17 اکتوبر 2019 2019-10-17

گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کسی ملک کی ترقی یا اُس ملک کے حکمرانوں کی ترجیحات کا اندازہ اُس ملک کے تین نظاموں سے لگایا جاسکتا ہے، نظام تعلیم، نظام صحت اور نظام عدل ....بدقسمتی سے ہمارے تینوں نظام تباہی کے آخری دہانے پر کھڑے ہیں، ان کی اصلاح ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہی، موجودہ حکمرانوں نے ان شعبوں میں گزشتہ ایک برس سے جن نااہلیوں کے مظاہرے کیے یوں محسوس ہوتا ہے ان کی ترجیحات میں ان تینوں شعبوں کی اصلاح نہیں ان کی مکمل بربادی ہے، .... میں آج نظام صحت پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ دوسرے صوبوں میں نظام صحت کی حالت یقیناً ابتر ہی ہوگی، اِس کی اطلاعات کسی نہ کسی ذریعے سے ہمیں ملتی رہتی ہےں، عوام کو اِس کے جو خوفناک نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی ذریعے یا طریقے سے ہمارے نوٹس میں آتے رہتے ہیں، مگر حکمرانوں کی طرح چونکہ یہ شعبہ ہماری اپنی ترجیحات میں بھی شامل نہیں تو مسلسل اس کی زبوں حالی پر لکھنے کے بجائے ہم سیاست کے چسکوں میں پڑے رہتے ہیں، سندھ میں چونکہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہے تو دیگر محکموں کی طرح گزشتہ کئی برسوں کی حکمرانی میں وہ صحت کے شعبے میں بھی کوئی بہتری نہیں لاسکی، نہ سندھ میں کھسرانہ صلاحیتوں کے مالک اصل حکمرانوں سے اس کی ہم کوئی توقع ہی کرسکتے ہیں، پورا سندھ اس وقت ”کچرا گاہ“ بناہوا ہے ، جتنی ”چیخ وپکار“ بلاول بھٹو زرداری اپنے حالیہ سیاسی مخالف عمران خان یا اُن کی پالیسیوں کے خلاف کرتے ہیں اس سے آدھی کوشش وہ سندھ کے بے بس عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کرلیں ہم ان کی مبینہ مردانہ صلاحیتوں پر ایمان لے آئیں گے، خالی لہک لہک کر اور بہک بہک کر تقریریں وغیرہ کرنے سے وہ عوام خصوصاً سندھ کے عوام کے دلوں میں وہ مقام ہرگز حاصل نہیں کرسکتے جو ان کی ماں یا ان کے نانا کا تھا، صرف نعرے یا بڑھکیں وغیرہ لگانے یا لگوانے سے بھٹو زندہ نہیں رہے گا نہ بی بی رہے گی، پیپلزپارٹی کی حالیہ نااہل قیادت کی مسلسل حماقتوں اور کرپشن کہانیوں کی وجہ سے وفاق کی علامت واحد سیاسی جماعت ایک صوبے تک محدود ہوکررہ گئی ہے۔ اگلے الیکشن میں کوئی ڈیل شیل یا ڈھیل شیل اس ملک کی اصل قوتوں سے ان کی نہ ہوئی اور محض کارکردگی ہی کی بنیاد پر ووٹ ملے تو سندھ بھی ان کے پاس شاید نہ رہے، جس کے بعد اپنی سیاست کو قائم رکھنے کے لیے کوئی ”گارڈ“ ان کے پاس نہیں بچے گا، نہ اپنی کرپشن کو بچانے کے لیے کوئی ”کارڈ“ یہ کھیل سکیں گے، سو اپنی ان متوقع بدحالیوں سے یہ بچنا چاہتے ہیں اب بھی ان کے پاس وقت ہے کچھ کرکے دیکھائیں، صرف باتیں کرکے نہ دکھائیں، اس وقت سننے میں آرہا ہے سندھ میں صرف ایک ہی کام پوری لگن سے کیا جارہا ہے، یہ وہی کام ہے جو پیپلزپارٹی کی ”اصل شناخت“ ہے، جس وجہ سے بلاول کے ”بابا سائیں“ اندر ہیں، اور ان کا سارا تکبر خاک میں مل گیا ہے، جس روز احتساب کا کوئی صاف شفاف نظام اس ملک میں رائج ہوگیا پوری پیپلزپارٹی شاید اندر ہو جائے ، بلکہ وہ ”پارٹی“ بھی شاید اندر ہو جائے جس کے پاس