17 اکتوبر 2019 2019-10-17

گزشتہ تحریرمیں، میں نے آپ کو بتایا تھا، کہ بھارت میں اگر مودی کے حق میں کالم لکھیں، تو حکومت، پاکستانی تقریباً 37ہزار اور بھارتی پندرہ ہزار ادا کرتی ہے، مگر شرط اولین یہ ہے کہ کالم حکومت کے حق میں ہو۔

اب جیسے کہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتانے کی کوشش کی تھی، کہ مودی کے حق میں بطور حکمران بھارت بہت سی داخلہ و خارجی کامیابیاں ہیں، کہ جس کو محض یہ سوچ کر کہ وہ ہندو انتہاءپسند ہے ہم اس پہ توجہ ہی نہیں دیتے مودی کی ایک خاص ادا یہ ہے کہ وہ گھنٹوں بات نہیں کرتا خاموش رہ کرسنتا ہے پاکستان میں ہمارے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوواحد حکمران تھے، جو اس کسوٹی پہ پورا اترتے تھے، ان کی تقریر اتنی لمبی ہوتی تھی، کہ کسی کام کے لیے اگر لوگوں کو گھر سے نکلنا پڑ جاتا تھا، اور وہ تقریر سن رہے ہوتے تھے تو دوسرے سے کہتے تھے کہ پہلے فلاں کام کر آئیں واپس آکر تقریر سن لیں گے اور قارئین آپ یقین کریں، حقیقت میں بھی ایسے ہی ہوتا تھا، کہ واپس جب آتے تھے تو بھٹو صاحب ابھی تقریر کررہے ہوتے تھے۔

جب کہ ہمارے اسلاف، بلکہ ہادی ورہبر حضرت محمد مصطفیٰ کا فرمان ہے کہ مختصر مگر To The Pointبات کی جائے۔ جس بات پر آپ نے زیادہ زور دینا ہوتا، اور مسلمانوں کو دین کا کوئی سبق دینا ہوتا، تو وہ اس بات کو تین دفعہ دہراتے۔ پیغمبر نے فرمایا کہ امت سے متعلق میں جس چیز سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ زبان ہے، حضرت علی ہجویریؒ، کشف المحجوب میں آداب کلام وخاموشی کے بارے میں لکھتے ہیں، گفتار کی مثال شراب کی سی ہے، جو عقل کو مست کردیتی ہے، اور جسے اس کی لت پڑ جائے، وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے اسرار اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، ہم سنتے ہیں، اور ہمارے فرشتے لکھتے ہیں حضور کا فرمان ہے کہ جس نے خاموشی اختیار کی، اسے نجات حاصل ہوئی۔ حضرت جنیدؒ کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوئی اس کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔

ایک دفعہ حضرت شبلیؒ، حضرت جنید ؒ کی مجلس میں تشریف فرما تھے، اچانک اٹھ کر زور سے ” اے میری مراد“ کہہ کر یعنی اے حق تعالیٰ کا نعرہ لگایا دیا،یہ سن کر حضرت جنیدؒ نے فرمایا ، اگر مقصود اللہ تعالیٰ ہے ، تو بلند آوازسے نعرہ کیوں لگایا ، کیونکہ اس کی ذات تو اس سے بے نیاز ہے، اگر تمہارا مقصد اللہ سبحانہ وتعالیٰ نہیں، تو مرتکب خلاف آداب کیوں ہوا ؟ حق تعالیٰ کو تو تمہاری گفتار کا علم ہے، شبلیؒ نے فوراً توبہ واستغفار کیا، اس لیے صوفیائے کرام کے بارے میں حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ۔

