ہم ایسا کرسکتے ہیں…
17 ستمبر 2020 (10:45) 2020-09-17

نوّے سال کیا کم ہوتے ہیں۔ نوے سال میں انسان تجربات اور حوادث کی شکل میں بہت کچھ دیکھ پاتا ہے۔ اس بوڑھی امّاں کو بھی قدرت نے نوّے سال کی عمر میں بے شمار تجربات سے نوازا تھا۔ چہرے کی جھریوں میں واضح طور پر زندگی کے وہ تمام نشیب و فراز نظر آرہے تھے جن سے وہ گزری تھیں۔ ایک خستہ حال گھر کے اندر جس چارپائی میں وہ پڑی تھیں بھی زندگی کے بوجھ سے تنگ آچکی تھی۔ گھر کے اندر گھریلو استعمال کی چیزیں بوسیدہ ہو کر بکھری پڑی تھی ۔ بوڑھی امّاں صرف ایک بات کر رہی تھی ' پوری زندگی مصائب اور مشکلات میں گزری اب کوئی خواہش نہیں بس موت ایمان کے ساتھ ہو تو یہ اللہ کا بڑ ااحسان ہوگا '۔

 سامنے پڑے دو جوان جسم جن کے بارے میں عام طور پر معاشرہ یہی موقف رکھتا ہے کہ کمائیں گے اور رشتہ داروں کو کھلائیں گے لیکن وہ دونوں معذور تھے اور اس جلدی میں تھے کہ کب زندگی کے بوجھ سے ہی آزاد ہوجائیں۔ بوڑھی امّاں بس کسمپرسی کا جیتا جاگتا نمونہ تھی۔ میرے لئے گھر سے نکلنے میں بہتری رہی مزید ٹھہرتا تو شائد زندگی میرے لئے بھی بار بن جاتی۔ وجہ جس کی یہ تھی کہ ذہن شدید تناؤ کی طرف گامزن تھا۔ میرے سامنے غربت اور محرومی ناچ رہی تھی حیرت بس یہ تھی کہ سماعتوں میں ابھی کچھ ہی دیر پہلے ایک آواز آئی تھی کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔ مزید حیرت بھی بجا تھی کیونکہ یہاں اس قیامت کا سامنا کرنے سے پہلے میری بصارتوں سے خبریں گزری کہ پاکستان میں اب بری معیشت کا رونا کوئی نہیں روئے گا۔

آپ کو پتا ہے بوڑھی امّاں جیسے انسان ایک نہیں دو نہیں بلکہ لاکھوں کروڑں سے بھی بڑھ کر ہیں جن کے بارے میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں سے لے کر انسانی بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں تک کسی کو علم ہے نہ کوئی فکر۔ انسان اور چہرے مسلسل بدلتے رہتے ہیں لیکن جو تعداد میں دن بہ دن بڑھ رہے ہیں ان کی طرف کسی کی توجہ بالکل نہیں جارہی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک عام آدمی جو مڈل کلاس میں ہو اس محروم طبقے کے لئے کیا کرسکتا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے ایک بیمار نوجوان سے میری ملاقات ہوئی جس کے بائیں آنکھ میں ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اپنی ماں کے ساتھ اذیت بھری زندگی گزار رہا تھا۔ اذیت یہ نہیں تھی کہ یہ نوجوان دیہاڑی دار تھا بلکہ اذیت یہ تھی کہ بائیں آنکھ کی یہ معذوری سخت کام میں خلل ڈال رہی تھی۔ ہماری خواہش تھی کہ کسی طرح اس کا علاج ہوسکے لیکن ڈاکٹروں کا یہ مشورہ تھا کہ اس آنکھ کو اگر مزید چھیڑا گیا تو اور بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ ہم نے سوشل میڈیا پر اس کے ساتھ پروگرام کیا جس میں عام لوگوں سے مدد کی درخواست کی۔ کچھ ہی دنوں میں اچھی خاصی رقم جمع ہوئی جس کو استعمال میں لاتے ہوئے ہمارے مشورے پر اس نوجوان نے اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ میں کچھ مہینوں بعد گیا تو دکان میں خریداروں کا رش دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ وہ بھی کافی خوش تھا اور کہہ رہا تھا سارے قرضے ختم کرچکا ہوں اپنا اور اپنی ماں کا علاج بھی کر رہا ہوں اور زندگی کی ضروریات کے لئے اب کسی کا مختاج بھی نہیں ہوں۔ 

