میرے کپتان اب بھی وقت ہے
17 ستمبر 2020 (10:12) 2020-09-17

وزیراعظم عمران خان اپنی کتاب،،میں اورمیراپاکستان،،میں اپناایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1984میں وفات سے قبل میری ماں اذیت کے دن جیتی رہیں۔میں ڈاکٹرسے مشورہ کرنے ایک دن میوہسپتال گیا۔ میں کمرہ انتظارمیں تھا۔جب ایک بوڑھاآدمی اندرداخل ہوا۔اس کے چہرے پربہت بے چینی تھی۔تکلیف سے ستاہواچہرہ،یہ تاثرمیرے لئے عجیب بہرحال نہ تھا۔پچھلے کئی ماہ سے میرے والد،میری بہنیں اورخودمیں اسی حال سے دوچارتھے۔بوڑھے آدمی کے ہاتھ میں کاعذکاایک ٹکڑاتھااوردوسرے میں کچھ دوائیں۔چونکہ وہ خودپڑھ نہ سکتاتھالہٰذااس نے سب چیزیں ڈاکٹرکے نائب کوتھمادیں کہ جانچ لے۔اسے بتایاگیا کہ ایک دواکم ہے۔''کتنے میں آئے گی۔؟"رنجیدہ آدمی نے پوچھا۔قیمت بتائی گئی تواداس چہرے پرمایوسی اورناامیدی گہری ہو گئی۔ کچھ کہے بغیروہ مڑااورباہرنکل گیا۔میں نے پوچھاکہ مسئلہ کیاہے۔؟بتایاگیاکہ نوشہرہ کایہ پشتون بزرگ اپنے کینسرمیں مبتلابھائی کویہاں علاج کے لئے لایاہے۔ہسپتال میں کوئی بسترخالی نہیں ۔اس لئے برآمدے میں پڑاہے۔بوڑھاقریب ہی ایک زیرتعمیرعمارت میں محنت مزدوری کرتاہے اورباقی وقت اپنے بھائی کی دیکھ بھال ۔میوہسپتال میں علاج مفت ہوناچاہیئے کہ سرکاری ہسپتال ہے مگر مریضوں کو دوائیں اکثر اپنی جیب سے خریدناپڑتی ہیں ۔  عمران خان آگے مزیدلکھتے ہیں کہ ایک میں اورمیراخاندان تھا۔تمام تروسائل بروئے کارلانے کے باوجودہم پریشان کن کیفیت سے دوچار تھے۔پھرمیں مسلسل اسی ایک بات پرسوچتارہا ۔اس غریب آدمی پرکیاگزررہی ہوگی ۔میں ایک طرف،،میں اورمیراپاکستان،،میں وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں کے سامنے ایک غریب کے ساتھ ہونے والا یہ واقعہ پڑھتاہوں اوردوسری طرف جب اسی عمران خان کی حکمرانی میں آج نہ صرف لاہورکے اس میوہسپتال بلکہ لاہورسے کراچی،کوئٹہ سے گلگت،پشاورسے سوات اور کاغان سے چترال تک پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی  1984سے بھی بدسے بدترحالات اورانتظامات کودیکھتاہوں تومیرے دل کی دھڑکنیں تیزاورہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔سونے کا چمچہ منہ میں لیکرپیداہونے والے غریبوں کادکھ اور درد کیا جانیں۔۔؟ وزیراعظم عمران خان جن کا بلڈپریشر اورشوگرلیول بھی آج وی آئی پی ہسپتالوں میں چیک ہوتاہوگاانہیں کیاپتہ۔۔؟کہ اس ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں آج غریبوں پر کیا گزر رہی ہوگی یاکیابیت رہی ہے ۔۔؟جن کااپناعلاج شفاء انٹرنیشنل اورقائداعظم انٹرنیشنل جیسے ہسپتالوں میں ہو۔انہیں توشائد آج یہ بھی یادنہیں ہوگا کہ اس ملک میں سرکاری ہسپتال بھی کہیں ہے یا نہیں۔،، میں اورمیراپاکستان،،میں عمران خان کایہ واقعہ پڑھ کرہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ماں جی کی 

