اللہ کی پابندیوں میں ہی تو آزادی ہے
17 اکتوبر 2020 (11:37) 2020-10-17

جس کو دیکھو پریشان نظر آتا ہے، ہر کوئی چینی آٹا سبزی دوائی کی قیمتوں کو لے کر پریشان ہے، کسی کو مطمئن نہیں پایا اور میں حکومت کو اس کا کریڈٹ دوں گی کہ اس نے محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے اب کوئی بندہ نواز رہا ہے نہ ہی مہمان نواز۔ 

غور سے دیکھیں تو ہم سب ذہنی،جسمانی اورمعاشی طور پران دیکھی  قید میں جکڑے ہوئے ہیں اور ایک سراب کے پیچھے  بھاگتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی چکر میں کئی لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر ایک چھت کا حصول بھی ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔  ہم جو اتنے مصائب میں مبتلا ہیں کیا وہ اللہ کی طرف سے ہیں یا پھر ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ؟

بہت غور کیا پھر مجھے اپنے اس سوال کا جواب قرآن پاک کی سورہ انعام کی آیت نمبر ایک سو اکاون اور ایک سو باون میں مل گیا،اس کو پڑھنے کے بعد سوچ کی گرہیں کھلنے لگیں۔ 

 ارشاد باری تعالیٰ  ہے۔ 

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں کے تہمارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں! 

۱۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو 

۲۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو 

۳۔اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو 

۴۔ اور بے شرمی کے باتوں کے قریب بھی  نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی 

۵۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگرحق کے ساتھ

یہ باتیں ہیں جس کی ہدایت تمہیں اس نے کی ہے شائد کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو 

۶۔اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد تک پہنچ جائے۔ 

۷ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے۔ 

۸۔ اور بات کہوانصاف کی ہی کہو چاہے 

معاملہ اپنے رشتہ دار کا ہی کیوں نہ ہو 

۹۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو 

ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شائد کہ تم نصیحت قبول کرو 

۱۰۔ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کیراستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے۔ 

یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچ سکو۔ 

صاف ظاہر ہوتا ہے جن پابندیوں میں ہم گرفتارہیں وہ ہماری خود ساختہ ہیں، اللہ کی پابندیاں تو فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے ہیں۔  

مگر ہم کیا کررہے ہیں مگر یہ نام نہاد پیری فقیری کی آڑ میں نذرا نے، کبھی آستانوں پر سجدے، ان کو اپنا حاجت روا ماننا، حلال و حرام کی حدود مقرر کرنا ہم تو شخصیت پرستی میں بت پرستی سے بھی آگے نکل چکے ہیں ہمارا لیڈر چاہے زانی ہو شرابی ہو جھوٹا ہو بے نمازی ہو لٹیرا ہو مگر نہیں ہم تو اس کی ہر بات پر من و عن یقین کریں گے مجھے بتائیں یہ شرک نہیں تو کیا ہے؟

دوسری پابندی والدین کے ساتھ نیک سلوک جس میں ادب اطاعت، خدمت، سب شامل ہے مگر چونکہ ہم نے بھی اپنے والدین کی اطاعت نہیں کی ہوتی توہمارے بچے بھی ہماری اطاعت نہیں کر رہے۔ 

تیسری  چیز بھوک کی وجہ سے اولاد کا قتل تو ہمارے معاشرے میں کبھی بچوں کو زہر دے کر مار دیا جاتا ہے کبھی حمل ضائع کروادیا جاتا ہے۔ 

چوتھی پابندی بہت ہی زیادہ اہم ہے اس میں بے شرمی سے مراد صرف بے حیائی یا زنا نہیں ہیبلکہ اس سے مراد غلط لباس پہننا، فحش کلمات کہنا، فحش مواد دیکھنا، جھوٹی تہمت لگانا، ناجائز رشتے قائم کرنا، رشوت کرپشن، چوری، ذخیرہ اندوزی جھوٹ سب شامل ہے۔ 

پھر انسانی جان کا قتل بھی بہت بڑا جرم ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کی قیمت ایک زرے کے برابر بھی نہیں۔  

اس کے بعد یتیم کے مال کے بارے میں واضح حکم ہے لیکن ہمارے ہاں سب سے زیادہ حق تلفی یتیم کی ہوتی ہے اس کے مال پررشتہ دارعیش کرتے ہیں اوریتیم عمر بھر ان کی غلامی میں گزار دیتا ہے۔ 

اور انصاف کے تو کیا ہی کہنے! 

یہاں تو انصاف بکتا ہے سر سے پاؤں تک، جھوٹی گواہی کے ذریعے  معصوم جان سے چلے جاتے ہیں اور اصلی مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔  

پھر کہا گیا، اللہ کے عہد کو پورا کرو مگر ہم تو کہتے ہیں وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا ہم جھوٹے وعدوں اور دعووں پر حکمرانی کا تاج پہن لیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے یہی تاج روز حشر گلے کا طوق بن جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان پاپندیوں کی صورت میں ایک منظم اسلامی فلاحی معاشرے کے لیے صاف ہدایات دی ہیں مگر ہم نے اس ہدایت کے سرچشمے، روشن دلیل کو غلاف میں لپیٹ کر رکھا ہے اوردنیا بھر کی غلامی کر رہے ہیں۔ 

پھر اللہ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ 


ای پیپر