مقدمات کا بوجھ کیسے کم ہو ؟
17 ستمبر 2020 (10:11) 2020-09-17

سیاسی مقدمات کا بڑھنا ہر دور میں عام شہریوں کے مقدمات پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ ہر چیف جسٹس اس امید کے ساتھ آتا ہے کہ وہ اپنا دور ختم ہونے تک عدالت عظمی اور ماتحت عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ کم کریں گے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے کو پہلے عہدے سے ہٹایا پھر ان کی پنشن بند کر دی۔انہوں نے تبدیلی سرکار کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے مخالفوں کے خلاف مقدمات بنائو۔  2018الیکشن کا سال تھا اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنے دعوے کے باوجود سپریم کورٹ میں مقدمات کا دبائو کم نہ کر سکے ان کے عہدے پر آخری مہینوں میں سیاسی مقدمات کا بڑا دبائو تھا۔ان کے عہد میں میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ پانامہ کی بجائے نواز شریف کو اقامہ رکھنے پر وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا، پھر صادق اور امین کی تشریح کرتے ہوئے تاحیات نا اہل کا فیصلہ بھی چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ نے سنایا۔ اس کے بعد نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی سے بھی فارغ ہونا پڑا۔ مگرسیاسی مقدمات کی بھرمار میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کم از کم سپریم کورٹ میں مقدمات کم نہ کر سکے کے ان کے عہد کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں 38 ہزار 589 کیسز جب کہ ہائی کورٹس میں دو لاکھ 947 کیسز التوا کا شکار تھے ۔اپریل 2020 تک سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 44 ہزار 462 تھی ۔اب سپریم کورٹ اور لا اینڈ جسٹس کمیشن نے ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تفصیل جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 45 ہزار سے زائد 

ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ میں ایک لاکھ 88 ہزار 411 مقدمات زیر التوا ہیں جب کہ سندھ ہائی کورٹ میں 84 ہزار 341 مقدمات زیرالتوا ہیں، پشاور ہائی کورٹ میں 38 ہزار 464 مقدمات کے فیصلے ہونا باقی ہیں۔بلوچستان ہائی کورٹ میں سائلین 5 ہزار 313 مقدمات کے فیصلے سننے کے منتظر ہیں جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 15 ہزار847 مقدمات زیرالتواہیں۔پنجاب کی ماتحت عدلیہ میں 12 لاکھ 87 ہزار121 مقدمات زیرالتوا ہیں۔ کچھ ایسے مقدمات اچانک نمودار ہوتے ہیں اور یہ مقدمات نیچے سے اوپر تک عدالتوں کو متاثر کرتے ہیں جیسا کہ موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ جو سانحہ پیش یا۔ اس سے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار نے بھی اس پر روشنی ڈالی اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاتون ابھی تک منظر عام پر نہیں آرہی ہے ۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے فون کرنے کے باوجود پنجاب حکومت کے ترجمان نے افسوس کے ساتھ کہا ہے کہ ابھی تک خاتون نے پنجاب حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ مگر یہ حقیقت ہے حکومت ابھی تک کون سا تیر مار چکی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سی سی پی او کے جس بیان نے حکومت کو پسپائی اختیار پر مجبور کیاتھا اب وزیراعظم صاحب اسی پولیس افسر کے حق میں کھل کر بیان دے رہے ہیں پولیس میں سیاسی مداخلت کا روگ 73 سال پرانا ہے۔ انصاف کے ایوانوں میں بھی یہ مداخلت بڑی صاف نظر آتی رہی ہے۔ 

عمران خان کی صدارت میں ہونے والی اجلاس کی کارروائی ایک اخبار نے چھاپی ہے ۔وزیرِ اعظم عمران خان نے آئی جی پنجاب انعام غنی کو سی سی پی او عمر شیخ کو سپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ نواز شریف کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جو فیصلہ سامنے یا اس سے یہ معاملہ اوپر والی عدالتوں میں جائے گا۔ میاں نواز شریف کی جانب سے دائر درخواستوں کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔اور ان کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع ہونے والی ہے۔اشتہاری کا لفظ تو جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ ججتا ہے۔ مگر سپہ سالار اور سابق وزرا کے ساتھ اچھا نہیں لگتا مگر قانون کی زبان میں یہی لفظ ہے۔ 

مگر ہمارے سابق وزیر اعظم ایسے اشتہاری ہونے جا رہے ہیں جن سے تو نہ برطانیہ کو خطرہ ہے اور نہ کسی اور کو وہ ایسے اشتہاری ہیں ان کے نام پر آج بھی پاکستان کی ایک مقبول جماعت ہے۔ آج کل اشتہاریوں کا چرچا ہو رہا ہے 15 ستمبر کی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بھی اشتہاری سابق صدر پاکستان کا ذکر کیا۔خواجہ حارث نے نواز شریف کے حق میں دلیل دی۔ سوال تھا کہ کیا مشرف اشتہاری ہوتے ہوئے کوئی درخواست دائر کر سکتے ہیں؟ یہاں تو ہماری درخواست بھی پہلے دائر اور وکیل بھی پہلے سے موجود ہے۔ وہ ایک اور دلیل لائے۔ سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تو اشتہاری ہوتے ہوئے بھی مشرف کو سنا۔ مشرف دور میں جسٹس قیوم کا جو ٹیپ سکینڈل آیا تھا اس میں جسٹس قیوم کی جانب سے سزا معطل ہوئی تھی اور کوٹیکنا کیس کی زیرو سے سماعت ہوئی تھی۔ اسلام باد ہائی کورٹ نے نیب کے وکیل کا موقف مان لیا ہے مگر مریم نواز اس پر دہائی دے رہی ہیں اور ارشد ملک کا نام لے کر سوال اٹھا رہی ہیں ۔۔قاضی فائز عیسیٰ کے کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد نظرثانی کی اپیلوں کادور چلے گا۔ پاکستان بننے سے لے کر آج تک سیاسی مقدمات کم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔


ای پیپر