اب مقابلہ کر کے دکھاوں گا، نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں پاک فوج پر ہے، وزیراعظم
17 اکتوبر 2020 (16:50) 2020-10-17

اسلام آباد: کنونشن سینٹر میں ٹائیگر فورس کنونشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اپنی ٹائیگر فورس کو شاباش دیتا ہوں کیونکہ 28 مارچ سے ہم نے ٹائیگر فورس بنائی اور  کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورت حال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس شاندار کام کی وجہ سے میں پوری قوم کی جانب سے ٹائیگر فورس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پہلے جلسے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ میں رات کی سرکس میں بہت بڑے فنکار تھے۔ ان فنکاروں نے ملک کے خزانوں کو لوٹا ہے جو اب شور مچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ٹائیگر فورس کا سب سے بڑا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے کیونکہ جب بھی قوم پر کوئی بڑی مشکل آتی ہے تو ملک کے نوجوان مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شہریوں کی رضا کار فورس کا بہت بڑا مقام ہوتا ہے اور آپ نے شہریوں کی مدد کرنی ہے کیونکہ سارے کام حکومت نہیں کر سکتی اور اس کے لئے ٹیم کی ضرورت ہوتی ۔ ملک میں اس وقت جو گندم کا بحران پیدا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچا لیکن اب ٹائیگر فورس کی وجہ سے ملک بھر میں درخت لگائیں گے اور تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختوانخو امیں لاکھوں کی تعداد میں شہریوں کی مدد سے درخت لگائے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا جب میں نے شوکت خانم ہستپال بنانا تھا تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں سے مدد لیں اور آپ جیسے ٹائیگرز نے اس ہسپتال کی تعمیر میں میری مدد کی۔ 

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غیر مناسب وقت میں بارش ہوئی جس کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں نقصان ہوا۔ جب گندم کی قلت ہوئی تو اس کی قیمت بڑھنے لگی اور ہمیں دیر سے معلوم چلا کہ گندم کی پیداوار کم ہوئی کیونکہ یہاں جو نظام موجود ہے گندم کی پیداوار سے متعلق آگاہی دینے کا وہ خراب تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  گندم کا جتنا بھی خسارہ تھا وہ سارا درآمد کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک مارکیٹ کو نہیں معلوم چلاتھا کہ ہم نے گندم درآمد کی تو یہاں ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی اور ذخیرہ اندوزی ملک کی بڑی لعنت ہے۔ ذخیرہ اندزوں کے خلاف موثر حکمت عملی کے لیے مجھے ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے، ٹائیگر فورس خود جا کر مداخلت نہیں کرے گی، موبائل فون پر تصویر لے کر پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہے تاکہ انتظامیہ ایکشن لے اور  اس طرز عمل سے ٹائیگرفورس اتنظامیہ کی مدد کرے گی۔ 

وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کو بتایا کہ آپ نے خود مداخلت نہیں کرنی ورنہ ایسے لوگ ٹائیگر فورس کا حصہ بننےلگٰیں گے جو دکانداروں کو بلیک میل کر کے پیسہ بنانے لگیں گے۔   عمران خان نے کہا کہ چینی بحران سے متعلق کہا کہ پہلی مرتبہ تفصیلی انکوائری ہوئی ہے اور ہمیں ساری چیز معلوم ہو گئی ہیں اور جو منصوبہ لے کر آ رہے ہیں آئندہ مہنگی چینی نہیں ملے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے جلسے کو سرکس قرار دیتے ہوئے کہا میں نے 11 سال پہلے پیشگوئی کی تھی کہ ایک دن یہ سرکس ہو گی کیونکہ جب چوروں کی چوری پر ہاتھ پڑے گا یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے اور رات 2 بچوں نے تقریریں کیں ان پر بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ جہد و جہد نہ کرنے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا کیونکہ ان دونوں بچوں پر تبصرہ فضول ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ان بچوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک گھنٹہ حلال کا کام نہیں کیا اور اپنے دونوں باپوں کی حرام کی کمائی پر بننے ہیں۔ 

وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کو "12واں"کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم 11 کی ہوتی ہے لیکن 12 ویں کھلاڑی پر کیا بات کروں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری پر کیسز جنرل باجوہ نے نہیں بنائے اور یہ گیدڑ جو دم دبا کر باہر بھاگا اور لندن میں بیٹھ کر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر جو زبان استعمال کی وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ نواز شریف جنرل جیلانی کے گھر کے اوپر سریا بناتے ہوئے منسٹر بنا اور ضیاء الحق کے جوتے پالش کرتے ہوئے چیف منسٹر بنا . 

