غداری کا مقدمہ: پس پردہ حقائق اور شیخ مجیب الرحمٰن کا تذکرہ!
17 اکتوبر 2020 (11:52) 2020-10-17

لاہور کے تھانہ شاہدرہ  میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف سمیت دوسرے مسلم لیگی راہنماؤں کے خلاف بغاوت ( غداری)، مجرمانہ سازش اور تعزیراتِ پاکستان کی دوسری دفعات کے تحت قائم کردہ مقدمہ اگرچہ میاں محمد نواز شریف کے علاوہ باقی افراد کے خلاف ختم کر دیا گیا ہے لیکن اس مقدمے کے حوالے سے کچھ حقائق بہرکیف ایسے ہیں جو قابلِ غور سمجھے جا سکتے ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ مقدمہ کیسے قائم ہوا؟ کس کی ایماء پر بدررشید ہیرہ جیسے شہری جو پولیس ریکارڈ کے مطابق بذاتِ خود کئی مقدمات میں پولیس کو مطلوب رہا ہے اور تحریک انصاف کا سرگرم رکن بھی بتایا جاتا ہے نے مسلم لیگی قائدین کے خلاف درخواست دی اور تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او نے اپنی  "فرض شناسی"یا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا ثبوت دینے کے لیے رات کے 2بجے اس پر ایف آئی آر کاٹی اور میاں محمد نواز شریف اور دیگر کم و بیش 40مسلم لیگی قائدین کو قصوروار گردانتے ہوئے ان کے خلاف بغاوت ( غداری) اور مجرمانہ سازش سمیت تعزیراتِ پاکستان کی بعض دوسری دفعات (کُل سات دفعات) کے تحت مقدمہ قائم کیا۔ میاں محمد نواز شریف کو تو ایف آئی آر میں پہلے نمبر پر رکھا ہی تھا تو ان کے ساتھ سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، بزرگ مسلم لیگی راہنما راجہ ظفر الحق، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور تین ریٹائرڈ جرنیل لیفٹننٹ جرنیل عبدالقیوم ملک، لیفٹننٹ جرنیل صلاح الدین ترمذی اورلیفٹننٹ جرنیل عبد القادر بلوچ بھی تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او کی مہربانی سے ملزم نامزد ہوئے۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور مسلح افوارج سے ریٹائرڈ تین جرنیلوں کو بغاوت اور مجرمانہ سازش میں ملوث قرار دینے سے قومی اور بین الاقوامی طور پر مسئلہ کشمیر، پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے بارے میں کیا تاثر ابھرے گا لیکن ان باتوں سے غرض سوچ سمجھ کر، دانائی، تحمل، حکمت اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر وسیع تر مشاورت سے فیصلے کرنے والی قیادت کی ہی ہو سکتی ہے۔ جن کا تکیہ کلام اور وطیرہ ہی ہر وقت الزام تراشی اور مخالفین کو برا بھلا کہنا ہو، انہیں چور، ڈاکو، لٹیرے، اور وطن دشمن کہہ کر پکارنا ہواور انہیں این آر او نہ دینے اور کسی کو نہ چھوڑنے کی دھمکیاں دینا ہو، ان سے اس طرح کی توقع رکھنا عبث ہے۔ 

خیر بغاوت ( غداری)، مجرمانہ سازش اور دوسری دفعات کے تحت مسلم لیگی قائدین کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور ایف آئی آر کٹنے کی دیر تھی کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں اس کا ڈنکا بج گیا۔ اخبارات میں مقدمہ کے بارے میں شہ سرخیاں لگیں تو الیکٹرانک میڈیا میں بریکنگ نیوز چلیں۔ تحریک انصاف کے قائدین جن میں کابینہ کے اہم ارکان بھی شامل تھے، خوشی کے شادیانے بجاتے نظر آنے لگے۔ لیکن یہ شادیانے دیرپا ثابت نہ ہوئے۔ ٹی وی ٹاک شوز، اخبارات کے اداریوں اور کالموں میں مقدمے پر لے دے شروع ہو گئی۔ سنجیدہ خو قومی حلقوں کی طرف سے اس مقدمے کے اندراج کو قومی یکجہتی کے لیے زہرقاتل قرار  دیا جانے لگا۔ وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور فوج کے تین ریٹائرڈ جر نیلوں کو بغاوت کے مقدمے میں نامزد کیے جانے کے منفی مضمرات کا ہی تذکرہ نہ ہونے لگا بلکہ حکومتی زعما اور سرکاری اہلکاروں کی نا پختہ اور شاہ 

سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کی سوچ کو بھی ہدف تنقید بنایا جانے لگا۔ اس پر حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے قائدین کو بھی ہوش آئی اور وفاقی وزیرِ چوہدری فواد حسین یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ وزیرِ اعظم عمران خان اس مقدمے کے اندراج سے خوش نہیں اور نہ ہی حکومت کو اس مقدمے سے کچھ لینا دینا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزراء کی اکثریت نے میاں محمد نواز شریف سمیت مسلم لیگی قائدین کے خلاف بغاوت، مجرمانہ سازش اور دیگر دفعات کے تحت مقدمے پر اظہارِ ناپسندیدگی کیا تو لال حویلی کے فرزند عصرِ حاضر کے بقراط سے شیخ رشید اور فرزند ایم کیو ایم  وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم  نے اپنے اس موقف پر اصرار کیا کہ مقدمہ درج ہو ہی گیا ہے تو اس کو واپس لینے کی بجائے اس کی پیروی کی جانی چاہیے۔ 

