نمائش نہیں عملی اقدامات کی ضرورت
17 ستمبر 2018 2018-09-17

پی ٹی آئی کی حکومت کا پہلا مہینہ مکمل ہونے کو ہے۔ غیرجانبداری سے جائزہ لیا جائے تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ پہلے ماہ میں 100روزہ پلان کی تکمیل کی جانب پیش رفت کم، نان ایشوز اور نمائشی اقدامات پر توجہ زیادہ رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری اور سادگی اپنانے کا اعلان کر کے جہاں ایک طرف خوب داد سمیٹی وہیں اس حوالے سے کچھ عملی اقدامات اور بیانات باعث شرمندگی بھی بنے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہیں گے تو سوال اٹھا وزیراعظم کہاں رہیں گے؟ پہلے کہا گیا عمران خان اپنی رہائش بنی گالہ میں ہی قیام کریں گے۔ پھر منسٹرز انکلیو، سپیکر ہاﺅس اور آخر کار وزیراعظم ہاﺅس کے احاطے میں ملٹری سیکرٹری کی رہائش گاہ کو وزیراعظم کا مسکن بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور وہ یہاں منتقل ہو گئے تو بنی گالہ آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر پھر تنقید کی زد میں آ گئے۔ بحث شروع ہو گئی ہیلی کاپٹر کا استعمال کفایت شعاری ہے یا فضول خرچی۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسے کفایت شعاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر پر صرف 55روپے کلومیٹر خرچ آتا ہے اور یہ بذریعہ سڑک سفر سے سستا پڑتا ہے۔ اس پر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کئی روز تک خوب تماشا لگا رہا۔ دلچسپ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے حکومتی دعوے کا تمسخر اڑایا گیا جو حکومت کے لئے سبکی کا باعث بنا۔ اپوزیشن نے صورتحال کو خوب انجوائے کیا۔

کفایت شعاری مہم کے تحت حکومت نے چار ہیلی کاپٹر، درجنوں گاڑیاں نیلام کرنے کا اعلان کیا تو کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کے دفتر کو آگاہ کیا کہ چاروں ہیلی کاپٹر امریکہ نے سابق حکومتوں کو ریلیف اور ریسکیو کے لئے تحفتاً دیئے تھے جو پروزوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب پرواز کے قابل نہیں ہیں۔ یہ انکشاف عوام کے لئے باعث حیرت تھا کہ ناکارہ ہیلی کاپٹروں پر برائے فروخت کا اشتہار ”سیاسی کفایت شعاری“ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ایسی ہی صورتحال نیلامی کیلئے رکھی گئی گاڑیوں کی ہے، ان میں سے بیشتر کھٹارا ہو چکی ہیں جو استعمال کے قابل نہیں ۔

بجلی دو سے چار روپے یونٹ، گیس 46فیصد تک مہنگی کرنے اور تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھانے کی اطلاعات پر اپوزیشن اور عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ جس پر حکومت کو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

اسی طرح قادیانی عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن بنایا گیا تو مذہبی حلقوں اور عوام کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔ پہلے فیصلے کا دفاع کیا گیا کہ عاطف میاں کو اسلامی نظریاتی کونسل نہیں اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن بنایا گیا ہے لیکن جب احتجاج شدید ہو گیا تو فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ فیصلوں کی تبدیلی سے حکومت کا تاثر پیدا ہوا اور عوام کو محسوس ہوا کہ وہ کنفیوژن کا شکار ہے یا اس کی ٹیم کمزور ہے۔ فیصلے لینے سے قبل ہوم ورک کی کمی بھی واضح نظر آئی۔ وزیراعظم عمران خان کی موجودہ ٹیم میں شاہ محمود قریشی سینئر ترین کھلاڑی ہیں، تجربہ کار ہونے کی وجہ سے ہی انہیں وزارت خارجہ سونپی گئی لیکن حیرت ہوئی سب سے زیادہ بونگیاں انہی کی وزارت میں ماری گئیں۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے نو منتخب پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے مبارکباد دی تو تاثر دیا گیا کہ بھارت مذاکرات کی بحالی پر تیار ہو گیا۔ بھارتی وضاحتی بیان شرمندگی کا باعث بنا۔

امریکی وزیر خارجہ پومپیو کے وزیراعظم عمران خان کو فون کے بعد پاکستان کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کو امریکی دفتر خارجہ نے مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ پومپیو نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مزید اقدامات کی بات کی جبکہ پاکستان کا موقف تھا ایسی بات نہیں ہوئی۔ امریکہ نے گفتگو کا ٹرانسپکرٹ جاری کیا تو ہمارے دفتر خارجہ نے معاملے پر مٹی پاﺅ والی پالیسی اختیار کر لی۔ سبکی پھر ہمارا مقدر ٹھہری۔

حکومت کی طرف سے صحافیوں سے ملاقات کے دوران فرانسیسی صدر کا فون سننے سے عمران خان کے انکار کا تاثر کسی لطیفے سے کم نہیں ۔ سفارتی سطح پر ایسے کارناموں سے بیرون ملک کوئی اچھا پیغام نہیں گیا ہو گا۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اتنی بدحواسیاں حکومت کی ناپختگی‘ ناتجربہ کاری اور اناڑی پن کی چغلی نہیں کھا رہیں؟ ابھی کچھ نہیں بگڑا صرف فہم و فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔حکومت کوئی بھی بیان جاری کرنے اور فیصلے لینے سے پہلے ضروری ہوم ورک، مشاورت اور سوچ بچار سے ایسی خامیوں پر آسانی سے قابو پا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی اب حکومت میں آ چکی ہے اس کی سوچ اور طریق کار حزب اختلاف والا نہیں ہونا چاہئے، زیادہ سنجیدہ طرز عمل اپنانا ہو گا۔ اس کا فوکس نمائشی اقدامات کے بجائے ٹھوس اور عملی اقدامات پر ہونا چاہئے۔ اسے اپنی تمام ترتوانائیاں وقتی واہ واہ پر صرف کرنے کے بجائے 100روزہ پلان کو پورا کرنے پر خرچ کرنی چاہئیں۔ اگر عمران خان 100روز میں اپنے اعلان کردہ آدھے اہداف بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کے بعد کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکے گا۔ ناکامی کی صورت میں حکومت کے لئے مشکلات بڑھیں گی۔


ای پیپر