 آپ کو پتا ہے انسان فطری طور پر چاہتا کیا ہے بس دو وقت کی روٹی ' جسم ڈھانپنے کے لئے چند گزکا کپڑا اور ان دونوں چیزوں میں لپٹی وہ عزت جو جانور کو بھی عزیز ہوتی ہے لیکن ہماری مظبوط ہوتی معیشت میں بے شمار ایسے انسان اب بھی ان تینوں چیزوں کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ 

ایک اٹل حقیقت یہ ہے کہ محرومی انسانی معاشروں کو کوکھلا بنادیتی ہے ہمارا مگر شدید المیہ یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں۔ آپ نے کرونا کرائسز میں دیکھا ہوگا کہ بھوک اور پیاس کے ڈر نے اچھے بھلے انسانوں کوچیخنے پر مجبور کیا۔ جہاں بھی لاک ڈاؤن کا تجربہ کیا گیا وہاں سفید پوش طبقے سے لے کر دیہاڑی دار طبقے تک سب نے اشیائے خوردونوش کے لئے آواز بلند کی۔ چند مہینوں کے اس بحران اور لاک ڈاؤن نے بے شمار تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا۔ امید یہ تھی کہ ان حالات کے بعد صاحب ثروت لوگ یہ احساس پوری زندگی پلّے باندھ لیں گے کہ جن حالات کا سامنا ہم نے تھوڑے وقت کے لئے کیا ان حالات میں بے شمار لوگوں کی پوری زندگی گزر گئی اسی لئے اب آگے سے ہم ان کا بھرپور خیال رکھیں گے ایسا مگر نہ ہوسکا۔ 

اشرافیہ معیشت کا راگ الاپتی رہی اور مڈل کلاس نے سوچا تین مہینوں سے زیادہ کاروبار بند پڑا تھا اب کیوں نہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ نقصانات کا ازالہ کیا جائے اسی لئے وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش میں لگ گئے پیچھے رہ گئے وہ جن کو ہمیشہ بس یہی امید رہی کہ ایک دن آئے گا جب کسمپرسی اور بیماریوں کے روگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔ 

انفرادی طور پر ہم اپنی کمائی میں تھوڑا سا ان لوگوں کو اس نیت سے دے سکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنا کاروبار شروع کریں گے۔ کاروبار ان کی زندگی بدل سکتا ہے۔ میں نے بے شمار ایسے چھابڑی فروش دیکھے ہیں جن کو غربت کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا تھا لیکن پھر جیسے ہی اپنا کاروبار صفر سے شروع کیا ان کی زندگیاں بدل گئیں۔ 

ہم میں سے بے شمار ایسے ہیں جن کی تنخواہوں کا زیادہ تر حصہ غیر ضروری کاموں میں صرف ہوتا ہے۔ آپ یقین کریں مہینے بھر کی تنخواہ میں اگر اس محروم طبقے کا تھوڑا سا بھی حصہ مستقل بنیادوں پر رکھا جائے تو ہماری معیشت خود بخود ٹھیک ہوجائے گی۔ اس کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ یہ ہم اللہ کو قرض دے رہے ہیں جس کے لیے میکینزم انتہائی آسان ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اگر اپنے پڑوس سے اس کی کام کی شروعات کرے تو محلے سے ہی اس خوشحالی کا آغاز ہوسکتا ہے۔ 

میرے پاس بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے مال میں دوسروں کا حصہ کیا ہے ان کے مال میں برکت آئی ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں آسانیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ 

ہم ایسا کرسکتے ہیں بس صرف ہمت اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے کیوں نہ ابھی سے اس کام پر سوچنا شروع کریں۔


ای پیپر