دینی مدارس: ختم کرنا حل نہیں!جدید اُمنگوں سے آراستہ کیجیے
17 ستمبر 2019 (19:05) 2019-09-17

دینی مدارس : ختم کرنا حل نہیں!جدید اُمنگوں سے آراستہ کیجیے

مسلمانوں کی علمی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ کبھی علمی، ادبی اور سائنسی دنیا میں مسلمان اہل علم و دانش اور سائنس دانوں کا طوطی بولتا تھا۔ مغرب نے نشاةِ ثانیہ کے ذریعے علمی دنیا میں جو انقلاب برپا کیا اس کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات اور یونانی علوم کے ان ذخائر پر تھی جن کے تراجم کا کریڈٹ بھی مسلمان اہلِ دانش کو جاتا ہے۔ یوں جس طرح آج دنیا بھر میں مغربی تحقیق سے مستفید ہوا جاتا ہے، ان کے علوم ہر سطح پر طالب علموں پڑھائے جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی آج سے کم و بیش پانچ سو سال قبل مغرب کے اداروں میں مسلم سائنس دانوں کے علمی سرمایہ سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ غیر مسلم ممالک اخلاقیات کے مضامین میں بھی ہمارے صحابہ کرامؓ اور آخری پیغمبر حضرت محمد کی نسبت سے واقعات تحریر کرتے اور ان کی ترویج بھی کرتے۔ انسانی ترقی کی راہیں دریافت کر کے دنیا میں انقلاب برپا کر نے والے سائنس دانوں میں عمر خیام (ریاضی)، الکندی(فزکس)، البیرونی(جغرافیہ)، ابن قرائ(ریاضی)، ابن الہیشم(فزکس)، الخوارزمی (طب)، ابن سینا(طب)، جابر بن حیان(کیمیائ)، الخوارزمی(ریاضی)، محمد ابن زکریا (طب) وغیرہ شامل ہیں۔

انسان کو ترقی کے نئے آفاق سے متعارف کرانے والے یہ عظیم سائنس دان کسی کیمبرج، آکسفورڈ یونیورسٹی نہیں بلکہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلباءتھے۔ اور بعض نے تو اپنے مضامین میں مناسب تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی مگر محض سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نے انہیں بام عروج پر پہنچا دیا۔ ان میں سے تو بیشتر کی ایجادات آج بھی دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں ۔پھر ہم سہل پسند ہو گئے، قلم اور کتاب سے ہمارا رشتہ کمزور ہوتا ہوتا بس واجبی سا رہ گیا جس کے نتیجے میں ہم دنیا سے پیچھے رہ گئے۔ ہم اپنے آباءکی راہ سے اتر کر بستر استراحت پر خواب غفلت میں محو ہو گئے، اور جب ہماری آنکھ کھلی تو ہم تنزلی کی اتھاہ گہرائیوں کی نذر ہو چکے تھے، علمی عظمت ہم سے صدیوں کے فاصلے پر جا پڑی تھی۔

ہم تحقیق اور جستجو سے ہٹ کر گروہی فکر کا شکار ہوتے گئے، ہم نے اپنی انرجی، فکر، قوت الغرض ہر چیز فرقہ پرستی اور دیگر غیرضروری امور پر خرچ کرنا شروع کر دی۔ ہمارے ان رویوں کی وجہ دنیا ان مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگی جہاں سے علم و ادب اور سائنس کے امام پیدا ہو چکے ہیں۔

