کُجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی!....(تیسری وآخری قسط)
17 اکتوبر 2020 2020-10-17

آئی جی بننے کے بعد میں نے اپنا پورا دبدبا قائم رکھا ہوا تھا، وزیراعظم عمران خان نے جب ایک دوتقریبات میں میری ”خوشامد“ کی میری”آکڑ“ میں مزید اضافہ ہوگیا، اُوپر سے چیف سیکرٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان بھی اپنا پورا یارتھا، ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا تھا ” باہمی مشاورت“ سے اور کوئی کام کریں نہ کریں ایک کام ضرور کریں گے کہ عوام کے لیے کچھ نہیں کریں گے، ایک اور فیصلہ بھی ”باہمی مشاورت سے ہم نے کیا کہ وزیراعلیٰ کو زیادہ منہ نہیں لگانا، یہ فیصلہ ہم نے اپنے نہیں وزیراعلیٰ کے مفاد میں کیا تھاکیونکہ ہم کسی کے پردے چاک نہیں کرنا چاہتے تھے، ہم دونوں ڈائریکٹ وزیراعظم سے رابطے میں تھے، ہم سمجھتے تھے ہم صرف وزیراعظم کو جوابدہ ہیں، ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا آپ اللہ کو بھی جوابدہ ہیں؟ میں نے کہا ”یہ تو میں وزیراعظم سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں“....پھر اچانک اِک روز چیف سیکرٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان کو اُن کے عہدے سے ہٹادیا گیا، مجھے اِس پر دُکھ تو اتنا نہیں ہوا مگر تشویش ضرور ہوئی اگر چیف سیکرٹری کو ہٹایا جاسکتا ہے میں کس کھیت کی مولی ہوں؟،اُس کے بعد کافی حدتک میری آکڑٹوٹ گئی، میری گردن کا سریا بھی تھوڑا ڈھیلا پڑ گیا، پہلے پہلے میں جب آئی جی بنا وزیراعلیٰ بزدار مجھے اچھی خاصی عزت دیتے تھے جسے میں اُن کی عظمت نہیں اپنا حق سمجھتا تھا، چنانچہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا اِس عزت کے بدلے میں مجھے بھی اُنہیں عزت دینی چاہیے، پھر اللہ جانے اچانک اُنہیں کیا ہوا چیف سیکرٹری کاتبادلہ کروانے کے بعد میری اچھی خاصی عزت میں اُنہوں نے اچھی خاصی کمی کردی، بلکہ مجھے ”کمی کمین“ سمجھنے لگے، جس کے بدلے یا جواب میں، میں اُن کی عزت کرنے پر اس لیے مجبور ہوگیا کہ اگروہ چیف سیکرٹری کا تبادلہ کرواسکتے ہیں تو آئی جی کا بھی کرواسکتے ہیں، سو میں نے اُن کے ایک قریبی عزیز جو میرا ماتحت افسر بھی تھا کے ذریعے اُنہیں یہ پیغام بھجوایا آئندہ اُن کی کوئی حکم عدولی نہیں ہوگی، چاہے اب آپ جتنی چاہیں میری بے عزتی کرلیں، میں نے تو یہ بات ایسے ہی مذاق میں کہی تھی مگر وزیراعلیٰ نے اِسے سیریس لے لیا اور میرے ساتھ وہ سلوک کرنے لگے جوہمیشہ میں نے اپنے ماتحتوں سے کیا، بہرحال چھوٹے چھوٹے معاملات میں بے عزت ہونے کے باوجود میں گزارا کرتا رہا کیونکہ میں نے یہ سوچ رکھا تھا بطور آئی جی پنجاب ہی ریٹائرہونا ہے، بیڑاغرق ہو عمر شیخ کا جس نے میرے سارے ارادے خاک میں ملا دیئے، لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے اِس سے میری آکڑ ٹوٹ جائے گی یہ اُس کی غلط فہمی ہے، میری اکڑمیری شخصیت کا حُسن ہے، میں نے تو ہار وغیرہ پہننے کے لیے بھی کبھی سر نہیں جھکایا، میرے سامنے کوئی ہنس رہا ہو میرا رونے کو جی چاہتا ہے، حالانکہ رونا بھی کبھی مجھے نہیں آیا، کیونکہ یہ نرم دل لوگوں کا کام ہوتا ہے، میرے پورے جسم میں میرا صرف دل ہی سخت ہے جس سے بڑے بڑے بے رحمانہ فیصلے کرنے میں مجھے کبھی مشکل پیش نہیں آئی،.... جہاں تک سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا معاملہ ہے وہ باقاعدہ طورپر ایک فرعون ہے، حضرت موسیٰؑ کے گھر فرعون پیدا ہوگیا تھا ہم کسی سے کم تو نہیں ہیں، بطور آئی جی پولیس پنجاب بے شمار ماتحت افسروں نے مجھ سے تقریباً ہر معاملے میں بے پناہ تعاون کیا جس کے بدلے میں اُن میں سے اکثر افسروں کے ساتھ میں نے وہی کیا جو حضرت علیؓ کے قول کے