کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں: جسٹس عمر عطا بندیال
17 ستمبر 2019 (12:08) 2019-09-17

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ پر اعتراض مسترد کردیا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس عدالت کا ہرجج اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق ادا کرتا ہے، اس عدالت کے کسی جج کی کسی مقدمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، جج کی جانبداری کا کہہ کر آپ غلط جانب جا رہے ہیں، کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں ، اعتراض سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بھی مجروح ہوگا، یہ محض افواہوں کا دروازہ کھولنے کی بات ہے، کسی جج نے 2025 میں چیف جسٹس بننا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں وہ مقدمہ سننے سے انکار کردیں۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ نے جوڈیشل کونسل کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل غیر متوازن اور پولیٹکل انجینئرنگ کا تاثر مل رہا ہے جبکہ جوڈیشل انجینئرنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔منیر اے ملک نے بنچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بنچ میں کچھ ججز کو مقدمہ سننے سے انکار کر دینا چاہیے، سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کے علاوہ باقی ججز پرمشتمل فل کورٹ بنائی جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کون سے عوامل سے جج کی جانبداری ثابت ہوتی ہے؟، اس عدالت کا ہرجج اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق ادا کرتا ہے، اس عدالت کے کسی جج کی کسی مقدمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، جج کی جانبداری کا کہہ کر آپ غلط جانب جا رہے ہیں۔وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے ان کی دلچسپی ہے، اس بینچ کے دو ججزممکنہ چیف جسٹس بنیں گے، چیف جسٹس بننے سے انکی تنخواہ بڑھے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے عدلیہ کو مضبوط کرنا ہے، کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں ، اعتراض سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بھی مجروح ہوگا، یہ محض افواہوں کا دروازہ کھولنے کی بات ہے، کسی جج نے 2025 میں چیف جسٹس بننا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں وہ مقدمہ سننے سے انکار کردیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کسی جج کو مقدمہ چھوڑنے پرمجبور نہیں کیا جا سکتا، منیر اے ملک صاحب آپ کارروائی کو آگے بڑھائیں۔

دوسری طرف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف کراچی بار، اسلام آباد ہائی کورٹ باراور لاہور ہائیکورٹ بار راولپنڈی بینچ کی درخواستوں پر اعتراضات کے خلاف اپیلوں کی چیمبر میں سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل رشید اے رضوی اور محمد قاسم میر پیش ہوئے۔عدالت نے تینوں درخواستوں پر رجسٹرار کے اعتراضات ختم کر تے ہوئے سابق جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیل کھلی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیدیا


ای پیپر