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے چیف جنرل درانی کی ایما پر مہران بینک سے کروڑوں روپے وصول کیے تھے تاکہ الیکشن لڑ سکے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی سپریم کورٹ کو رپورٹ دی لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدالتوں نے نواز شریف کی مدد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف وہ شخص ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو دو مرتبہ جیل میں رکھا تھا۔ آصف علی زرداری نے نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دائر کرایا تھا اور جنرل باجوہ نے مقدمہ نہیں کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے دوران ایک کتاب کا حوالہ دے کر کہا کہ نواز شریف اپنی فوج سے خوفزدہ تھے اور امریکی فوجیوں کو ملک میں آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف نے وہ کیا ہے جو میر صادق اور میر جعفر نے اپنی قوموں سے کیا تھا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا نواز شریف کا حملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید پر نہیں بلکہ پوری فوج پر ہے۔ کیونکہ یہ ہی بیانیہ نریندر مودی کا تھا جب مودی نے متعدد مرتبہ بیان دیا کہ نواز شریف پسند ہے لیکن پاکستان کا آرمی چیف نہیں، مودی بار بار ایسا کہتا رہا لیکن نواز شریف خاموش تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ مودی مجھے کیوں نہیں کہتا ہے کہ عمران خان ٹھیک ہے لیکن جنرل باجوہ غلط ہے کیونکہ مودی کو معلوم ہے کہ میں نے بھارت کی اصل صورت پوری دنیا کو دکھائی ہے کہ بھارت کتنا بڑا انتہا پسند ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کےآرمی چیف کے خلاف بیان کو بھارتی میڈیا میں غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ نواز شریف کو جمہوری قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا بھارت کو نہیں معلوم کہ ضیا الحق نے نواز شریف کو گود میں بیٹھا کر چوسنی لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کیا بھارت کو نہیں معلوم ہے نواز شریف نے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ ظلم دیکھیں کہ نواز شریف نے باقی ججز کو بریف کیس دے کر خریدا تھا اور یہ وہی نواز شریف ہے جو آج جمہوری بنا ہوا ہے جبکہ یہ نواز شریف ہی تھا جس نے جسٹس قیوم کو فون کر کے کہا تھا کہ بے نظیر کو 3 نہیں بلکہ 5 سال سزا دو۔ 

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کرپٹ ترین انسان قمر زمان کو قومی احتساب بیورو کا چیئرمین بنا کر اپنے خلاف تمام کیسز بند کرائے اور جب تک نواز شریف کے ساتھ عدلیہ کھڑی ہے تب تک عدلیہ ٹھیک ہے اور حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ بند ہوتا ہے تو عدلیہ اچھی ہے لیکن 5 رکنی بینچ نواز شریف کو سزا دیتا ہے تو 'کیوں نکالا' کہہ کر عدلیہ کو بدنام کرتا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے دوران اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب اپوزیشن مختلف عمران خان دیکھے گی اور اب کسی ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا۔ کل کی تقریر سن کر نیا عمران خان بن گیا ہے اور اب سے ان کو کوئی وی آئی پی جیل نہیں ملے گی بلکہ عام جیل ملے گے اور ان کا اب مقابلہ کر کے دکھاؤں گا۔

عدلیہ اور قومی احتساب بیورو (نیب)  کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عدلیہ اور نیب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ لوگ تنگ آ گئے ہیں اور انصاف چاہتے ہیں جبکہ قوم انتظار کر رہی ہے کہ مقدمے کب عدالت میں مکمل ہوں گے۔ حکومت ہر طرح کی مدد دینے کو تیار ہیں اور ان کے کیسز روز سماعت کر کے ختم کریں۔

نیب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیب نے صحیح کام کیا ہے اور نیب آزاد ہے مگر میرے ماتحت جو ادارے ہیں ان کو تیار کروں گا اور ان چوروں کو اب پکڑیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آخر میں ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ فوج اور عدلیہ میں انتشار پھیلائیں، نوازشریف جو گیم کھیل رہا ہے اس کا پتا ہے۔ انہوں نے کہا جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشکل وقت میں حکومت کی مدد کی جبکہ بارشوں اور کورونا کے دوران حکومت کی مدد کی اور ساری خارجہ پالیسی میں فوج اور جنرل باجوہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف سن لو اب سے میری کوشش ہے کہ تمہیں ملک میں واپس لایا جائے اور اب عام جیل میں ڈالا جائے گا۔


ای پیپر