ایک ماہ سے کرفیو، ہماری خارجہ پالیسی کی وجہ سے ممکن
17 ستمبر 2019 2019-09-17

قارئین ، مقبوضہ کشمیر پہ مسلسل ایک ماہ سے کرفیو، اس بات کی واضح مثال نہیں ہے کہ جو ہماری انتہائی جاندار ،مضبوط، اور دلائل سے بھرپور حکمت عملی اپنانے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ لیکن اس دوران دو ایسے سوالات حکمران، اور دوسرے سیاستدان کے منہ سے نکلے، کہ جن کی بناپر اصل حقائق تک پہنچنا ممکن ہوسکے گا۔ پاکستانی وزیراعظم نے یہ بیان دیا، کہ چونکہ کشمیری مسلمان ہیں، ایسا کسی دیگر ممالک میں ہوتا، یعنی اگر مسلمان ملک کے بجائے عیسائی یا یہودی یا ہندوﺅں کے ملک میں یہ سانحہ رونماہوتا تو دنیا میں طوفان بپا ہوجاتا۔

اب ایک مہینے پہلے امریکی صدر کی ثالثی کی بات کرنا، تو اس لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کہ پاکستان تو ابھی تک اس پیش کش کو قبول کیے بیٹھا ہے، مگر بھارتی مودی نے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا، کہ یہ دوممالک کا اندرونی معاملہ ہے، جسے ہم آپس میں مل کر حل کرلیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ثالثی ہمیشہ دوممالک کے اندرونی تنازعے پہ لی جاتی ہے، بیرونی طورپر تو تنازعے کا ہونا، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دوسرا بیان مولانا فضل الرحمن کا آیا ہے کہ کشمیر کو تھالی میں رکھ کر بھارت کو بیچ کر پیش کردیا گیا ہے، اور بیچنے والے، اور خریدنے والے میں کبھی جھگڑا نہیں ہوتا، لہٰذا پاکستان اور بھارت کی جنگ کبھی بھی نہیں ہوگی۔ ان دونوں کے بیانات پڑھ کر میں بھی اپنے ہم وطنوں کی طرح سوچوں میں گم سم ہوکررہ گیا ہوں کہ ہمارے حکمران کشکول لے کر اور خودکشی کرنے کا سوچے بغیر کبھی سعودی عرب کبھی چین، کبھی امارات، کبھی ایران، اور کبھی دوسرے خلیجی ممالک کے دورے پہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نکل کھڑے ہوئے تھے، اور ان سے کچھ نہ کچھ لے کر ہی اٹھتے تھے، اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بقول ان کے ہم نے پاکستانی تاریخ میں بلند ترین سطح پہ پہنچا دیا ہے ، مگر وزیراعظم ہاﺅس کا بجلی کا بل ادا نہیں کرتے اس وقت میں اندرونی صورت حال کی بات بالکل نہیں چھیڑرہا، کہ یہ عوامی مسئلہ ہے، اور عوام اپنے دل کی بھڑاس بقائمی ہوش وحواس پاکستان کے ہرچینل پرنکال کر حکمرانی وعدہ خلافیوں کی قلعی کھولتے رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور پاکستانی وزیراعظم کا جو پروٹوکول ہے وہ پاکستانی تاریخ کے حکمرانوں کے پروٹوکول میں سب سے زیادہ ہے۔ میں بات یہ عرض کررہا تھا کہ اپنے اخراجات کے حوالے سے تو حکمرانوں کو اپنے دوست ممالک کے دورے پڑ گئے تھے، مگر اب کشمیر کے کرفیولگنے،جس سے بیمار افراد جس میں دل کے مریض اور دوسری بیماریوں سے مرنے والے افراد کو بغیر گوروکفن گھروں میں دفن کرنا شروع کردیا گیا ہے، 1965اور 1971ءکی جنگوں میں بھی بھارت نے کشمیر کے لیے کرفیولگایا تھا مگر محض چند دنوں کے لیے مگر مودی کے دور میں ایسا کرفیو پہلی بار لگا ہے کہ جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہ جمہوری اور نہ ہی آمرانہ دور میں ملتی ہے۔

قارئین کرام، بھارت کے ایک وزیراعظم مرارجی ڈیسائی ہوتے تھے، جن کارہن سہن اور خوردونوش تو انتہائی پرانے درجے کا غیراخلاقی تھا مگر وہ شخص ہمارے سابق وزیراعظم جونیجو جیسا بااصول اور باقانون شخص تھا ، جس کو افغانستان کے روس کے حملے کے وقت پاکستان کو جنگ میں الجھانے کا مشورہ دیا گیا تھا، مگر اس بااصول آدمی نے سختی سے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا تھا، اور کہا تھا، کہ ایسا سوچنے کے بجائے ہمیں اس وقت بھارت اورپاکستان کو مل کر روس کا مقابلہ کرنا چاہیے، روس کا حملہ ہمارے دونوں ملکوں کے لیے باعث تشویش ہے، میں بتایہ رہا تھا کہ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تو حکمران دردر مارے پھرتے رہے، مگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کے پاﺅں میں بیڑیاں پڑ گئی ہیں، مجال ہے، وزیراعظم یا وزیرخارجہ نے کسی بھی ایک ملک کا دورہ کرکے، اس کے حکمران کو اعتماد میں لیا ہو۔

