ہم نے کیا کیا ہے؟ کہ خطرات بڑھتے جا رہے ہیں!
17 ستمبر 2019 (19:13) 2019-09-17

پاکستانی قوم گزشتہ دو دہائیوں سے بہت سی ”گردیوں“ میں دھکیلی گئی یا یوں کہہ لیں کہ ہم پر بہت کچھ مسلط کر دیا گیاہے۔ 9/11 کے بعد یہودی سازش کے تحت پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ تھوپ دی گئی اور پھر اس کے بدلے میں ہمیں جہاں ہزاروں شہادتوں کا سامنا کرنا پڑا، وہاں ملک اندھیروں میں ڈوب گیا، اس کے اثرات صرف آج ہی نہیں آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اسی دوران رہی سہی کسر سیاست گردی، میڈیا گردی، وکلاءگردی، مافیاگردی اور سب سے بڑھ کر پولیس گردی نے نکال دی اور اس ”گردی“ نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے سرعام عورت کو بے عزت اور گالیاں دیتے ہوئے معاشرے کی بے حسی ثابت کر دی، اسی دوارن جہاں میڈیا آزاد ہوا وہیں میڈیا کی نومولودگی نے بہت سے مسائل کو بھی جنم دیا۔ مثلاََ میڈیا اخلاق اور کمرشل ازم کی آڑ میں تمام انسانی اقدار کو فراموش کرتے ہوئے اور ”بریکنگ نیوز“ کی دوڑ میں عورت پر پولیس کی طرف سے ہوتی زیادتی کو بار بار دکھاتا رہا.... یعنی ہم بار بار گناہ کرتے رہے، ہم بار بار توبہ کرتے رہے اور پھر یہاں واصف علی واصف کا یہ قول بہت یاد آرہا ہے:

”گناہ حکم کے خلاف عمل کا نام ہے، جرم حکومت کے حکم کے خلاف عمل کا نام ہے، گناہ کی سزا اللہ دیتا ہے اور جرم کی سزا حکومت۔ گناہ سے توبہ کر لی جائے تو اس کی سزا نہیں ہوتی مگر جرم کی معافی نہیں ہوتی۔ گناہ کی سزا آخرت میں اور جرم کی سزا اسی دُنیا میں ہے۔ گناہوں کی حکومت دے سکتی ہے،اگر توبہ کے بعد پھر گناہ سرزد ہو جائے تو پھر توبہ کر لینی چاہیے، مطلب یہ کہ اگر موت آئے تو حالت گناہ میں نہ آئے بلکہ حالت توبہ میں آئے اور توبہ منظور ہو جائے تو وہ گناہ کبھی سرزد نہیں ہوتا اور نہ اس گناہ کی یاد باقی رہتی ہے۔ سچی توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے نوزائیدہ بچہ مظلوم“۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے ساتھ ہی ”گردی“ کو کیوں جوڑ دیا جاتا ہے۔ عمران حکومت نے آتے ہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ پنجاب میں پولیس کے نظام کو نہ صرف بدلے گی بلکہ ایسی اصلاحات لائے گی کہ جرم زدہ تھانہ کلچر کو ختم کر دیا جائے گا مگر ایک سال گزرنے کے باوجود نہ نظام تبدیل ہو سکا نہ اصلاحات نافذ ہوئیں بلکہ پولیس گردی کے واقعات میں روزبروز اضافہ ہونے لگا۔ آپ روزانہ پولیس گردی کے واقعات سے بہرہ مند ہو رہے ہیں، ماشاءاللہ بگڑے ہیں تو سنورنے کا نام ہی نہیں لے پا رہے، نہ عدالتیں پولیس گردی کو قابو میں لاسکیں نہ ان کے لیے کوئی سخت قانون بنائے گئے، ہر کوئی ایک دوسرے کو بچا رہا ہے، ہر طرف ایک خوف کا عالم ہے۔ حکومت نہیں چل رہی، یہ بھی ایک خوف ہے۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، یہ بھی ایک خوف ہے۔ حالات تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت کشمیر کو اپنی ریاست بنانے کے بعد بھی ہم پر خوف مسلط کیے ہوئے ہے۔

ہمارے ساتھ شاید یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے دوست کمزور اور دُشمن طاقتور ہو گئے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی انتشار، بیرونی یلغار کی راہیں مزید استوار ہو گئیں، یوں لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے خطرے میں ہیں جو محسوس تو ہوتا ہے مگر معلوم نہیں ہوتا کہ خطرہ کس چیز سے ہے؟

کیا ہم پر خدانخواستہ کوئی نئی افتاد پڑنے والی ہے؟

کیا ہم اپنے اعمال کی عبرت کے خوف میں ہیں؟

کیا ہم اپنے راہنماﺅں سے مایوس ہو چکے ہیں؟

کیا ہم گردش حالات کی زد میں آچکے ہیں؟

کیا ہم سے زندگی کے عظیم مقاصد چھین لیے گئے ہیں؟

کیا ہم اعتماد سے محروم ہو چکے ہیں؟

کیا ہمیں اپنے آپ پر بھروسہ نہیں؟

کیا ہمیں جان کا خطرہ ہے، ایمان کا خطرہ ہے، عزت کا خطرہ ہے، ملکی سلامتی کا خطرہ ہے، ملی وحدت کا خطرہ ہے؟

کیا خطرہ ہمارے اندر ہے یا باہر ہے؟

کیا آسمان گرنے والا ہے؟

کیا زمین پھٹنے والی ہے؟

کیا انسان کے گناہوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ کسی عذاب کا نازل ہونا ناگزیر ہے؟

کیا ہماری تاریخ ختم ہونے والی ہے؟

کیا ہم ایک سطحی اور نقلی زندگی گزار رہے ہیں؟

کیا ہمارے افکار ختم ہو گئے، کیا ہمارا کردار ختم کر دیا گیاہے؟

یہاں بے شمار سوالات ہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ آخر ہم نے کیا کیا ہے کہ ہم خطرے میں ہیں؟ چور کون ہے؟ ڈاکہ کس نے ڈالا، کس نے کس کی عزت پر ہاتھ ڈالا؟

ہم کروڑوں انسان پھر بھی تنہا کے تنہا، افراتفری، ایک دوسرے پر الزام تراشی، ایک دوسرے کے ساتھ ناانصافی، وعدہ شکنی، مطلب پرستی، ہوس پرستی، زبردستی، منصب پرستی تو پھر خطرات تو ہم نے خود سمیٹ رکھے ہیں۔

انہی حالات کے سبب ہم پہلے ہی ایک دفعہ تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہم پہلے بھی ایک دفعہ کٹ چکے ہیں، خطرہ بہرحال اندر ہے، باہر نہیں .... جب تک قوم میں اتحاد پیدا نہیں ہوتا ، جب تک ہم اپنے اندر کی منافقت ختم نہیں کریں گے یہ خوف بڑھتے جائیں گے، ڈر محسوس ہوتے رہیں گے اور وحدت خطرات میں گھری رہے گی۔

ادارہ


ای پیپر