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء کی اکثریت کی اس مقدمے سے برأت یاوزیرِ اعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ انہیں اس طرح کے مقدمات سے کچھ لینا دینا نہیں کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ وفاقی حکومت اس مقدمے کے اندراج سے بے خبر تھی یا یہ مقدمہ اس کی ایما کے بغیر درج ہوا۔ ایسا قطاً نہیں۔ ایک بڑے قومی معاصر کے ایگزیٹو ایڈیٹر سینئر صحافی، معتبر تجزیہ کار اور کالم نگار جناب سہیل وڑائچ نے "وفاقی وزراء اور اپوزیشن کا احتجاج "کے عنوان سے چھپنے والے اپنے کالم میں اس بارے میں  روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں "کوئی وفاق سے پوچھے کہ پنجاب میں سی او پی، سی سی او پی، اور آئی جی تو آپ آئے دن تبدیل کرتے ہیں۔ پانچ یا چار چیف سیکریٹری تو آپ تبدیل کر چکے ہیں حتیٰ کہ کمشنر کے تبادلوں تک کی منظوری آپ سے آتی ہے۔ آپ نے میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان جیسے طاقتور چیف سیکرٹری کو ایک جھٹکے میں بدل دیا۔ پنجاب کو وفاق کے ریموٹ کنٹرول سے چلایا جا رہا ہے، ایسے میں کس کی مجال ہے کہ اپوزیشن کے خلاف غداری کا مقدمہ وفاق کو بتائے بغیر درج کر لیا جاتا۔ مصدقہ اطلاع ہے کہ وفاق کو مقدمہ درج کرنے سے پہلے مطلع کیا گیا۔ البتہ پرچے میں کچھ غیر ضروری نام مقامی سطح پر پولیس نے شامل کر لیے…… ہر معاملے میں وفاق پنجاب میں مداخلت کرتا ہے۔ کوئی الزام لگے تو کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی کردار نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ ثابت ہو کر رہے گا کہ غداری اور سازش کا مقدمہ وفاقی حکومت کو بتا کر ہی درج کیا گیا ہے۔ ترجمان جتنی مرضی وضاحتیں کریں سچ کا بول بالا ہو کر رہتا ہے اور وہ ہوگا۔ "

مسلم لیگی قائدین کے خلاف بغاوت کے اس مقدمے کے اندراج میں وفاقی حکومتی کی ایما اور اس کی اجازت کے بارے میں جناب سہیل وڑائچ کی یہ وضاحت کافی اور شافی سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم ایک اور پہلو ایسا ہے جس کا میں ضرور ذکر کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف جن کی گزشتہ ماہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں کی جانے والی تقریر جس میں انہوں نے عمران خان کو برسراقتدار لانے والوں کا مقابلہ کرنے کی بات کی تھی اور اس کے بعد اس ماہ کے اوائل میں مسلم لیگ ن  کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان اور مسلم لیگ ن کے ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز  سے ان کے یکے بعد دیگرے خطابات کو بنیاد بنا کر ان (میاں محمد نواز شریف) اور دوسرے مسلم لیگی قائدین کے خلاف بغاوت اور مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کیا ہوا کہ مسلم لیگ ن کے  صفِ اول کے قلم کار بغاوت کے اس مقدمے کے اندراج کے خلاف اپنے موقف کو مضبوط ثابت کرنے کے لیے کچھ ایسے دلائل دینے لگے جنہیں میرے خیال میں زیادہ معقول نہیں سمجھا جا سکتا۔اس ضمن میں انہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کے حوالے بھی دیئے کہ کس طرح پاکستان کے مستقل ریاستی اداروں اور مقتدر حکمرانوں نے گزشتہ صدی کے 60کی دہائی میں شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار بنانے میں جلدی کی اور وہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے اور بنگلہ دیش بنانے کی راہ پر چل پڑے۔میں یہاں قابل صد احترام انتہائی خوبصورت نثر لکھنے والے قلم کارجناب خورشید ندیم جو ایک سلجھے ہوئے اور مثبت سوچ کے حامل دانشور کی حیثیت بھی رکھتے ہیں کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ وہ اپنے کالم میں یہ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن آخری وقت تک پاکستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے اور ان کو اپنے چھ نکا ت پر اصرار نہیں تھا۔ کالم میں گنجائش نہیں ورنہ میں شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات ہی درج نہ کرتا بلکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے اگر تلہ سازش کیس سمیت ان کی دوسری پاکستان دشمن سرگرمیوں کی بھی کچھ تفصیل ضرور بیان کرتا۔ میاں محمد نواز شریف کے مداحین کو یہ حقیقت بھولنی نہیں چاہیے کہ وہ شیخ مجیب الرحمٰن کا ذکر کرکے میاں محمد نواز شریف کوکہیں ان جیسا تو ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن تو پاکستان کے حوالے سے مسلمہ غدارِ وطن کہلا سکتا ہے اور اس میں علیحدگی کی سوچ 1966ء میں اپنے چھ نکات پیش کرنے سے بہت پہلے راسخ ہو چکی تھی۔


ای پیپر