مشترکہ بے غیرتی!
17 ستمبر 2020 2020-09-17

یہ شاید 1997ءکی بات ہے۔ اُن دنوں پوری لاہور پولیس کے انچارج کو ایس ایس پی لاہور کہا جاتا تھا، ایس پی ٹریفک جسے اب ”سی ٹی او“ کہا جاتا ہے، وہ بھی ایس ایس پی کے ماتحت ہوتا تھا، ایس ایس پی لاہور کے اِس عہدے کو اب ”سی سی پی او لاہور“ کہا جاتاہے، جس کے ماتحت کئی ڈی آئی جی، کئی ایس ایس پی، کئی ایس پی ہیں، جتنے زیادہ عہدے ہیں کرائم بھی اُتنا زیادہ ہے، بے شمار پولیس افسران خود کرائم کرواتے ہیں، اِس حوالے سے اب رینکرز اور پی ایس پی میں کوئی خاص فرق نہیں رہا، کسی ایس پی یا ایس ایچ او کے علاقے میں کسی وجہ سے کرائم کنٹرول ہو جائے وہ وہاں سے اپنا تبادلہ کرواکر ایسے علاقوں میں جانا چاہتے ہیں جہاں کرائم زیادہ ہو، تاکہ کمائی زیادہ ہو، اس لیے کرائم رکنے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے، .... خیر یہ ایک الگ داستان ہے، میں 1997میں لاہور میں تعینات ایس ایس پی کی بات کررہا تھا، موجودہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی طرح اُسے بھی ماتحتوں کو گندی گالیاں دے کر بڑا سکون ملتا تھا، سستی شہرت کا وہ بھی اُتنا ہی شوقین تھا، جتنا شوقین ہمارا موجودہ سی سی پی اولاہور ہے، ایک روز میری موجودگی میں اُس ایس ایس پی نے اُس وقت کے ایس ایچ او لوئر مال کو اپنے دفتر بلایا اور اُس کی کسی غلطی پر اُسے غلیظ گالیاں دینا شروع کردیں، میں نے دوتین بار اشاروں سے اُسے ایسا کرنے سے منع کیا پر وہ باز نہ آیا، وہ انسپکٹر سرجھکا کر مسلسل گالیاں سنتا جارہا تھا، اُس کی ”وکھی“ پر پستول بھی لگاہوا تھا، ایس ایس پی کی غلیظ گالیوں والی جب انتہا ہوگئی، مجھے لگا ابھی وہ اپنا پستول نکال کر اُس کی ساری گولیاں ایس ایس پی کے سینے میں اُتار دے گا، بلکہ دوچار میرے سینے میں بھی اُتار دے گا۔ پر وہ مسلسل خاموش کھڑے رہا، پھر اُسے معطل کرکے باہر نکال دیا گیا، تب مجھے وہ سردار جی بڑے یاد آئے جو پھولے ہوئے سانس کے ساتھ اپنے دوست کے پاس پہنچے، اُن سے کہنے لگے”میں تم سے ملنے آرہا تھا، راستے میں ڈاکوﺅں نے مجھے بہت مارا، غلیظ گالیاں دیں، حتیٰ کہ میرے ساتھ بدفعلی بھی کی، میرا سب کچھ لُوٹ لیا، پر شکر ہے میری جیب میں پڑا پستول بچ گیا، ایس ایچ او لوئر مال ایس ایس پی لاہور کی غلیظ گالیاں سن کر چلے گیا، ایس ایس پی سے میں نے کہا ”تم اُسے ماں بہن کی غلیظ گالیاں دے رہے تھے، گالیوں کے مطابق ہاتھوں سے غلیظ اشارے بھی کررہے تھے، اُس کے پاس پستول تھا، وہ اگر جذباتی ہوکر تمہیں قتل کردیتا تمہیں اِس کا ذرا احساس نہیں تھا؟،.... وہ بولا ”مجھے سب پتہ ہے کس میں کتنی غیرت ہے؟ چنانچہ میں اُس کے مطابق ہی اُس سے سلوک کرتا ہوں، یہ انسپکٹر حرام کماکما کر اورکھا کھا کر بے عزتی برداشت کرنے کا عادی ہوچکا ہے، ابھی تو میں نے اُسے ماں بہن کی گالیاں دی ہیں، میں اگر اُسے یہ کہتا اپنی پوسٹنگ بچانے کے لیے ابھی اپنی ماں بہن کومیرے پاس لے کر پیش ہوجاﺅ وہ یہ بھی کرلیتا، جو حرام نہیں کھاتے، جن میں شرم وحیا ہوتی ہے، غیرت ہوتی ہے، انا ہوتی ہے، اُن کی بے عزتی کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے گالیاں دینا تو دُور کی بات ہے، ذرا سا اُونچے لہجے میں اُن سے بات بھی کی، وہ ہم سے ”سیدھے“ ہوجائیں گے“....