بیماری کے دوران میوجیسے سرکاری ہسپتالوں سے واسطہ پڑنے کے باعث وزیراعظم صاحب کواچھی طرح اندازہ اوربخوبی علم ہوگا کہ ان ہسپتالوں میں غریب عوام کے زخموں پرمرہم رکھنے کے لئے کیا ہے۔۔؟یاان ہسپتالوں میں غریبوں کے ساتھ کیاکچھ ہوتاہے۔۔؟ مگرآج ان سرکاری ہسپتالوں کی یہ حالت دیکھ کرمحض گمان نہیں بلکہ یقین ہورہاہے کہ کپتان کوکتاب لکھنے کے بعدکچھ یادرہاہے اورنہ اب انہیں کچھ یادکرنے کی کوئی ضرورت ہے۔ کیونکہ غریبوں کادکھ اور درد غریب ہی جانیں۔عمران خان کی غریبوں سے ہمدردی شائد میوہسپتال تک محدودتھی۔ آج جب عمران خان کا خود میو ہسپتال سے کوئی لینادینانہیں۔ ایسے میں انہیں نوشہرہ کے اس پشتون جیسے غریب کہاں سے یاد آئیں گے۔۔؟نوازشریف اورآصف علی زرداری نے شائدکہ وزیراعظم عمران خان کی طرح علاج معالجے کی غرض سے ان سرکاری ہسپتالوں میں عمران خان جتنے دھکے نہ کھائے ہوں ۔لیکن اس کے باوجودنوازاورزرداری جن کوآج تحریک انصاف والے اٹھتے بیٹھتے چوراورڈاکوکہتے ہوئے نہیں تھکتے۔ان چوروں اورڈاکوئوں نے پھربھی اپنے اپنے ادواراوراقتدارمیں ان سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کے لئے بھرپوراقدامات اٹھائے۔حق اورسچ تویہ ہے کہ نوازشریف اوران کے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے غریب عوام کوعلاج معالجے کی بہترسہولیات کی فراہمی کے لئے نہ صرف پنجاب کارڈیالوجی جیسے تاریخی ہسپتالوں کاقیام عمل میں لایابلکہ پہلے سے موجودسرکاری ہسپتالوں میں بھی عوام کومفت ادویات اوردیگرسہولیات کی فراہمی کے لئے ہرممکن کرداراداکیا ۔ جس نوازشریف اورشہبازشریف کو یہ طعنے دیئے جارہے ہیں کہ ان کااپناعلاج امریکہ اورلندن میں ہوتاہے۔انہوں نے توعوام کے لئے نہ صرف ہسپتالوں پرہسپتال بنائے بلکہ صحت کانظام بھی بہترسے بہترکیالیکن اس کے برعکس جوکپتان کل تک میوہسپتال کولیکرغریبوں کا رونا روتے رہے انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلاوارہی ان سرکاری ہسپتالوں کوتباہ کرنے کے لئے کیا۔1984 نہیں آج میوہسپتال میں غریبوں کے ساتھ کیاہوتاہے۔۔؟یاپشاورکے لیڈی ریڈنگ یاایبٹ آبادکے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں علاج معالجے کے لئے آنے والے غریب کس کرب اوراذیت سے گزرتے ہیں میرے کپتان کوآج اس کابھی کوئی اندازہ ہوگااورنہ ہی کوئی پتہ۔چاہئے تویہ تھاکہ اقتدارمیں آتے ہی وزیراعظم عمران خان1984 میں والدہ کی بیماری کے دوران سرکاری ہسپتالوں میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات ،حادثات اورحالات کوسامنے رکھتے ہوئے ان ہسپتالوں میں ایسی اصلاحات لاتے کہ ان ہسپتالوں میں پھرکسی پشتون،پنجابی،سندھی اوربلوچی کواس پشتون کی طرح اذیت،پریشانی اورکسی مشکل کاپھرکوئی سامنانہ کرناپڑتا۔مگرافسوس عمران خان نے اقتداراورحکومت ہاتھ لگنے کے بعداصلاح کی بجائے تباہی کاپہلاوارہی ان سرکاری ہسپتالوں پر کیا۔ مانا کہ میوہسپتال سمیت پورے ملک میں ان سرکاری ہسپتالوں کی حالت پہلے سے ہی خراب تھی۔مہنگے ٹیسٹوں کے ساتھ مہنگی ادویات کے لئے بھی غریبوں کوبا ہر دوڑایا جاتا تھا۔ مگرانتہائی معذرت کے ساتھ اتنی بھی خراب نہیں تھی جتنی آج ہے۔ عمران خان کی اس حکمرانی میں آج سرکاری ہسپتالوں کاجوحال ہے ایساحال توان ہسپتالوں کا1984میں بھی نہیں ہوگا۔عمران خان کا اگر ان سرکاری ہسپتالوں سے کوئی واسطہ نہ پڑتا۔ تو واللہ ہم اوروں کی طرح کپتان سے بھی ہسپتالوں اور طبی سہولیات کے بارے میں کوئی گلہ نہ کرتے مگر افسوس ہمیںیہ ہے کہ ایک بندہ اپنی آنکھوں سے ایسے حالات دیکھیں۔پھربھی اختیارملنے کے بعدوہ ایسے حالات پر آنکھیں بندکرکے چین کی نیند سوئیں۔ہمارے نزدیک ایسے نام نہادغم خواروں کوپھرمفت میںغریبوں سے ہمدردی کاچورن بیچنے کاکوئی حق اورتک نہیں بنتا۔میوہسپتال میں بھائی کے علاج کے لئے دربدرپھرنے والے پشتون کے آنسواگرعمران خان کے دل ودماغ پراس قدر اثر انداز ہوگئے تھے کہ ،،میں اورمیراپاکستان،،کے اوراق بھی ان آنسوئوں سے ترہوئے بغیرنہیں رہ سکے۔ توپھروزیراعظم بننے کے بعدعمران خان کوکم ازکم اس غریب پشتون کے ان بہتے آنسوئوں کی لاج تو ضروررکھنی چاہیئے تھی۔عمران خان کی حکمرانی سے پہلے سرکاری ہسپتالوں کے اندر غریبوں کومفت ادویات کے ساتھ فری ٹیسٹ وغیرہ کی سہولیات بھی ملتی تھیںلیکن جب سے اس ملک میں خان کی حکومت آئی ہے اس کے بعدسے سرکاری ہسپتال بھی غریبوں کے لئے بیگانے بیگانے سے ہوگئے ہیں۔پہلے چور اور ڈاکوئوں کی حکمرانی میں ملک کے اندرنہ صرف کینسرکے مریضوں بلکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور داخل عام مریضوںکوبھی مفت ادویات ودیگرطبی سہولیات ملتی تھیں لیکن جب سے خان نے اقتدارسنبھالاہے یہ چیزیں خواب بن کررہ گئی ہیں۔ ایم ٹی آئی کے نام پرسرکاری ہسپتالوں کے ساتھ جوکھیلواڑکھیلاگیاہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔دکھ اوردردکاجولمحہ، وقت اورموقع دل ودماغ پرنقش ہوتاہے وہ پھرمرنے تک یاد رہتا ہے۔ میوہسپتال کاوہ منظریقینناًآج بھی وزیراعظم کے سامنے ہوگا۔اگرنہیں توکپتان کواپنی حکمرانی میں کم ازکم ایک باراپنی کتاب کامطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ ہم مانتے ہیں کہ کپتان بدل بہت بدل گئے ہیں لیکن نہ غریب بدلے ہیں اورنہ ہی کپتان کی حکمرانی میں غریبوں کے حالات کچھ بدلے ہیں۔اس ملک میں آج بھی غریبوں کی حالت 1984والی حالت سے کچھ مختلف نہیں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی ضروریات وسہولیات کے لئے اس ملک میں آج بھی غریب سڑکوں پرمارے مارے پھررہے ہیں۔ آج اس ملک میںکپتان کی حکومت ہے۔ اب بھی اگرعمران خان نوشہرہ کے اس پشتون جیسے ان غریبوں کے لئے کچھ نہیں کرسکے توپھرکب کریں گے۔۔؟اقتدارسے باہرتوپوری دنیاان غریبوں کے لئے لڑتی اورمرتی ہے۔ 


ای پیپر