خاور مانیکا کیس: چیف جسٹس نے آئی جی کو بیج اتارنے کا حکم دیدیا 
17 ستمبر 2018 (14:45) 2018-09-17

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں سابق آئی جی پنجاب کلیم امام کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے انہیں حکم دیا کہ آئی جی صاحب اپنے بیج اتار دیں، ایک شخص کو بچانے کے لیے آپ نے پوری پولیس فورس کو تباہ کردیا،ہم نے لکھ دیا تو آپ پولیس میں نہیں رہیں گے، ایک شخص کو بچانے کے لیے آپ نے پوری پولیس فورس کو تباہ کردیا۔

پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم نے آپ پر اعتماد کر کے رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا، آپ نے بدنیتی سے رپورٹ بنائی ہے،ہم نے لکھ دیا تو آپ پولیس میں نہیں رہیں گے۔ چیف جسٹس نے کلیم امام سے کہا کہ اپنے دفاع کے لیے وکیل بھی کرلیں،کام ایمانداری سے کیا یا نہیں یہ تعین عدالت کریگی، کلیم امام! آپ کوموقع دیا تھا آپ نے گنوا دیا۔انہوں نے کلیم امام سے سوال کیا کہ خود بتائیں آپ آئی جی بننے کے اہل ہیں؟ ایک شخص کو بچانے کے لیے آپ نے پوری پولیس فورس کو تباہ کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کلیم امام سے مزید کہاکہ احسن جمیل نے کس حیثیت میں ڈی پی او سے وضاحت مانگی، آپ کو رپورٹ لکھتے ہوئے شرم کیوں نہیں آئی ۔انہوں نے کلیم امام کو حکم دیا کہ آئی جی صاحب اپنے بیج اتار دیں، ڈی پی او پاکپتن کا رات ایک بجے مشکوک انداز میں تبادلہ ہوا، آپ کہتے ہیں کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر اعلی پنجاب نے کس حیثیت سے پولیس افسران کو طلب کیا؟انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ رپورٹ میں سب اچھا کہا گیا،احسن جمیل گجر کو بلایا تھا، وہ کدھر ہیں؟ احسن جمیل گجر وزیر اعلی پنجاب کے پاس سفارش لے کر گئے تھے۔


ای پیپر