مصلحت نہیں حقیقت پسندی
17 اکتوبر 2020 (11:56) 2020-10-17

پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر بہت تشویشناک ہے آئے روز قانون نافذکرنے والے اِداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اِس میں اندرونی عوامل ہیں یا بیرونی ہاتھ ہے سیکورٹی پر مامور اِداروں کو بغور جائزہ لے کر خاتمہ کرنا چاہیے کیونکہ ابھی تو دہشت گردی کے خاتمے کے دعوؤں کی گونج بھی ختم نہیں ہوئی کہ دہشت گردوں نے نہ صرف سر اُٹھانا شروع کر دیا ہے اور اِتنے حوصلے بڑھ گئے ہیں کہ براہ راست حملے کرنے لگے ہیں جس سے قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے ایک ہی روز بلوچستان اور وزیر ستان میں کیپٹن سمیت بارہ جوانوں کی شہادت المناک سانحے ہیں یہ سانحات اِس امر کے متقاضی ہیں کہ دیگر سرگرمیاں چھوڑکر قومی سلامتی کو یقینی بنانے پر طرف توجہ دی جائے۔

چند ماہ سے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر شرپسندوں کی طرف سے اِکا دکا دہشت گردی کے واقعات معمول تھے جن میں اچانک شدت کیوں آگئی ہے؟سمجھنا کوئی مشکل نہیں کیونکہ افغانستان سے انخلا پر امریکہ میں کوئی دورائے نہیں اور ٹرمپ فوری نکلنے میں یکسو ہیں لیکن اِس کے ساتھ بھارت کے افغان کردار میں اضافہ کے بھی خواہشمند ہیں حالانکہ اِس خواہش کے پورا ہونے کے بظاہر امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اِس لیے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات خراب کیے جارہے ہیں تاکہ ایک طرف تو چین کی معاشی سرگرمیاں محدود کی جائیں دوسری طر ف پاکستان پر دباؤ بڑھا کر خطے کا موجودہ ماحول تسلیم کرایا جائے لیکن کیا ہماری ملکی قیادت اغیار کی سازشوں سے آگاہ ہے؟میرے خیال میں اِس سوال کا وثوق سے ہاں میں جواب دینا مشکل ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب عمران خان یہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے اپوزیشن سے سمجھوتہ نہیں کروں گا یہ دوٹوک موقف اِس امر کی تائید کرتا ہے کہ اُنھیں حالات کی سنگینی کا احساس نہیں بلکہ وہ اپنی سوچ کے حصار میں بند ہیں اور ملک میں سیاسی استحکام لانے کی خواہش نہیں رکھتے صورتحال کے تناظر میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرنے والی حکومت اپنے ملک کی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو کیوں معیوب سمجھتی ہے؟جبکہ کرپشن کے خلاف نیب کاروائیوں پر عدلیہ کی طرف سے بھی بداعتمادی کا اظہار ہونے لگا ہے لیکن بھارت کی طرف مذاکرات کی آرزو نہ کرنے کے باوجود وہ کونسی مجبوری ہے کہ اسی لاکھ کشمیریوں کی نظر بندی بھول کر بظاہر محب الوطن حکومت بات چیت کے لیے بے چین ہے کیا ملک کی اپوزیشن 

بھارت سے بھی گئی گزری ہے؟ضرورت اِس امر کی ہے کہ مصلحت نہیں حقیقت پسندی سے کام لیا جائے۔

دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغانستان اور بھارت ایک ہیں تربیت اور مالی مدد بھارت فراہم کرتا ہے جبکہ افغانستان سہولت کار کاکردارادا کرتے ہوئے اپنی زمین استعمال کرنے دیتا ہے دونوں مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں کچھ عرصہ پیشتر پاک فوج نے کامیاب کاروائیوں کے دوران ملک سے شرپسندوں کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا تھا لیکن موجودہ دہشت گردی کی لہر سے ثابت ہوگیا ہے کہ دہشت گردکمزور ضرورہوئے مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے علاوہ ازیں افغانستان کے ساتھ طویل اور پیچیدہ سرحد آمدورفت میں بہت سہل ہے اِس لیے دہشت گردوں کا سرحد پارجا چھپنا عین قرین قیاس ہے جو ملک میں جاری عدمِ استحکام کی بنا پر دوبارہ مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں جن پر آہنی ہاتھ ڈالنا مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری تبھی بطریق احسن پوری ہو سکتی ہے جب سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رہ کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا کر فرائض پر توجہ مرکوز کی جائے۔

بلوچستان کوسٹل ہائی وے پر ایف سی کے سات جوانوں اور وزیر ستان میں کیپٹن سمیت چھ جوانوں کونشانہ بنانا ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردازسر نو منظم ہونے لگے ہیں بدھ کے روز باجوڑ کے علاقے میں سرحد پار فائرنگ سے پاک فوج کے ایک جوان کو شہید کیا گیا یہ واقعات ملک کو درپیش خطرات کوبڑی حد تک واضح کرتے ہیں ستم ظریفی یہ کہ افغانستان کے سیکورٹی ادارے جو اپنے ملک میں بے بسی و لاچارگی کی تصویر ہیں پاکستان کے بارے میں ناپاک عزائم کا اظہار کرنے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے پاکستان بارڈر پار دہشت گردی روکنے کے لیے سرحد پر باڑ بھی لگا رہا ہے پھر بھی سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے خاصا حیران کن ہے جب تک دہشت گردوں کو ہر جگہ اور ہر پہلو سے شکست نہیں دی جاتی تب تک مکمل طور پر امن قائم نہیں ہو سکتا مشرقی سرحد کے ساتھ شمال مغربی سرحد پر خطرات میں غیر معمولی اضافہ مصلحت کی بجائے حقیقت پسند ہوکر سوچنے کا تقاضا کرتا ہے کہ دہشت گردوں کے بارے میں کارروائیوں میں نرمی یا تساہل سے کام لیا گیا تو ملک کے امن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ نہیں کہتے کہ پاک فوج تمام خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے کئی بار ناممکن کو ممکن بنایا ہے مگر کچھ کام حکومتوں کے ہوتے ہیں جب امریکہ  اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو تشدد میں کمی اور مذاکرات پر آمادہ کیا تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان بھی سفارتی ذرائع سے یہ پیغام دے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اب افغانستان اور بھارت کو پاکستان کے خلاف کاروائیوں کو باز رکھنے میں کردار ادا کریں چاہے زلمے خلیل زاداورافغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے بات کرلیں پاکستان کے پاس ڈھیروں ثبوت ہیں کلبھوشن جیسے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کے اعتراف موجود ہیں کئی ایک بھارتی کمانڈرمیڈیاپردہشت گردی کے دعوے کرتے رہتے ہیں بی ایل اے جیسی علحدگی پسند تنظیم کے زخمیوں کا دہلی میں علاج کے ثبوت ہیں جنھیں دنیاکوپیش کرنے سے حکومت کیوں ہچکچا رہی ہے اب بھی خاموشی یا مصلحت پسندی سے کام لیا گیا تو دشمن بھارت مزموم مقاصد کے لیے افغانستان سے مل کر پاکستان کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے اِس لیے غفلت کی بجائے ٹھوس بنیادوں پرکام کرکے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جائے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کارلایا جائے۔


ای پیپر