کشمیر کو کیسے آزاد کرایا جائے ؟آپریشن جبرالٹر
17 ستمبر 2019 (20:00) 2019-09-17

کشمیر کو کیسے آزاد کرایا جائے ؟آپریشن جبرالٹر

علی جعفر زیدی:

1962ءمیں جب بھارت اور چین کی جنگ ہوئی تو بھارتی افواج کی ناقص کارکردگی اور کمزور صلاحیت کا مظاہرہ ہوا۔ 1963ءمیں جب سری نگر میں اپردل جھیل کے کنارے حضرت بَل کے مزار سے رسول پاک کے تبرکات، موئے مبارک غائب کر دیئے گئے تو سری نگر میں شدید ہنگامے ہوئے اور بڑے پیمانے پر نسلی فسادات ہوئے۔ جنوری 1964ءمیں کراچی، کھلنا، جیسور، کلکتہ اور بھارت کے تمام بڑے شہروں میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ پھر 1965ءکے اوائل میں رن کچھ میں بھارتی اور پاکستانی بارڈر پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جو کہ باقاعدہ لڑائی کی شکل اختیار کر گئیں اور پاکستانی افواج نے بھارت کو شکست دی۔

ان واقعات کی روشنی میں کشمیر میںگوریلا لڑائی لڑنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کو ”آپریشن جبرالٹر “ کا نام دیا گیا۔ جنرل گُل حسن کی یاداشتوں کی کتاب Memoris of Lt. General Gul Hassan Khan کے صفحہ 116، 167، 168، 169 کے مطابق رن آف کچھ کے فوراً بعد اس گوریلا لڑائی پر سنجیدگی سے سوچا جانے لگا۔ وزارت خارجہ میں ایک خفیہ کشمیر سیل قائم کیا گیا جس میںجنرل گل حسن بھی شامل تھا۔ بھٹو صاحب بطور وزیر خارجہ اس سیل کے نگران تھے۔

جنرل گل حسن 1965ءمیں ڈائریکٹر ملٹری آپریشن تھا اور بھٹو صاحب کے ساتھ اس کی دوستی تھی۔ بعد میں جنرل گل حسن کو بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد افواج پاکستان کا کمانڈر ان چیف بھی مقرر کیا گیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ رن آف کچھ میں پاکستان سے شکست کے بعد بھارتی افواج کا حوصلہ پست تھا۔ اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ کشمیر میں گوریلا لڑائی لڑ کر جو پاکستانی افواج کی مدد سے لڑی جائے، کشمیر کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ الطاف گوہر کی کتاب ”پاکستان کا پہلا فوجی حکمران“ صفحہ 319 کے مطابق سیکرٹری وزارت خارجہ عزیز احمد کا بھی یہی خیال تھا۔ ”آپریشن جبرالٹر “ میں جہاں بھارتی فوج کی رن آف کچھ میں شکست اور بھارت چین جنگ میں بھارتی فوج کی ناقص کارکردگی کی وجوہات تھیں وہاں ایک مفروضہ یہ بھی تھا اور جس کی بنیاد پر حضرت بَل کے واقعہ پر مسلمانوں کا شدید ردعمل تھا کہ جب ”آپریشن جبرالٹر “ شروع ہو گا تو مقامی کشمیری مسلمان بھی اس گوریلا لڑائی میں شامل ہو کر شانہ بشانہ لڑیں گے اور بھارتی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مزید یہ کہ اگر بھارت اس مسئلے میں الجھا بھی تو محض کشمیر کی حد تک ہی الجھے گا۔ مگر جب آپریشن شروع ہوا تو نہ تو کشمیری عوام اس طرح سے اس میں شامل ہوئے جس طرح کی توقع کی جا رہی تھی اور نہ ہی بھارت کشمیر تک محدود رہا۔ اس نے اس جنگ کو پاکستان کی سرحدود تک پھیلا دیا جو کہ ستمبر 1965ءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان بھرپور اور مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔

مسئلہ کشمیر کی المناک داستان

تنازعہ کشمیر کی المناک داستان پر ایک نظر ڈالی جائے تو حقائق کچھ اس طرح نظر آتے ہیں۔

1۔ 1947ءمیں برطانوی سامراج کے وزیراعظم ایٹلی کی زیرقیادت برسراقتدار ٹولے نے ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان کے بورژوا ارباب اقتدار کے حوالے کر دیا تھا۔ حالانکہ برصغیر کی تقسیم جس اصول کی بنیاد پر ہوئی تھی اس کے مطابق یہ علاقہ پاکستان میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

