احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل کی واجد ضیا پر جراح
17 ستمبر 2018 (16:32) 2018-09-17

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کے دوران والیم 10 سے متعلق سوال پر پراسیکیوٹر نیب نے اعتراض اٹھا تے ہوئے کہا کہ والیم ٹین سپریم کورٹ میں سربمہر صورت میں موجود ہے، خواجہ حارث کو والیم ٹین سے متعلق سوالات کی اجازت نہ دی جائے، اگر خواجہ صاحب کو والیم 10 نہ ملنے کا اعتراض تھا تو اس کے حصول کی درخواست دیتے ۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہ آرڈر کہاں ہے جس میں والیم ٹین کو سربمہر کر کے پبلک نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو؟ ، گواہ نے دوران جرح ایم ایل ایز کا ذکر کیا اور بتایا کہ باہمی قانونی معاونت کے تحت لکھے گئے خطوط سربمہر والیم ٹین میں ہیں،جب جرح میں ذکر آ گیا تو اس متعلق میرا سوال بنتا ہے، کوئی چیز میرے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو مجھے اس پر دفاع کا حق حاصل ہے۔

  احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک سابق وزیراعظم کے خلاف نیب ریفرنس کی ۔سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کی وجہ سے پیرول پر رہائی کے بعدلاہور میں موجود ہیں۔ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیا سے جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہجے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 رجسٹرار سپریم کورٹ کی موجودگی میں سیل کیا گیا یا پہلے کردیا گیا تھا؟، واجد ضیا نے جواب دیا کہ آپ ڈیڑھ سال پرانی بات پوچھ رہے، اب مجھے یاد نہیں ۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ کے سامنے والیم 10 سیل ہوا؟، واجد ضیا نے جواب دیا کہ والیم ٹین میرے سامنے سیل کیا گیا، لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ سپریم کورٹ میں ریکارڈ پہنچانے سے پہلے والیم ٹین سیل کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی عدالتی آرڈر شیٹ سے واضح نہیں کہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں والیم ٹین سیل جمع کروایا گیا ہو۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے جے آئی ٹی رپورٹ کے سربمہر والیم ٹین سے متعلق سوالات پر اعتراض اٹھا دیا۔

نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے استدعا کی کہ والیم ٹین سپریم کورٹ میں سربمہر صورت میں موجود ہے، خواجہ حارث کو والیم ٹین سے متعلق سوالات کی اجازت نہ دی جائے ۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سوال اب جرح میں طے نہیں کیا جا سکتا، اس سے متعلق الگ پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہ آرڈر کہاں ہے جس میں والیم ٹین کو سربمہر کر کے پبلک نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو؟ ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر خواجہ صاحب کو والیم 10 نہ ملنے کا اعتراض تھا تو اس کے حصول کی درخواست دیتے، لیکن اب وہ گواہ سے والیم ٹین سے متعلق سوالات نہیں کر سکتے۔خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ نے دوران جرح ایم ایل ایز کا ذکر کیا اور بتایا کہ باہمی قانونی معاونت کے تحت لکھے گئے خطوط سربمہر والیم ٹین میں ہیں ۔انہوں نے کہا جب جرح میں ذکر آ گیا تو اس متعلق میرا سوال بنتا ہے اور اگر کوئی چیز میرے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو مجھے اس پر دفاع کا حق حاصل ہے۔جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے اور سپریم کورٹ کا آرڈر دو مختلف چیزیں ہیں۔


ای پیپر