عین مطابق ہے کہ ”کسی پر احسان کرو پھر اُس کے شر سے بچو“.... میری پوری کوشش تھی میرے شر سے کوئی نہ بچے، کچھ ماتحت افسران اگر بچ گئے تو یہ اُن کی قسمت ہے جس نے اُن کا ساتھ دیا، .... میں سات آٹھ مہینے آئی جی پنجاب رہا اِس دوران میں نے کوئی ایسا کارنامہ نہیں کیا کہ لوگ مجھے اچھے الفاظ سے یاد کریں، اصل میں لوگ جب کسی کو اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اُس بے چارے کو نظر لگ جاتی ہے، یہ میں نے عارف نواز کے معاملے میں دیکھا، اکثر لوگ خاص طورپر ماتحت اُنہیں اچھے الفاظ سے یاد کرتے تھے چنانچہ انہیں نظر لگ گئی اور چند ماہ بعد ہی وہ تبدیل ہوکر او ایس ڈی ہوگئے اور پھرکتنا ہی عرصہ وہ او ایس ڈی ہی رہے، مجھے چونکہ کوئی اچھے الفاظ سے یاد نہیں کرتا لہٰذا آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹنے کے فوراً بعد میں اوایس ڈی نہیں ہوا، البتہ وزارت نارکوٹکس کو اللہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ میں اب اس کا سیکرٹری ہوں، .... مجھے جب آئی جی پنجاب لگایا جانے لگا میں نے تو کہہ دیا تھا بے شک آئی بی یا کسی اور ادارے سے میری رپورٹ لے لیں مجھے واقعی کسی نے اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا، البتہ کچھ لوگ مجھے ایماندار ضرور سمجھتے ہیں اور بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں کیونکہ میں خود بھی یہی سمجھتا ہوں، میں نے آج تک اپنی ایمانداری کا سوائے اپنے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے دیا، میں جب آئی جی پنجاب تھا میرے بارے میں ایک کالم میں کسی نے لکھا ” میں دفتر میں بیٹھ کر کاروبار کرتا ہوں“.... مجھے چونکہ اپنی ایمانداری پر ہلکا سا شبہ بھی نہیں تھا لہٰذا میں نے اُس کالم نگار کو کوئی نوٹس دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی، البتہ اِس کالم کی Clipingملنے پر میں نے اُس پر لکھا "Some one is feeding him"اُسے ایڈیشنل آئی جی آپریشن کو بھجوادیا، اپنی اہلیت کے مطابق میں اِس "Some one" کا کوئی سراغ بھی نہ لگا سکا، لگا بھی لیتا تو اُس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرتا، ایک نیا ”کٹا“ کھولنے کی مجھے کیا ضرورت تھی؟ جبکہ اُن ہی دنوں عمر شیخ کو بطور سی سی پی او لاہور تعینات کرنے کا ایک ”کٹا“ پہلے ہی کھل چکا تھا، سو میں نے اِس پر مٹی ڈال دی، البتہ میں اپنے اِس دُکھ پر شاید کبھی مٹی نہ ڈال سکوں گا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے چارج لینے کے فوراً بعد میرے خلاف جو بدزبانی کی اُس پر میرے کچھ قریبی ماتحت افسروں نے اِس بدزبانی کی مذمت کے لیے پی ایس پی (پنجاب چیپٹر) کا اجلاس بلا لیا، میرے اِن قریبی ماتحت افسروں کو یا میرے گروپ کے افسروں کو اُس وقت تک شاید یہی یقین تھا میرا تبادلہ نہیں ہوگا اور سی سی پی او لاہور عمر شیخ اپنے عہدے پر نہیں رہے گا، ابھی یہ اجلاس جاری تھا اچانک خبر آگئی مجھے ہٹا کر انعام غنی کو آئی جی پنجاب بنادیا گیا ہے، یہ خبرسنتے ہی سب سے پہلے اجلاس سے وہ کھسکے جو میرے سب سے قریب تھے اور اجلاس بلانے کے لیے سب سے سرگرم تھے، .... میں سرپکڑ کر بیٹھ گیا کہ کیسے کیسے اول درجے کے منافقوں کی میں سرپرستی کرتا رہا، آئی جی پنجاب بن کر اور کوئی سبق تو میں نہیں سیکھ سکا یہ ”انکشاف“ ہی میرے لیے ایک سبق ہے کہ سب سے زیادہ منافقین اور بزدلین کسی اور کے نہیں میرے اپنے ادارے میں ہیں، .... گزشتہ رات یہ تمام منافقین میرے خواب میں آئے، کہنے لگے ”سر ہمیں معاف کردیں پر یہ بتائیں آپ ہماری جگہ ہوتے آپ بھی وہی نہ کرتے جو ہم نے کیا ؟.... شکر ہے اُنہیں کوئی جواب دینے سے پہلے ہی میری آنکھ بلکہ آنکھیں کھل گئیں !!(ختم شد) 


ای پیپر