تیری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا

میری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا

تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن

غریب تر ہے حیات وممات کی دنیا

قارئین یہاں میں اپنی اس کوتاہی کا برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ کالم لکھتے وقت میں ایسے موضوعات کا انتخاب کر بیٹھتا ہوں کہ جس کا احاطہ چند کالموں میں بھی نہیں کرسکتا، اس دوران ملکی اور بین الاقوامی سطح پہ ایسا تغیر وتبدیلی کا ظہور ہو جاتا ہے کہ اس پہ تبصرے سے انحراف ممکن ہی ہوتا، اور آپ یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں اصل موضوع سے ہٹ گیا ہوں، مگر یقین جانیے ، میں محض یہ چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے وہ حقائق لائے جائیں، کہ جو بالکل غیر جانبداری سے آپ کے سامنے پیش کیے جائیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ احکامات الٰہیہ ، ہمیں آنحضور کی وساطت سے ملے، ہمارے وہ حضور جن کے لب مبارک ، اذن وامر الٰہی کے بغیر نہیں کھلتے تھے، اور وہ ساری عمر بوقت وصال بھی اسی پہ کاربند رہے، اللہ تعالیٰ نے کافروں کے بارے میں جس کا اطلاق حالات اور لمحہ موجود میں بھارتی حکمران مودی پہ منطبق ہوتا ہے، اور فرمان الٰہی قیامت تک جو کافروں کے بارے میں ہے، اسی طرح قابل یقین ہماراایمان ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ ہوتا ہے، اور تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج و تکلیف ہوتی ہے۔ اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو یہ منہ پھیرکے خوش خوش پلٹتے ہیں، اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ، ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی ٹھیک کر لیا تھا، ان سے کہو ہمیں ہرگز کوئی برائی یا بھلائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، اللہ تعالیٰ ہی ہمارا مولیٰ ہے اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

یہ سورة التوبہ کی آیات مبارکہ ہیں، کہ جو کشمیر میں مودی کے مسلمانوں پہ مظالم کے بارے میں بھی مسلمانوں کو متنبہ فرماتی ہیں، سورة توبہ کی آیات 51پڑھ کر قارئین آپ خوش ہو جائیں گے اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”اور ہم تمہارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تم کو سزا دیتا ہے، یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے، اچھا تو تم بھی انتظار کرو، اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

قارئین کرام، یہ تو مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ پہ توکل کا اظہار ہے، مگر سوچنے کا مقام ہے، کہ کشمیر کے مسئلے کے بارے میں سوائے لفاظی وزبانی جمع خرچ کے ،ہم نے کیا کیا ہے، بلکہ ہم نے تو تھالی میں رکھ کے مقبوضہ کشمیر مودی کو تحفتاً پیش کردیا ہے، حتیٰ کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے کشمیر کے بارے میں بیانات بھی ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہوتے ہیں، یہ رائے محض میری نہیں بلکہ واقفان حال کا تجزیہ بھی یہی ہے، وزیراعظم یہ دعویٰ کرتے ہیں، کہ عالمی میڈیا پہ کشمیری ظلم وستم کو نہیں دکھایا جاتا، مگر ہانگ کانگ کے احتجاج کو بڑے زور وشور سے دکھایا جاتا ہے جبکہ وزیر خارجہ یہ فرماتے ہیں کہ ہماری فعال خارجہ پالیسی کی بدولت مسئلہ کشمیر فعال ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے کشمیریوں کو کہا تھا کہ میں جب تک اقوام متحدہ میں خطاب کرکے واپس نہ آجاﺅں، آپ لوگوں نے یعنی آزاد کشمیر یوں نے ”بارڈرکراس“ نہ کریں لیکن واپس آکر وہ مسئلہ کشمیر ہی بھول گئے، بلکہ آزاد کشمیر کے باشندے جو سراپا احتجاج تھے، ان کو ایک جگہ اکٹھے ہونے سے رکاوٹیں کھڑی کرکے روکا گیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق کشمیری بارڈر عبور کرسکتے ہیں، اور ایسا اس سے قبل کئی بار ہوچکا ہے، مگر وزیراعظم کو یہ علم ہی نہیں کہ ایسا کرنا خلاف قانون نہیں ہے، جبکہ کشمیری یہ انتظار کرتے رہ گئے ، بقول سید مظفر علی شاہ

بیٹھے ہیں کمر بستہ

کب اذن سفر آئے

آنکھوں میں سکوت ایسا

اظہار سے ڈرآئے

یوں عدل کرو صاحب

جوصاف نظر آئے

مگر تحریک انصاف کا انصاف تو ہمہ وقت یوٹرن لیتا نظر آتا ہے، حتیٰ کہ مشرف کا بنایا ہوا نیب بھی اب ترمیم شدہ، نیب بن جائے گا، اور وفاقی کمیٹی نیب کو ملزمان تک رسائی کی سہولت دے گی، اب عوام حیران ہیں کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ پولیس والوں کو یہ کہہ دیا جائے کہ تم نے اس وقت تک چور نہیں پکڑنا جب ہم خود نہ کہیں۔


ای پیپر