دنیا ہمارے اسلامی ممالک کے مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اور ہم محض صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں کہ یہ مدارس ماضی میں دنیا کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہی حال ہمارے پاکستانی مدارس کا بھی ہے جنہیں دنیا سمجھتی ہے کہ اس میں تعلیم حاصل کرنے والے ”طلباءمستقبل کے ”دہشت گرد“ ہیں۔ان کا یہ الزام ہے کہ ”طالبان“ بھی انہیں مدارس کی پیداوار ہیں ۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ یہ دنیا کو جدیدیت کی طرف لے جانے کے بجائے اسے دوبارہ پتھرکے زمانے میں دھکیل رہے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف ان مدارس کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں، کیوں؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت کے زیر سایہ نہیں ہےں؟ ان کا نصاب جدید تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا۔ اُن مدارس کا مثبت چہرہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔ الغرض وہ کیا پڑھاتے ہیں؟ بچے کیا سیکھتے ہیں؟ اساتذہ کیا ڈلیور کرتے ہیں؟ کسی کو علم نہیں ہے۔ ہاں! ماضی میں ہر حکومت نے اس حوالے سے بہت سے اعلانات بھی کیے کہ وہ مدرسہ سسٹم میں فلاں بہتری لا رہے ہیں، نصاب سازی کر رہے ہیں یا ان مدارس میں زیر تعلیم طلباءکو رجسٹرڈ کر رہے ہیںمگر ہر حکومت انہیں سیاست میں ملوث کرتی رہی جس سے یہ لوگ ”ملا یا مولوی“ کہلائے۔ اور نصاب سازی کا عمل کھٹائی میں پڑتا رہا۔

موجودہ سول و عسکری قیادت بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کر ے گی اسی سلسلہ میں 20 اگست 2019ءکو جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مدارس میں دلچسپی دکھاتے ہوئے ان کے ان طلبا و طالبات سے میٹنگ کی جنہوں نے میٹرک کے امتحانات میں مختلف امتحانی بورڈز سے پوزیشن حاصل کی تھی۔ میٹنگ میں وفاق المدارس پاکستان کے بارہ جبکہ رابط المدارس کے ایک طالب علم کو اعزازی شیلڈز اور انعامات سے نوازا گیا۔ آرمی چیف کا یہ اچھا اقدام ہے، انہیں اندازہ ہے کہ پاکستان کا یہ وہ حصہ ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، انہوں نے ان مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور نیک و پرجوش عزائم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ان مدارس کے حوالے سے کسی کو فکر ہوئی ہو۔ جنرل ضیاءالحق نے بھی دینی مدارس کی سند کو گریجویشن اور ماسٹرز کے مساوی قرار دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی یہی کیا تھا۔ لیکن افسوس دینی مدارس کو اب تک قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔

یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ وطن عزیز کے ان ڈیڑھ کروڑ بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی فکر مند نہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کم و بیش 50 ہزار رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان مدارس کو جب بھی قومی دھارے میں لانے کی کوشش ہوتی ہے تو حکومتیں کسی ایک فرقہ کے مدرسہ کو اعتماد میں لیتی جبکہ باقیوں کو بھول جاتی ہے، جس سے احتجاج شروع اور معاملات کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ میری ذاتی رائے میں ان مدارس کے طلباءعام طلباءسے زیادہ ذہین و فطین ہوتے ہیں آپ اندازہ کر لیں کہ ترکی کے صدر اردگان مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں، وہ اپنے ملک کو کہاں سے کہاں لے گئے ہیں۔ کرغستان کے صدر سورونبائی جینبیکوف بھی دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہیں۔ اُنہوں نے اپنے ملک میں بہت سی فائدہ مند اصلاحات کی ہیں۔ لیکن یہاں ان طلباءکو ہر ادارے میں نظر انداز کیا جا تا رہا ہے، حالانکہ اگر ان کا نصاب دین اور دنیاوی لحاظ سے متوازن ہو تو یہ طلباءقانون، اکنامکس، سیاسیات، نفسیات ، سائنس، بیوروکریسی، الغرض ہر کام میں آگے آسکتے ہیں۔ یہ ایک ڈیڑھ کروڑ طلبہ بھی سائنسی مضامین میں آگے آئیں، اپنی کھوئی ہوئی میراث حاصل کریں ۔ آج اس کمرے میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو کسی مسلمان نے ایجاد کی ہو۔ ہم نے گزشتہ پانچ سو سال میں انسانیت کی خدمت کیلئے کوئی ایجاد نہیں کی، انجکشن نہیں بنایا، ٹیبلٹ نہیں تیار کی حالانکہ گیارہ صدیوں تک ہمارا عروج رہا ، آپ دیکھ لیں دنیا کے اربوں ڈالر کے پراجیکٹس میں سے آج کوئی بھی مسلمان خالق نہیں ہے، گوگل، یوٹیوب، فیس بک، مائیکروسوفٹ، ایمیزون، وٹس ایپ، ٹک ٹاک، الغرض کوئی بھی اربوں ڈالر کے بڑے پراجیکٹ کا خالق مسلمان نہیں ہے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم” مسلمان ملک“ تو بڑے زور شور سے کہلاتے ہیں اور یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ ہم ایک واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں مگر دنیا کی بہترین اسلامی یونیورسٹیوں میں ہماری ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی۔ کیوں نہیں آتی؟ صرف اس لیے کہ ہم جدید نصاف کو فالو نہیں کر رہے، دنیا کی بہترین اسلامی یونیورسٹی جامع الاظہر (مصر)کیوں بہترین ہے صرف اس لیے کہ وہاں دینی کے ساتھ دنیاوی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہاں کا فتویٰ پوری دنیا میں اسی لیے تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ جدید عصری تقاضوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ آپ دیگر بہترین اسلامی یونیورسٹیاں کنگ عبدالعزیزیونیورسٹی، الیگزینڈر یونیورسٹی مصر، کائرو یونیورسٹی مصر، کنگ فہد یونیورسٹی، یونیورسٹی آف جورڈن وغیرہ ایسی یونیورسٹیاں ہیں جن کا نصاب وہاں کی ریاست اور دنیا کی جدید یونیورسٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہمارے مدرسے بھی تعلیم کے فروغ میں بہترین اقدام اُٹھاتے ہوئے اس حوالے سے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کو فالو کر سکتے ہیں، یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام یونیورسٹیاں بے حیائی ہی سکھاتی ہیں، بلکہ اُن اداروں سے غیر اخلاقی چیزیں آپ Pick نہ کریں مگر اُن کی تحقیق کا طریقہ کار تو فالو کر سکتے ہیں۔