محض گھربیٹھے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، دوسرے ملک کے وزیرخارجہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان، اپنے ہم منصبوں سے فون پہ بات کرلیتے ہیں، مگر مجال ہے انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا وعدہ یاد دلایا ہو، یایہ کہ فون کرکے بتایا ہو، کہ دنیا کے ایک شہر کے 80لاکھ باسیوں کو گھروں میں محصور رکھ کر مودی نے درختوں کے پتے کھانے پہ مجبور کردیا ہے، اور وہاں کی عفت مآب مسلمان عورتوں کی عصمت دری کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، اور ایسی صورت حال کے تدارک کے لیے عورتیں سٹیل اور جست کے بڑے بڑے برتن بجانا شروع کردیتی ہیں تاکہ مسلمان آکر انہیں ظلم وجبر سے بچائیں پاکستان کو اگر عالمی دباﺅ، اور شاید عالمی وضع کردہ قانون کے تحت وزراءخارجہ کو بلانے کی اجازت نہ ہو، یا شاید اللہ تعالیٰ نے اتنی جرا¿ت اور مسلمانی خودداری سے محروم رکھا ہو، مگر کیا ہماری دینی جماعتیں بھی عقل ودانش اور دور اندیشی سے عاری ہیں ان میں جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ، ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اس حوالے سے کیوں خاموش بن کر مجرم بنی ہوئی ہیں، اگر وہ دنیا بھر سے علمائے کرام اور شیوخ الاعظام کو پاکستان میں بلائیں، اور ان سے مسئلہ کشمیر کے حل پہ مذاکرات کریں، اور آخری اعلامیے کے طورپر ان سے جہاد کو فرض اور لازم کا اعلان کروادیں، جوکہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے ویسے ہی فرض ہوگیا ہے، تو مودی کی ماں جہاد کا نام سن کر مرجائے گی۔ اس سوال پہ بہت سے مسلمان اس بہانے کو بروئے کار لانے کی کوشش کریں کہ عددی لحاظ سے بھارت ہم سے زیادہ طاقت ور ہے۔

تو حضورعددی لحاظ سے تو ہندو حضور کے دور سے لے کر آج تک زیادہ ہیں ریاست مدینہ کے قائم کرتے ہی ریاست کے دفاع کے لیے حضور نے جہاد لازم قرار دیا تھا، جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے 5ہزار نشان زدہ فرشتوں سے فتح کی بشارت دی، 313مجاہدان اسلام نے عرب کے کفار کو عبرت ناک شکست سے دوچار کردیا، جنگ احد، غزوہ سویق، غزوہ خندق، غزوہ احباب ، غزوہ خیبر ، غزوہ موتہ، غزوہ حنین ، غزوہ تبوک ، وغیرہ میں عددی توازن بھی ہمیشہ کی طرح متوازن نہیں تھا، اور نہ ہی اب ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے ہماری فوج خدانخواستہ اس سے متاثر ہو جائے، آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں ان کا یہ کہنا کہ آخری گولی، اور آخری آدمی تک ہم لڑیں گے، اور یہ کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ....

مگر کشمیر کے پاکستانی سفیر، نے تو یہ کہا ہے کہ میں اقوام متحدہ میں جاکر کشمیریوں کا مقدمہ خود لڑوں گا، مگر میری درخواست تو محض اتنی ہے کہ ایک مہینے سے اوپر تو کشمیر میں کرفیو کو ہوگیا ہے، ایک مہینے بعد اقوام متحدہ کا جب اجلاس ہوگا، تو اس وقت تک تو شاید ایک کشمیری بھی زندہ نہ بچا ہو۔ آخر ایک انسان کتنی دیرتک بھوک برداشت کرتا ہے، یقین نہ آئے، تو دنیا میں بھوک ہڑتال سے مرنے والوں کی تعداد دیکھ لیں۔ لہٰذا قوم کو ”کشمیر کے سفیر“ کے بجائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ظالم کے بارے میں کہے گئے فرمان پہ ایمان رکھ کر انتظار کرنا چاہیے کہ جو مودی کو نشان عبرت بنا دے گا ان شاءاللہ ۔(جاری ہے)


ای پیپر