سعید چوچاکا سیاسی تجزیہ
18 اپریل 2018

وہ اچھا بھلا سعید تھا۔سائیکل پر پنجرہ رکھ کے چوزے بیچنے لگا تو سعیدچوچہ مشہور ہو گیا۔پرانے محلے میں سبھی اسے سعید چوچا ہی کہتے ، حالانکہ اب صحت کے لحاظ سے وہ کوئی چوزہ نہیں بلکہ پہلوان دکھائی دیتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک وہ سری پائے کا ناشتہ لگاتا تھا۔ دوپہرایک بجے تک وہ یہی کام کرتا پھر شام تک تاش کھیلنا اس کا محبوب مشغلہ ہوتا تھا،۔اگلے روز میں نے ایک عرصے بعد اسے دیکھا تو قدرے حیرت ہوئی وہ تربوز کی ریڑھی لگائے ہوئے تھا۔میرے دریافت کرنے پراس نے بتایاکہ سری پائے کا کام تو
کمال کا تھا مگر اباجی نے وہ چھوٹے بھائی کو دے دیاہے ،میں کوئی نیا تھڑا تلاش کر رہاتھا کہ میرے چاچے نے تربوز کا ٹرک اتروالیا تو مجھے بھی مجبوراََ تربوز کی ریڑھی لگانی پڑگئی ہے۔کیا کریں چاچے نے مجھے اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے ، اس نے شادی نہیں کی ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے ،خاندان میں سبھی اس کی عزت کرتے ہیں۔میں نے بھی اس کی خوشی کی خاطر ریڑھی کرائے پر لی اور اس کے تربوز بیچنے لگا ہوں،ذاتی طور مجھے اس کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ منہ نہار پہلے خود تربوز کا ناشتہ کرتا ہوں اور پھر ریڑھی لے کر نکل پڑتا ہوں۔بس جی بڑوں کی ماننا پڑتی ہے ۔چل پھر کر سودا بیچنے کا بھی اپنا مزہ ہے۔
” تو کیسے جارہے ہیں تمہارے تربوز؟“
میں نے پوچھا تو وہ بے تکان بولنے لگا : ” باﺅ جی! گرمی شروع ہو گئی ہے بس یہ سمجھوتربوز کا کام بھی ابھی شروع ہوا ہے پر فی الحال تربوز اچھا خاصا مہنگا ہے۔میں اسی روپے کلو بیچتا ہوں ۔ میں سیاسی کارکن ہوں مجھے پتا ہے یہ قیمت عام بندے کی پہنچ سے دور ہے ۔ ابھی تو میرے گاہک کاروالے حضرات ہیں۔ وہی پانچ چھے کلو کا ایک یا دو تربوز لیتے ہیں۔باﺅ جی ! عام بندہ تو اب تربوز بھی نہیں کھا سکتا ۔مہنگائی نے مت مار رکھی ہے۔ایک زمانے میں ہم پانچ پانچ روپے کے تگڑے تربوز لے کرنہر پر نہانے جایا کرتے تھے۔پر وہ چنگے دن تھے۔نہر کے پانی میں پہلے ہم تربوز سے کھیلتے جب وہ ٹھنڈا ہو جاتا تو اسے توڑ کر کھاتے۔ پر اب وہ سارے دن خواب کی طرح لگتے ہیں۔آپ کی طرح ایک پروفیسر صاحب میرے پاس آتے ہیں اور روزانہ ایک تربوز لے کر جاتے ہیں مگر خریدتے وقت ساتھ ساتھ مجھے لیکچر بھی دیتے جاتے ہیں۔انہیںمیری نیت پر شک ہی رہتا ہے۔ ان کو یہ وہم ہے کہ میں نے ان تربوزوں کو سکرین کے ٹیکے لگائے ہوئے ہوں گے۔میں انہیں روزانہ سمجھاتا ہوں کہ میرے چاچے نے تربوزوں کا سالم ٹرک خرید رکھا ہے۔ہم نے مال سندھ سے منگوایا ہے۔ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ پہلے تربوز کو ٹیکے لگاتے پھرےں۔پر انہیں یقین کم ہی آتا ہے۔ویسے یہ مال سچا ہے سر جی ایک آدھ کو ” ٹک“ لگاﺅں آپ کے لئے ، یہ دیکھیں ( وہ تربوز کو چیر کر دکھانے لگا)لے جائیں، بچے خوش ہو کر کھائیں گے گرمی کا واحد توڑ تربوز ہے ،کئی بیماریوں کا علاج بھی ہے ۔بہت سرخ تو نہیں مگر مٹھاس بہت ہے،میں نے بتایا ناں کہ میں خود روزانہ اس کا ناشتہ کرتا ہوں ۔ یہ میں نے آپ کے لئے بڑے شاپر میں ڈال دیا ہے اور سنائیں جی بڑے دنوں بعد نظر آئے ہیں ، محلہ چھوڑ کر تو آپ عید کا چاند ہوگئے ہیں ۔ سنائیں جی کیا ہورہا ہے؟ “ اس نے ذرا سا توقف کیا تو میں نے کہا:
