باالاخر
17 ستمبر 2020 2020-09-17

مصر اور اردن کے بعد متحدہ عرب امارات اور اب بحرین بھی اسرائیل کی ہمنوائی میں ا?گیا۔ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے رونما ہونے والی ناقابل یقین سفارتی تبدیلیاں کس کے لیے ہیں؟اسرائیل کو تسلیم کس کی جیت اور کس کی ہار ہے؟فلسطینیوں کے خون کی سودے بازی کس کے مفاد میں ہے؟عرب ممالک کی بے رخی کے بعد فلسطینیوں کا کیا ہو گا؟ کہیں امریکا اور اسرائیل عربوں کو ایران کا خوف تو نہیں بیچ رہے؟ کشمیریوں کی طرح فلسطینیوں کی زندگی اجیر بنانے والا برطانیہ بھی تو کہیں اس سازش میں شریک نہیں؟ اس جیسے کئی سوالات ہیں جو سب کے زہن میں اٹھ رہے ہیں۔میں انہیں سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

دنیا کے حل طلب دو بڑے مسائل!کرہ ارض پر 7 دہائیوں سے دوبڑے مسائل حل طلب ہیں۔ دونوں ہی مسائل کا تعلق مسلمانوں سے ہے فلسطین کو یہود اور کشمیر کو ہنود نے یرغمال بنا رکھا ہے۔دونوں ہی دیرنیہ مسائل میں برطانیہ کا کلیدی کردار رہا ہے۔کشمیر اور فلسطین دونوں ہی علاقے برطانیہ کے زیراثر رہے ہیں۔ان علاقوں سے برطانیہ نکل تو گیا لیکن دونوں کو مسائل کی زنجیروں سے جکڑ کے گیا۔1917 میں فلسطین کے مسئلہ کی بنیاد اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ بیلفور نے ڈالی تھی۔عرب ملکوں کے درمیاں اسرائیل کی آبادکاری کی گئی زمین پر قبضہ کیا گیا۔عرب ممالک دیکھتے رہے دیکھاوے کی جنگیں ہوئیں اور شکست عربوں کا مقدر ٹہرا۔ جون 1967 کی جنگ میں عربوں کو بدترین شکست ہوئی اور شام کو گولان کی پہاڑیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔مصر اور اردن نے اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور صیہونی ریاست کو تسلیم بھی کر لیا۔عرب کے دیگر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ درپردہ تعلقات استوار کرنے میں لگے رہے۔اس دوران نہتے فلسطینی اپنی آزادی کی کوششیں کرتے رہے اور جانوں کے نزرانہ دیتے رہے۔لیکن مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار اسرائیل کے ساتھ غیر سرکاری طور پر جڑے رہے۔یہی وجہ ہے کہ پچھلے کئی سال سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مسلسل کہہ رہے تھے کہ چھ عرب ممالک جلد اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔گزشتہ سال مارچ میں بھی کہا تھا کہ کم از کم 6 ملک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ایسا ہی ہوا دنیا بھر کے مسلمانوں کو امت کا جھانسہ دینے والوں نے فلسطینیوں کے بجائے اسرائیلیوں کو گلے لگانا شروع کر دیا۔متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر ہی لیا۔ کسی بھی قسم کے ابہام کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ پر دنیا کے سامنے دستخط بھی کیے۔ 

 کوئی بھی فریق ادھر سے ادھر نہ کھسک سکے اسی لیے نام نہاد امن معاہدے پر دستخط وائٹ ہاوس میں کرائے گئے۔متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیرخارجہ عبدالطیف بن راشد اور اسرائیلی وزیراعظم بین یامین نیتن یاہو نے کیمروں کے سامنے معاہدے پر دستخط کیے۔ عرب ممالک کی قربت میں اضافے پر اسرائیل سے بھی زیادہ خوش متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ دکھائی دیے۔جھک جھک کر وہ امریکی صدر کو اپنی تابعداری کا احساس لاتے رہے۔وائٹ ہاو¿س میں تقریب کا مقصد دیگر عرب ممالک کو بھی اسرائیل سے کھلی دوستی کی جانب لانا ہے۔

معاہد کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں مزید کئی ممالک جلد اسرائیل سے معاہدہ کرلیں گے۔اسرائیل سے معاہدے کے سلسلہ میں سعودی حکومت سے بھی بات چیت جاری ہے سعودی عرب صحیح وقت پر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرے گا۔ظاہری طور پر سعودی حکومت کا فی الحال کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔کہا یہی جارہا ہے کہ سعودی عرب کی رضامندی اور آشیرباد سے ہی عرب ممالک اسرائیل سے تعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے بحرین اور یو اے ای نے اسرائیل کو عرب میں رسائی دے کر تاریخی غلطی ہے۔ ترکی پہلے ہی عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کرچکا ہے۔ پاکستان بھی واضع کر چکا ہے کہ اسرائیل کی جانب فلسطینوں کو ان کا حق دینے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ماہرین کے نزدیک عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد ایران کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مستقبل میں اسرائیل ایران کے خلاف بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سرزمین استعمال کرسکتا ہے۔یہ وہی عرب ممالک ہیں جو کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بظاہر بائی کاٹ کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک سفارتی تبدیلیوں کی ایک وجہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت بھی ہے۔نام نہاد امن معاہدہ کے پیچھے تیل کی اہمیت میں کمی، گرتی ہوئی قیمتیں اورامریکی حمایت سے محرومی کے خدشات بھی پیش نظر ہیں۔ اسرائیل کی طرف دوڑنے والا عرب ملک عمان ہو سکتا ہے عمان کی پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی تجارت جاری ہے۔عمان نے امارات، بحرین اور اسرائیل امن معاہدے کا انتہائی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔یہاں یہ بھی زہن میں ہونا چاہیے کہ عمان کے ایران سے بھی دیرینہ تعلقات ہیں۔عمان اب تک علاقائی تنازعات میں غیر جانبدار رہا ہے ایران سعودی عرب کشیدگی کم کرنے میں بھی عمان سرگرم رہا۔اندرونی اور سرحدی خلفشار کے پیش نظر عمان ایران سے تعلقات میں بگاڑ نہیں چاہے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ بااثر عرب ممالک کا دباو¿ کب تک برداشت کرسکتا ہے ایک دن تو اسے بھی اسرائیل کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی عرب ممالک اسرائیل سے قبضہ ختم نہ کراسکے اور آج خود اسرائیل کا دست نگر ہونے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔ 

سوال تو اٹھے گا کہ ہم اپنے ہی مسلمان ملکوں پر تو جنگیں مسلط کر دیتے ہیں۔مسلکی بنیاد ہو یا خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ، اس میں ایک دوسرے یعنی مسلمانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔لیکن بات ہو فلسطینیوں اور کشمیر کی تو ان پر مظالم کرنے والوں کی مزمت تک نہیں کی جاتی الٹا ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں فخر محسوص کیا جاتا ہے۔یہ فخر ہے یا بزدلی؟ اس کا اندازہ یہودیوں کی جانب سے 1923 میں دیے گئے بیان "دی آئرن وال" سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔1923 میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایک وقت آئے جب عربوں کو یقین ہو جائے گا کہ وہ یہودیوں کو شکست نہیں دے سکتے تو پھر وہ یہودیوں (اسرائیل) کو تسلیم کر لیں گے۔


ای پیپر