیں کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا ہے، اور بہت سی عبادات ایسی ہیں، کہ جن کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرمسلمان کو برے وقت سے بچائے، کیونکہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ میرے سمیت ہرمسلمان اپنی عبادت، ریاضت کے زورپر نہیں محض اپنی رحمت کے صدقے بخش دے گا۔


ای پیپر