اگر دینی مدارس کسی ڈسپلن میں آجائیں ، اگر ان کا نصاب لکھا ہوا آجائے تو یہ ملک میں کا رآمد بن سکتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ یہاں سے سائنسدان نکلتے، کیوں کہ حقیقت ہے کہ اگر آپ سائنس میں مقابلہ نہیں کریں گے تو دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں گے اور نہ ہی دنیا میں سر اونچا کر کے پھرنے کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دینی مدارس دنیا کی اہم زبانیں سیکھیں، کسی زبان کا سیکھنا کفر نہیں ہے، انگلش سیکھیں جیسے مولانا محمد علی جوہر، مولانا مودودی، سرسید احمد خان وغیرہ نے سیکھی تاکہ آپ اپنا پیغام دنیا تک پہنچا سکیں۔ اپنی فٹنس، صحت کا خیال رکھیں، کھیل کود میں حصہ لیں، ہر مسلمان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ کرکٹ، فٹ بال کھیلیں۔ ہمارے اور مدارس کے درمیان جو غیر فطری دوری پیدا ہو گئی ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے اداروں میں عام تعلیم کا یکساں نظام اور نصاب رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ملک میں صحت مند معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔ ملک میں انگریزی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ عام پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کا نظام تعلیم ہی نہ صرف یکساں ہونا چاہئے‘ بلکہ ان سب کا نصاب تعلیم بھی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہئے تاکہ ایک جمہوری اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے ضروری سہولتیں پیدا کی جا سکیں۔ ہمارے ہاں عدم برداشت‘ انتہا پسندی‘ دہشت گردی اور معاشرتی عدم مساوات اور عدم تفاوت دور کرنے کیلئے یکساں نظام تعلیم نہایت مفید اور معاون ثابت ہو گا۔ جب ہماری آئندہ نسلیں یکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کریں گی تو پھر معتدل اور متوازن معاشرہ کا قیام ممکن ہو گا اور پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکے گا۔

بس اس کے لئے ہمیں مدارس کے طلباءکو نظر انداز کرنے کے بجائے، ان کے لئے ایسا نصاب واضع کرنا ہوگا جس میں وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے زیور سے بھی خود کو آراستہ کر سکیں۔ یقین جانیں، ایسا بچہ جو قرآن مجید حفظ کر سکتا اور تفسیر و شرح کی ضخیم کتب پڑھ کر ان کے بیشتر حصے از بر کر سکتا ہے، اسے اگر مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ سائنس کی دنیا میں بھی حیران کن کارنامے سر انجام دے سکتا ہے۔


ای پیپر