2۔ فروری 1948ءمیں برطانیہ کے وزیر امور دولت مشترکہ نوئل بیکر نے وزیرخارجہ بیون کی ہدایت کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ کوشش کی تھی کہ یہ متنازعہ علاقہ اقوام متحدہ کی مدد سے پاکستان کو مل جائے مگر ہندوستان کے گورنر جنرل ماو¿ٹن بیٹن، برطانیہ کے وزیر خزانہ سر سٹیفورڈ کرپس اور وزیراعظم ایٹلی کی مخالفت کے باعث اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی اور پھر سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد منظور کی گئی جس کا عملاً مقصد یہ تھا کہ یہ علاقہ ہندوستان کے پاس ہی رہے۔

3۔ 1949-50ءمیں برطانوی سامراج نے نیم دلانہ کوشش کی کہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی پُرامن تصفیہ ہو جائے اور اگر وادی¿ کشمیر کا علاقہ پاکستان کو مل جائے تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔

4۔ 1951-52ءمیں اینگلو امریکی سامراج نے کوشش کی کہ اقوام متحدہ کی مدد سے وادی کشمیر پاکستان کو مل جائے۔

5۔ 1953-56ءمیں اینگلو امریکی سامراج نے یہ کوشش کی کہ تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر مزید زیربحث لا کر ہندوستان کے حکمران بورژوا طبقے کی ناراضگی میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ دوطرفہ بات چیت کے ذریعے کسی نہ کسی طرح کی تقسیم کی بنیاد پر تنازعہ کشمیر کا پُرامن تصفیہ کرا دیا جائے۔

6۔ 1957-58ءمیں اینگلو امریکی سامراج کی پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کا جو علاقہ ہندوستان کے قبضے میں ہے وہ اس کے پاس رہنے دیا جائے اور تنازعہ کشمیر کو بالائے طاق رکھ کر چین کے خلاف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی نظام قائم کیا جائے۔

کشمیر کے معاملے پر اینگلو امریکی سامراج کی پالیسی میں اتار چڑھاﺅ کیوں آتا رہا اور مندرجہ بالا حقائق کی تفصیلات جاننے کے لیے زاہد چودھری اور حسن جعفر زیدی کی ”پاکستان کی سیاسی تاریخ“ کے سلسلہ¿ تحقیق کی بارہ جلدوں میں سے تیسری جلد ”پاک بھارت تنازعہ اور مسئلہ کشمیر کا آغاز“ کا مطالعہ ضروری ہے۔

کشمیر کی سرحدیں چین اور روس کے ساتھ ہیں۔ اینگلو امریکی سامراج کسی بھی طرح کشمیر کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا تھا اور نہ پاکستان کر سکتا ہے۔ بھارت کا بھی یہی معاملہ ہے۔

1947ءمیں تقسیم ہند کے وقت دنیا سرد جنگ میں داخل ہو چکی تھی۔ 1948ءکے وسط میں کمیونسٹوں نے تقریباً سارے چین پر قبضہ کر لیا تھا اور کچھ عرصہ بعد ان کی فوجیں سنکیانگ اور تبت میں پہنچ گئیں۔ کشمیر جغرافیائی اعتبار سے کمیونٹس سنکیانگ اور تبت سے منسلک ہے۔ 1949ءمیں ماﺅزے تنگ کی قیادت میں اشتراکی انقلاب کے بعد جب چین مکمل طور پر آزاد ہوا تو طاقت کا توازن کمیونزم اور سوویت بلاک کے حق میں ہو گیا۔ دنیا امریکی بلاک اور کمیونسٹ بلاک میں تقسیم ہو گئی۔

1947-50ءمیں کشمیر میں شیخ عبداللہ کی حکومت کافی حد تک مقامی کمیونسٹوں کے زیراثر تھی۔ شیخ عبداللہ بھی اپنی تقریروں میں اشتراکی اصطلاحات استعمال کرتا تھا اور اس نے 1948-49ءمیں کشمیر کے بارے میں اینگلو امریکی سامراج کے عزائم کی کھلے الفاظ میں مخالفت کی تھی اور 1950ءمیں کوریا پر امریکی سامراج کے حملے کی پرزور مذمت کی تھی۔ اس کے علاوہ کشمیر نیشنل کانفرنس کی قراردادوں میں اینگلو امریکی سامراج کی مذمت کی جاتی تھی۔ اس وقت کشمیر کے کمیونسٹوں کی پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کو جس قدر ممکن ہو بھارت سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ ان کی تجویز یہ تھی کہ کشمیر کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہیے اور فی الحال آزاد رہنا چاہیے۔

٭٭٭


ای پیپر