یہ ساری تمہید مجھے اِس لیے باندھنا پڑی گزشتہ روز سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک پولیس انسپکٹر کو بلاکر ، بقول اُس کے، اُسے غلیظ گالیاں دیں، اُس کے بعد اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کرواکر اُسے گرفتار بھی کروادیا ، گرفتاری کے بعد انسپکٹر نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فرما رہا ہے ”سی سی پی او لاہور نے ایک پُرانے مقدمے میں غلط طورپر ملوث کیا، اپنے دفتر بلاکر غلیظ گالیاں بھی دیں“ .... میں نے اِس انسپکٹر کی یہ ویڈیو بار بار دیکھی، مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ ویڈیو اُس نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے جاری کی ہے یا ” بے غیرت “ ثابت کرنے کے لیے جاری کی ہے، کوئی شخص جس نے زندگی بھر حرام نہ کھایا ہو، جسے یہ یقین ہو اُس کا رازق اُس کا رب ہے، زندگی موت، عزت ذلت، ہارجیت، مقدر سب کچھ اُس کے اختیار میں ہے۔ ”پوسٹنگ“ بھی اُس کی رضا کے بغیر نہیں مل سکتی، وہ کسی بدتمیز شخص کی گالی سننا تو دور کی بات ہے ”جھڑکی“ سننا بھی گوارا نہیں کرتا، میرے نزدیک جو سر جھکا کر ماں بہن کی غلیظ گالیاں سن لیتا ہے، اُسے ٹھیک گالیاں پڑتی ہیں، وہ خود کو مکمل طورپر اِس بے عزتی کا مستحق ثابت کررہا ہوتا ہے، پتہ نہیں لوگ یہ سب کیسے برداشت کرلیتے ہیں؟ ہم سے تو اتنی ” بے عزتی“ بھی برداشت نہیں ہوتی وزیراعظم ہمیں ملاقات کے لیے بلائے اور حد سے زیادہ ہمیں انتظار کرنا پڑے، میں پہلے ہی اُن کے سٹاف سے کہہ دیتا ہوں مجھ سے یہ ذلت یا اذیت ہرگز برداشت نہ ہوگی، اللہ کی بخشی ہوئی عزت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ اس عزت کی حفاظت نہیں کرے گا، اِس کا مطلب ہے وہ اِس ”نعمت“ کا مستحق ہی نہیں تھا، ” نہ جانے ہونا ہے کیا، کیا نہیں ہونا.... مگر یہ طے ہے قتل انا نہیں ہونا .... میں اپنے حبس میں مرجاﺅں گا مگر مجھ کو .... گلی گلی میں بھٹکتی ہوا نہیں ہونا.... ہمارے بزرگ فرماتے تھے ”تمہاری لاش گھر آجائے، ہم یہ برداشت کرلیں گے، پر یہ برداشت نہیں کریں گے تم ماں بہن کی گالیاں سن کر گھر آجاﺅ “.... ہمارے کچھ گھٹیا افسروں کو ماتحتوں کو گالیاں دینے کی عادت اس لیے پڑی ہوتی ہے کہ کچھ بے غیرت ماتحت افسروں کو گالیاں کھانے کی عادت پڑی ہوتی ہے، جس طرح محبت دوطرفہ ہوتی ہے، یکطرفہ محبت چل ہی نہیں سکتی، اُسی طرح بے غیرتی بھی دو طرفہ ہوتی ہے، یکطرفہ بے غیرتی چل ہی نہیں سکتی، گالیاں دینے والا بے غیرت ہوتا ہے گالیاں کھانے والا اُس سے بڑا بے غیرت ہوتا ہے، پر کیا کریں کچھ لوگ اپنے ذاتی ومالی مفادات کے تحفظ کے لیے گالیاں بھی باقاعدہ ایک نعمت کے طورپر قبول کررہے ہوتے ہیں، یا پھر رشوت کے طورپر قبول کررہے ہوتے ہیں، ایسے ہی ایک راشی افسر سے میں نے کہا ”تمہارا باس تمہیں اتنی گالیاں دے رہا ہوتا ہے تمہیں ذرا شرم نہیں آرہی ہوتی؟، وہ بولا ” کچھ دے ہی رہا ہوتا ہے ناں، کچھ لے تو نہیں رہا ہوتا“.... کسی ماتحت کو اُس کی کسی غلطی کی سزا دینا افسران کا قانونی اختیار ہوتا ہے، پر کسی ماتحت کو اُس کی کسی غلطی پر اُسے ماں بہن کی گالیاں دینے کا کوئی اختیار کوئی قانون کسی افسر کو نہیں دیتا، ہمارے کچھ افسروں کا یہ اپنا قانون ہے جس کے مطابق وہ ماتحتوں کو گالیاں نہ دیں وہ سمجھتے ہیں وہ ”قانون “ کی خلاف ورزی کررہے ہیں،.... مہذب معاشروں میں کسی کی جرا¿ت نہیں ہوتی اپنے کسی ماتحت سے اُونچی آواز میں وہ بات بھی کرلے۔ ایسا کرنے پر ماتحت گھسیٹ کر اُس افسر کو عدالت میں لے جاتے ہیں جس پر افسر کو ماتحت سے باقاعدہ تحریری معافی مانگنی پڑتی ہے۔ ہمارے ہاں اِس کے باکل الٹ یہ ہوتا ہے جو ماتحت اپنے افسر سے غلیظ گالیاں کھاتا ہے بعد میں وہ اُس افسر سے تحریری معافی بھی مانگ لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے بڑی پلاننگ کی ساتھ غیرت عزت، آبرو، شرم وحیا کسی نے ہمارے اندر سے نکال کر ہمارے کسی دشمن ملک کے پاس گروی رکھوادی ہے وہ جب ہم پر حملہ کرے، ہم جواباً کچھ نہ کریں !!


ای پیپر