غربت میں کراہتی قوم اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اخراجات
17 اکتوبر 2020 (11:33) 2020-10-17

 دلدار پرویز بھٹی مرحوم بنیادی طور پر لاہور کے ایک کالج میں انگلش کے لیکچرر تھے اور ساتھ ہی ٹیلیویژن و سٹیج پر اینکر کا رول بھی بخوبی ادا کرتے تھے۔ چونکہ ان کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اس لئے حس مزاح بھی بڑی تیز تھی جس کا استعمال وہ بڑی خوبصورتی سے کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ لاہور کے الحمرا ہال میں اُنھوں نے سٹیج پرکھڑے ایک بات سنائی،کہنے لگے کہ ایک لاہوری باہر سے آئے انگریز کو پاکستان کے حالات کے متعلق بتا رہا تھا، چونکہ انگریز کو پنجابی نہیں آتی تھی اس لیے لاہوری نے اُسے اپنی انگلش میں بتایاکہ Blind woman is lying everywhere  Pakistan in یعنی ”پاکستان وچ ہر پاسے اَنی پئی اوی اے“ اس بات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن آج بھی پاکستان کے وہی حالات ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ لاہور میں وزیراعلیٰ کا دفتر مال روڈ پر واقع جی او آر(GOR 1) کے کلب روڈ پر ہے۔ظاہر ہے یہ حکومت پنجاب کے سب سے اعلیٰ عہدہ د ار کا دفتر ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ اس ایک شخص کے لیے حکومت پنجاب نے تقریباًایک ہزار سرکاری ملازمین کی آسامیاں مہیا کی ہوئی ہیں۔ ان میں گریڈ اکیس سے لے کر گریڈ پانچ تک کے افسران و ملازمین شامل ہیں۔ حتیٰ کہ ایک عدد حجام کی پوسٹ بھی ہے جس پر ایک حجام صاحب متعین بھی ہیں کہ نہ جانے کس لمحے زلفیں تراشنی پڑ جائیں۔ یقین نہ آئے تو حکومت پنجاب کی سالانہ بجٹ بُک میں دیکھ لیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا! جی او آر ون میں ہی چار کشادہ کوٹھیاں وزیراعلیٰ اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے افسران اور ملازمین کے زیر استعمال ہیں۔ 8کلب روڈ، 7کلب روڈ،6 کلب روڈ اور 5  کلب روڈ۔ وزیر اعلیٰ کے استعمال میں مال روڈ پر واقع ایک اور بلڈنگ نوے (90) شاہراہ قائداعظم بھی ہے، اور اورجنل (original) وزیراعلیٰ کا دفتر تو حکومت پنجاب کے مین سیکریٹریٹ میں آج بھی موجود ہے جسے کسی وزیراعلیٰ نے درشن نہیں دکھائے، بس اندھیروں اور اُداسیوں میں ڈوبا پڑا ہے۔ سلطنت 

برطانیہ کا وزیراعظم بورس جانسن جس کا ایک چھوٹی سی بلڈنگ 10 ڈاوننگ سٹریٹ لندن میں آفس ہے اگر ہمارے ایک صوبہ کے وزیراعلیٰ کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ لے تو اُسے اپنی کم حیثتی کے اندازے لگ جائیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے یورپ کے بہت قصے سنایا کرتے تھے لیکن وہ سب قصے نہ جانے کہاں گئے۔ بہتر ہو گا کہ اب وزیراعظم کے احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے میں زندہ رہنے والی قوم کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ متعین افسران اور دیگر ملازمین کی ایک تھوڑی سی جھلک آپکودکھا دیں۔

