اقوام متحدہ کے لئے نازک مرحلہ
17 اکتوبر 2020 (11:43) 2020-10-17

اگر انسانیت نے پچھلے دس مہینوں سے کچھ سیکھا ہے تو یہ کثیرالجہتی کی اہمیت اور جدید دنیا پر قوم پرستی کے مضر اور نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، دونوں ہی ہوں گے۔ اس وبا نے قوم پرستی کے بہت سارے مظاہرمنکشف کیے اور یہ کہ کس طرح قوموں کے مابین الگ تھلگ نقطہ نظر اور سامان کے تبادلے کو محدود رکھنے سے سیاحت جیسی اہم صنعتوں میں خلل پڑنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سپلائی چین کا خاتمہ جیسے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، دنیا کی آبادی کا 91 فیصد اب ایسے ممالک میں رہائش پذیر ہے جو تارکین وطن کی آباد کاری کو روکتے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کے مطابق 2020 کی دوسری سہ ماہی میں عالمی تجارت میں 27 فیصد کمی ہوئی، جو پچھلے تین مہینوں کے مقابلے میں نمایاں مندی ہے۔ چونکہ اس وائرس سے مقابلہ کے لئے ہر ملک اپنی سرحد کو بند کرتا ہے اس لئے قوم پرستی کی ایک نئی لہر ہمیں غیر یقینی معاشرتی، معاشی اور سیاسی مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔ وبائی مرض کے پھیلاؤ سے پہلے گلوبل ویلیج کے لئے کیے گئے اقدامات کہیں غائب ہو گئے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہم اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

ہم اقوام متحدہ کا تذکرہ کیے بغیر کثیرالجہتی دور نہیں کرسکتے، جس کی 75ویں برسی ستمبرمیں منائی۔ سات دہائیاں گزر گئیں جب برطانیہ، چین اور امریکہ کے دستخط شدہ چارٹر سے جون 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اقوام متحدہ دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے اٹھی تھی تاکہ اس کے رہنما اصولوں کے مطابق عالمی امن و سلامتی کو قائم کیا جاسکے۔ آج 193رکن ممالک پر مشتمل اس عالمی تنظیم نے جنگ کو روکنے اور دوسری عالمی طاقتوں کوامن سے رکھنے کااپنا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ تاہم تیز رفتاری سے پھیلنے والی وبا کووڈ۔19 کا سامنا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو وبائی مرض کے دوران اور اس کے بعد کی صورت حالات میں خود کی اہمیت کو کیسے اجاگر کرنا ہے۔ اسے عالمی سلامتی کے قیام اور ماحول کی حفاظت کے لئے عالمی رہنماؤں کو مل جل کر نت نئے طریقوں کی تلاش کرنا ہو گی۔ عالمی رہنماؤں نے 75 ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں اپنے خدشات کا اظہار کیا، جو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا کہ بین الاقوامی برادری کا یہ اجلاس پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیوز کے ذریعے بھی بلایا گیا تھا۔ اس میں سے اہم ریمارکس جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے تھے، جنہوں نے زور دیا کہ ” اقوام متحدہ صرف اسی وقت موثر ہو سکتی ہے جب اس کے رکن متحد ہوں۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے فوری طور پر امن کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوششوں پر زور دیا۔ ایک اور اہم آواز سیچلز کے صدر ڈینی فیور نے بلند کی، جس نے آب و ہوا کی تبدیلی جیسے خطرناک امور پر روشنی ڈالی جس کی کوئی سرحد نہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سب سے چھوٹی، غریب اور کمزور اقوام بھی ان مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑے، دولت مند اور طاقتور ممالک کی طرح اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔“

جدید دنیا اقوام متحدہ کو ایک اہم عالمی تنظیم کر طور پر ماننے پر تیار نہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل اور دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے 60ملین افراد کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرنے کا اہم پلیٹ فارم رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھا کا معاہدہ بھی اس عالمی ادارے کی اہم کامیابی ہے، جس نے بہت سے ممالک کو مہلک جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا تھا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اقوام متحدہ ابھی تک 1945 کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکی، خاص طور پر فرانس اور برطانیہ جو ابھی تک سلامتی کونسل کے مستقل ممبر ہیں، ایشیا سے صرف ایک مستقل نمائندہ چین ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سے کوئی مستقل نمائندہ نہیں ہے۔ آخر میں، سب سے اہم بات، یہ ہے کہ تمام بجٹ میں تمام اراکین کا حصہ ہے جبکہ بجٹ میں بڑی مقدار کا شراکت دار ملک اپنے مفادات کی بنیاد پر امداد کا تعین اور اس پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ کووڈ کے بعد کی دنیا میں یہ زیادہ اہم ہو گا، کیوں کہ بیشتر ممالک اپنے بجٹ کو کم کر رہے ہیں، جس سے اقوام متحدہ کے لئے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں بڑی رکاوٹ سامنے آئے گی۔ اقوام متحدہ کے پاس افریقہ سے لے کر مشرقی وسطیٰ تک، افریقہ سے لے کر ایشیا تک کے خطوں میں تنازعات، غربت، بھوک اور ماحولیاتی تباہی جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے 75 سال کا مضبوط تجربہ ہے۔ اقوام متحدہ ایک نازک موڑ پر ہے اور ممکن ہے جب اس کی 76 ویں سالگرہ آئے اس کی سانسیں ٹوٹ رہی ہوں۔

(بشکریہ: گلف نیوز 14-10-20)


ای پیپر