دیگر پارٹیوں کو اقتدار میں لانے یا اقتدار سے اُتارنے کا ٹھیکہ ہے، .... بہرحال میں اپنے نظام صحت کی بدحالی کا ذکر کررہا تھا بیچ میں سیاسی بدحالی کا ذکر آگیا ، .... چلیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، وزیراعظم وہاں مداخلت نہیں کرسکتے، مگر پنجاب میں ان کی اپنی جماعت کی حکومت قائم ہوئے سوا سال بیتنے والا ہے اُس کا نظام صحت بھی بجائے اس کے ان کے نعروں، بڑھکوں یا دعوﺅں کے مطابق بہتری کی جانب گامزن ہوتا مزید تباہی کی جانب بڑھتا چلے جارہا ہے، محکمہ صحت پنجاب کی بدقسمتی یہ ہے اسے وزیر بھی بہت نکمّی ملی ، وہ عورتوں کی ”بزدار“ ہے، وہ شاید مسلسل نکمّے پن کا مظاہرہ اس لیے کرتی چلی جارہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اگر بزدار کو ہٹا کر کسی اور نکمے یا نکمی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا ہوا تو اس ”میرٹ یا معیارپر وہ بھی پورا اُتر سکیں، انہیں جب الیکشن ہارنے کے باوجود پنجاب کی وزیر صحت بنایا گیا ہم نے سوچا ایک ڈاکٹر کے وزیر صحت بننے سے پنجاب کے محکمہ صحت میں شاید انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی ، ہمیں تھوڑے ہی عرصے بعد یہ احساس ہونا شروع ہوگیا تھا پنجاب کے محکمہ صحت کو ایک ”ڈاکٹر“ کے نہیں ایک ”مریضہ“ کے سپرد بلکہ ”سپردخاک“ کردیا گیا ہے۔جو خاتون خود مشکل سے چلتی ہوں ان سے محکمہ کیا چلنا ہے ؟۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں وزیراعظم عمران خان نے ممکن ہے اُنہیں محض یہ سوچ کر وزیر بنایا ہویا محض یہ سوچ کر اُنہیں فارغ نہ کیا جارہا ہو وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہوں کہ کچھ اچھی خواتین بھی ان کے قریب ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد خاتون یقیناً اچھی ہوں گی مگر وزیر صحت کی حیثیت سے جو ناکامیاں انہوں نے کمائیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ویسے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ واقعی اچھی خاتون ہوتیں محکمہ صحت کو مکمل طورپر برباد کرنے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طورپر اپنے عہدے سے رخصت ہو جاتیں، ان کے وزیرصحت بننے سے پہلے ہم یہ سمجھتے تھے محکمہ صحت کوبرباد کرنے کی مکمل ذمہ دار ہماری بیوروکریسی ہے، خاتون وزیرصحت نے بیچ میں کود کر بلکہ اُچھل کود کر بتایا صرف بیوروکریسی نہیں وہ بھی ذمہ دار ہیں، حالت یہ ہے ڈاکٹروں کی ہڑتالوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں کے کئی شعبے مکمل طورپر بند پڑے ہیں، اور اس کے نتیجے میں پرائیویٹ ہسپتالوں کا ”کاروبار“ اتنا چل رہا ہے کہ اس وقت ملک میں سوائے اس کے اور کوئی کاروبار چل ہی نہیں رہا ، چیک اپ یا سرکاری ہسپتالوں میں داخلے کی فیس دس روپے سے بڑھا کر شاید دوسو روپے کردی گئی ہے، پچھلے دور میں مستحق مریضوں کو علاج معالجے کے لیے جو مفت دوائیاں ملتی تھیں وہ بھی ملنا بند ہوگئی ہیں، اور تو اور خود وزیر صحت بھی لوگوں سے ملنا بند ہوگئی ہیں شاید اس خدشے کے تحت کہ جو بدسلوکی وہ محکمہ صحت کے ساتھ کررہی ہیں وہی بدسلوکی کہیں عوام ان کے ساتھ نہ کرنا شروع کردیں !!


ای پیپر