 وزیراعلیٰ کے ساتھ ایک پرنسپل سیکریٹری متعین ہیں جو اکیس گریڈ کے افسر ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ دو سیکریٹیز گریڈ بیس کے۔ ایڈیشنل سیکریٹریزجو گریڈ انیس کے ہوتے ہیں وہ پانچ ہیں، ڈپٹی سیکریٹرز جو گریڈ اٹھارہ کے افسر ہوتے ہیں وہ سولہ ہیں۔سیکشن آفیسرز جو گریڈ سترہ میں ہوتے ہیں اُن کی تعداد انتیس (29) ہے،اُن کی assistance کے لیے سولہ گریڈ کے پچاس اسسٹنٹ ہیں۔ پرائیویٹ سیکریٹریز سولہ ہیں، پرسنل اسسٹنٹ 16گریڈ کے بارہ ہیں۔چیف کمپٹرولر گریڈ انیس کے موجود ہیں۔دو کمپٹرولر گریڈ اٹھارہ کے، سات اسسٹنٹ کمپٹرولر گریڈ سولہ کے موجود ہیں۔ پبلک ریلیشنز آفیسرز گریڈ انیس کے دو، چیف پروٹوکول آفیسر گریڈ انیس کے بھی موجود ہیں۔پولیس کے ایک ایس ایس پی لیول کے چیف سیکورٹی آفیسر، ساتھ ایک ایس پی سیکورٹی اور ایک ایس پی سٹاف آفیسر۔اب کس کس کا ذکر کریں صفحات بھر جائیں گے۔وزیراعلیٰ صاحب کے لیے ہیلی کاپٹر اور متعدد اعلیٰ نسل کی کاریں موجود۔قصہ مختصر، پچھلے مالی سال میں وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کا خرچہ اس غربت میں کراہتی قوم نے اٹھتر (78.4) کروڑ اور چالیس لاکھ برداشت کیا۔آپ کو معلوم ہے کہ وزیراعلیٰ کی تنخواہ تو لاکھوں میں ہے، نہ جانے وہ کہاں خرچ کرتے ہوں گے۔لیکن بھلا ہو غریبوں کا درد رکھنے والے وزیراعظم کا کہ انھوں نے غریبوں کے لیے لنگر خانے بنوادئیے ہیں اور زندگی گزارنے کے لیے پناہ گاہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم کے علم میں نہیں ہے کہ اُن کی حکومت کے دوران ایک شخص پر اور ایک دفتر پر غریب عوام کے خزانے سے اتنی بڑی رقوم خرچ ہو رہی ہیں۔اُنھوں نے تو سرکاری اخراجات اور خاص طور پر بیوروکریسی پر اُٹھنے والے اخراجات کو کم کرنے کے لیے کئی جہاندیدہ ریٹائرڈ افسران جیسا کہ عشرت حسین جیسوں کو بھاری معاوضوں پر رکھا ہوا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ اگر یہ سب شاہ خرچیاں اُن کے نوٹس میں آگئیں تو وہ فوراً اس کا نوٹس لیں گے۔ اور آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ جب ایک دفعہ وہ نوٹس لے لیں تو کیا حشر بپا ہوتا ہے، یہ بھی ذہن میں رکھیے گا کہ بات نوٹس تک ختم نہیں ہوتی وہ پھر فورنزک آڈٹ تک جا پہنچتی ہے۔کاش وزیراعظم وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کا فورنزک آڈٹ کرائیں تاکہ اُنھیں اس غریب قوم کے خرچ کیے گئے اٹھتر کروڑ روپے کے ضائع ہونے کا ادراک ہو۔میں نے سرکاری نوکری میں دیکھا ہے کہ اس ملک میں حکمرانوں کو بڑے بڑے خوشامدی ہر وقت گھیرے رکھتے ہیں اور انھیں سب اچھا کی خبریں سناتے رہتے ہیں۔ اورمیں نے یہ بھی سنا ہے کہ خانصاحب تو اپنی تعریفوں پر بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ یوں لگتا ہے خانصاحب کو صحیح صورت حال سے کوئی آگاہی نہیں ہے۔ یقین کریں غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں بہت تنگ ہے اور خانصاحب سے ناراض بھی۔ میکیاولی کہتے ہیں کہ جس حکمران سے اس کی عوام نا خوش اور ناراض ہو اُس کے لیے تو ایک جھٹکا سہنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ خانصاحب کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ باہر سے درآمد شدہ لوگوں نے بھاگنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنااور جو گزرے گی آپ کے دم پہ ہی گزرے گی۔ اب بھی وقت ہے، اپنی حکومت میں سے ارب پتیوں کو چلتا کریں کیونکہ ان سے یہ اُمیدیں باندھنا کہ یہ غریبوں کی خوشحالی کے لیے کچھ کریں گے ایسے ہی ہے جیسے ہندووں کے گھروں سے مصلے تلاش کرنا۔


ای پیپر