” بس وہی پرانی مصروفیات ہیں،تم سناﺅ تمہاری سیاست کا کیا حال ہے۔کیا اب بھی محلے میں سیاسی جماعت کا دفتر بنایا ہوا ہے یا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے؟“
” نہیں جی! سیاست سے باز آنا تو مشکل ہے ویسے بھی ہم کارکن لوگ ہےں ہم نے کون سا ہر وقت سیاست کرنی ہوتی ہے ۔ مزدوری بھی تو کرنی ہے جی“۔
” اچھا اپنے حلقے میں مسلم لیگ نون کا سناﺅ؟ “ میں نے اس کی رائے پوچھی تو وہ بولا:”کیا سناﺅںسر جی! جب ویہلے ہوتے تھے تو حلقے میں ہم کئی دفاتر چلاتے تھے ،بڑی عزت بھی ملی مگر اب گھر داری کے لئے بھی وقت نکالنا پڑتا ہے ۔باقی مسلم لیگ کے بارے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے لےے آزمائش کے دن ہیں۔میرا تجربہ کہتا ہے اگلے جمعے تک میاں نواز شریف اندر سمجھو۔اگلے جمعے تک.... میں نے جمعے پر زور دیا تو وہ مسکرا کر بولا! میاں صاحب کے بارے میں فیصلے جمعے کو ہی ہوتے ہیں۔حالات بتا رہے ہیںکہ میاں نواز شریف کو سزا ہو گی اور انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔اگر میاں صاحب گرفتار ہوتے ہیں اور کارکن احتجاج کرتے ہیں یعنی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو سمجھو الیکشن دی اینڈ۔۔۔نگران قومی حکومت ٹائپ ” سرکار “بنا دی جائے گی اور پہلے سب کا احتساب ہو گا۔اسی لےے تو کہہ رہا ہوں کہ کارکنوں کے آزمائش کے دن آرہے ہیں“۔
مگر تمہیں احتساب سے کیا ڈر ہے؟ میرے پوچھنے پر وہ بولا :” مجھے کیا ڈر ہونا ہے سرجی! میں نے تو پھر بھی تربوز لگاکر یا سری پائے کا ناشتہ لگا کر روٹی کمانی ہے پر پھر بھی پارٹی کے ساتھ اتنے عرصے سے ہیں۔لیڈر کو تکلیف ہو تو کارکن خوش تو نہیں رہ سکتا۔الحمدللہ سعید کارکن ہے۔ہم نے کبھی خود کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، محنت مزدوری سے روزی کمائی ہے۔ مگر علاقے کا کوئی جوان بچہ بے روزگار نہیں رہنے دیااورکچھ نہیں تو قرضہ ضرور منظور کرا کے دیا ہے۔کچھ بچیوں کی شادیاں بھی کرائی ہیں۔سڑکیں گلیاں تو پہلے ہی پکی ہیں۔البتہ بجلی کا مسئلہ کچھ لٹک گیا ہے۔ابھی بھی ہمارے اپنے حلقے میں کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔بطور کارکن میاں صاحب سے بھی گزارش کروں گا کہ آپ کا دامن اگر صاف ہے تو آپ کو کیا ڈر ہے۔پھر جیلیں بھی تو لیڈر ہی کاٹتے ہیں۔اگر ” شہنشاہی “ عیش وآرام دیکھا ہے تو ذرا یہ جیل کا لطف بھی چکھنا چاہےے۔کیا خیال ہے سر جی!“
” ہاں وہ تو ٹھیک ہے ،یہ بتاﺅاگر الیکشن ہوتے ہیں تو تمہارے حلقے میں مسلم لیگ ن جیت جائے گی؟“ میں نے دوبارہ سوال کر دیا ۔سعید سوچ میں پڑ گیا۔ پھر ممیائی انداز میں بولا: ” کوشش تو ہو گی مگر اللہ اور سرکاری کاموں کے بارے کیا رائے دے سکتا ہوں ۔اصل میں میاں صاحب خود تو بڑے نستعلیق انسان ہیں ،پر یہ بیٹیاں بڑی ” ڈاہڈی “مخلوق ہوتی ہیں جی، اوپر سے یہ دانیال ،طلال اور سعد رفیق جیسے رفیقان بھی زبان کا بے لگام استعمال کرتے ہیں ،اب ذرا پنگا مختلف ہے ، لہٰذا حتمی رائے دینے سے قاصر ہوں ۔ تربوز کے اندر جھانک کر تو نہیں دیکھا جا سکتا کہ یہ لال ہے یا نہیں ۔ بس اب چیرا دینے پر ہی پتہ چلے گا کہ انتخاب ہوتے ہیں یا نہیں اور ان کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔


ای پیپر