25 جولائی سے 14 اکتوبر تک
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے جن حقائق کو واضح کر دیا ہے ان میں اہم تر یہ ہے اگر 25 جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کی رات 12 بجے نامعلوم شخص کی فون کال پر ’آر ٹی ایس‘ کو بند نہ کیا جاتا تو اس کے پس پردہ وہ کھیل کھیلنا ممکن نہ ہوتا جس کی وجہ سے اپوزیشن الزام لگاتی ہے کہ نتائج میں گڑ بڑ کی گئی ہے۔۔۔ فارم 45 کی متعلقہ قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر وہ درگت نہ بنائی جاتی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کے اعلان میں حیران کن حد تک تاخیر نہ کی جاتی تب بھی نتائج شاید مختلف ہوتے۔۔۔ آر ٹی ایس سسٹم کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ بیٹھ گیا۔۔۔ اچانک کام کرنے کے قابل نہ رہا۔۔۔ پھر نادرا کے ساتھ ایک بحث چھیڑ دی گئی جس کا پورے اصرار کے ساتھ کہنا تھا کہ آر ٹی ایس سسٹم میں کوئی نقص واقع نہ ہوا تھا۔۔۔ اب الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراف سامنے آیا ہے۔۔۔ نامعلوم فون کال کے سبب اسے بند کر دیا گیا تھا فون کرنے والا کون تھا۔۔۔ الیکشن کمیشن نے اس کی ہدایت پر کیوں عمل کیا۔۔۔ حیرت ہے ابھی تک کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔ لیکن اب جو ان تمام الزامات کی تحقیق کے لیے پارلیمانی کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔۔۔ جس کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) ابھی طے کرنا باقی ہیں تو اس کمیشن کے اولین اہداف میں سے اس امر کا کھوج لگانا ہو گا کہ اس تمام تر ڈرامے کی اصل حقیقت کیا ہے۔ پردۂ زنگاری کے پیچھے کونسا محبوب تھا اور اس کی بنا پر نتائج پر کتنا اثر پڑا۔۔۔ نیز یہ بات کہ فارم 45 کو جس انداز سے بے وقعت بنا کر رکھ دیا گیا۔۔۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے اتنے مستند دستاویزی کاغذ پر نوے فیصد کے قریب امیدواروں کے نمائندوں کے شہادتی دستخط نہ ثبت کرائے گئے۔۔۔ پھر کئی مقامات پر فارم 45 کے ٹکڑے کچرے کے ڈھیروں پر ذلیل و خوار ہوتے پائے گئے۔۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ الیکشن کمیشن نتائج کے حتمی اعلان کو دو تین روز تک لے کر بیٹھا رہا۔۔۔ یہ سب کچھ 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے دوران نہیں ہوا جن کے نتائج نے حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔۔۔ اپوزیشن خاص طور پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی مد مقابل مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور اس کے کارکنوں کو نئے حوصلے اور عزم سے سرشار کیا۔۔۔ 25جولائی کے عام انتخابات کے وقت اس جماعت کے قائد نواز شریف پابند سلاسل تھے اور خاص حلقوں کی جانب سے اس بات کو خصوصی طور پر یقینی بنایا گیا تھا کہ ان کی اور ان کی بیٹی و داماد کی کسی طور ضمانت نہ ہونے پائے۔۔۔ 14 اکتوبر کے ضمنی چناؤ کا موقع آیا تو شہباز شریف نیب کی حراست میں تھے انہیں صاف پانی کے مسئلے پر پوچھ گچھ کا دھوکہ دے کر آشیانہ ہاؤسنگ کے سکینڈل کے نام پر گرفتار کر لیا گیا۔۔۔ اس عالم اور اس کیفیت میں سابق حکمران جماعت نے ڈنکے کی چوٹ ثابت کر دیا اس کا ووٹ بینک قائم ہے۔۔۔ اس سے تحریک انصاف کے ترجمانوں کا یہ دعویٰ بے وقعت ہو کر رہ جاتا ہے کہ ان کی جماعت کو ضمنی انتخاب میں اپنی چند اہم ترین نشستوں سے اس لیے ہاتھ دھونا پڑا کہ الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی وجہ سے ان کے کرشماتی لیڈر عمران خان کیا دوسرے درجے کی لیڈر شپ بھی حکومتی عہدیدار بن جانے کی وجہ سے انتخابی مہم میں حصہ نہ لے سکتی تھی۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی تو کھل کر میدان میں نہ اتری تھی۔۔۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی سوگ کے عالم میں گھر بیٹھے تھے۔۔۔ اپنی تہذیبی قدروں اور خاندانی روایات کی پاسداری کر رہے تھے۔۔۔ شہباز شریف کو نیب نے جکڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ یعنی دونوں جماعتوں کی قیادت کو ’’مساوی‘‘ مواقع حاصل تھے۔۔۔ اس کے باوجود عمران خاں سے ان کی دو نشستیں چھین لی گئی ہیں اور شہباز شریف جن دو صوبائی نشستوں سے دستبردار ہوئے ان پر اپنے امیدواروں کو بھرپور طریقے کے ساتھ کامیاب کرانے میں کامیاب رہے۔

14 اکتوبر نے جس دوسری بڑی حقیقت کو پوری قوم کے سامنے طشت از بام کیا ہے وہ یہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 131 کی نشست پر فی الحقیقت 25 جولائی کو عمران خاں کے مقابلے میں معرکہ جیت لیا تھا۔۔۔ ووٹوں کی گنتی کا فرق صرف ساڑھے چھ سو

کے لگ بھگ تھا۔۔۔ اگر عمران خاں سپریم کورٹ نہ چلے جاتے اور وہاں سے ان کے حق میں فیصلہ نہ آتا اور خواجہ سعد رفیق کے مطالبے کے مطابق گنتی از سر نو ہو جاتی تو 14 اکتوبر کو حلقہ 131لاہور کے ضمنی انتخابات کرانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔۔۔ سعد رفیق جواب جیتے ہیں تب بھی کامیابی ان کے حصے میں آتی۔۔۔ لیکن یار لوگوں کو چونکہ عمران خان کو پانچ کے پانچ حلقوں سے جتوانا مقصود تھا۔۔۔ اس لیے انہیں وقتی فائدہ بہم پہنچا دیا گیا۔۔۔ مگر سعد رفیق جس پامردی کے ساتھ ڈٹے رہے۔۔۔ ان پر بھی مقدمات مسلط کیے گئے۔۔۔ ووٹر کو تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انہیں ووٹ دینے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ آج یا کل ہر صورت جیل کی کال کوٹھری میں بند کر دیے جائیں گے۔۔۔ مقابلے میں علامہ اقبال کے پوتے ولید کو جسے عمران خان نے ٹکٹ دینے کا وعدہ کر رکھا تھا۔۔۔ نظر انداز کر کے ایک سابق جرنیل کے انتہائی دولتمند بیٹے کو جوہر موقع پر وفاداریاں تبدیل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں ٹکٹ عنایت فرما دیا گیا۔۔۔ ان سے توقع وابستہ کی گئی کہ اپنے بے پناہ وسائل اور حلقہ کی ایلیٹ کلاس کے اندر رسوخ کی بنا پر میدان مار لیں گے۔۔۔ مگر ساڑھے چھ سو کیا دس ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔۔۔ خواجہ سعد رفیق کو اگر یہ سیٹ 25 جولائی کو از سر نو گنتی کے بعد مل جاتی تو زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین سو کی اکثریت کے مالک ہوتے۔۔۔ اب نہ صرف ہزاروں ووٹوں کی طاقت کے ساتھ فاتح قرار پائے ہیں بلکہ وزیراعظم کی جیتی ہوئی نشست اپنے نام کر کے سرخ رو ہوئے۔۔۔ اس کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عمران خان تمام تر انتخابی و دوسری گولہ باری اور ہر ممکن کوشش کے باوجود شریفوں کے لاہور کے قلع پر کوئی دراڑ نہیں آئی وہ اسی طرح محفوظ ہے جیسے پہلے تھا۔۔۔ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کی 5 کے مقابلے میں 6 پر کامیابی حاصل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا ووٹ بینک پہلے کی مانند مضبوط ہے۔۔۔ حکمران طبقوں کی تمام تر کرم فرمائیوں کے باوجود اس پر ضرب نہیں آئی۔۔۔ اسی تناظر میں قابل توجہ نتیجہ راولپنڈی کے حلقہ 160کا ہے جس کا اعلان رات گئے ہوا۔۔۔ یہ حنیف عباسی کی نشست تھی جس پر انہیں سزا ہو جانے کی وجہ سے انتخاب نہ ہو سکا۔۔۔ اب شیخ رشید کے بھتیجے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے مدقابل تھے۔۔۔ موصوف کو صرف ساڑھے چھ سو کے قریب ووٹوں سے کامیابی ملی ہے یعنی وہی سعد رفیق اور عمران خان والا معاملہ وہاں کون جیتا تھا اور یہاں کون ہارا ہے۔۔۔ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ۔۔۔ تحریک انصاف کو تو اپنے سیاسی گڑھ یعنی صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔۔ عمران خان کی بنوں میں جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی نشست کو ان کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہونے والے جمعیت علمائے اسلام کے اکرم درانی کے بیٹے زاہد نے چھین لی۔۔۔ سوات میں ان کے وزیراعلیٰ کی دونوں صوبائی نشستوں پر شکست ہوئی۔۔۔ یہاں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملی۔۔۔ جبکہ پشاور میں اے این پی کے شہید ہارون بلور کی بیوہ نے اپنے مظلوم شوہر کے نام پر صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کر لی۔۔۔ عمران خان کی حکومت ضمنی انتخابات سے پہلے بھی وفاق اور صوبہ پنجاب میں تنے رسے پر چل رہی تھی۔۔۔ مرکز میں معمولی اور وقتی ضرورت کے تحت اتحادی بنائی جانے والی ایک دو پارٹیوں سے ملنے والی پانچ یا سات نشستوں کی حد درجہ معمولی حمایت کے بل بوتے پر قائم تھی۔۔۔ پنجاب میں اس سے بھی برا حال تھا۔۔۔ یہاں 25 جولائی کے انتخابات کے نتائج نے مسلم لیگ (ن) کو سب سے بڑی پارٹی کی پوزیشن دی تھی۔۔۔ مگر آزاد اراکین اور چودھری برادران کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے وفاق کی مانند ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں بھی پتلی اکثریت بنا پائی۔۔۔ اب جو ضمن انتخابات میں اسے مزید دھچکا پہنچا ہے۔۔۔ معمولی سے بھی کم درجے کی اکثریت رہ گئی ہے۔۔۔ ہوا کا ایک جھونکا اڑا کر لے جا سکتا ہے۔۔۔ اس کے باوجود مجھے ثقہ مبصرین کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ عمران خان کی جیسی بھی حکومت ہے اسے کام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے تا کہ ایک تو تیسری قوت کو اپنی راہ ہموار کرنے کا بہانہ نہ مل پائے دوسرے گزشتہ پندرہ بیس برس سے پاکستان کے عوام کو تبدیلی کے جس نشے میں مدہوش کر رکھا ہے اس کی اصل حقیقت سامنے آ جائے۔۔۔ انہیں یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ وہ بہت بڑا اور ملک و عوام کی قسمت بدل کر رکھ دینے والا انقلابی منصوبہ لے کر آئے تھے لیکن اس پر عمل درآمد کی مہلت نہ دی گئی۔۔۔ ان کا منصوبہ جس قدر انقلابی اور تبدیلی کا وعدہ کتنا حقیقت افروز ہے اس کے آثار سامنے آرہے ہیں۔۔۔ ضمنی انتخابات میں عوام نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی تبدیلیوں کے ابتدائی اقدات کے پسندیدہ یا نا پسندیدہ ہونے کے بارے میں بہت کچھ بتا گیا ہے۔۔۔ اس کے باوجود ایک حکومت کو وہ جیسے بھی منتخب ہوئی ہے اپنا شوق پورا کر لینا چاہیے تا کہ وہ بھی مایوس نہ ہو اور عوام بھی جانچ پرکھ کر دیکھ لیں کونسے وعدے حقیقی ہوتے ہیں اور کونسے محض فریب کاری پر مبنی۔۔۔ کل سپیکر کے پروڈکشن آرڈر پر نیب کے قیدی قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر جو تقریر کی ہے اور حکومت کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ہے اس پر ذرائع ابلاغ میں گفتگو اور تبصرے جاری رہیں گے لیکن ان کی ایک بات بہت اہم اور حد درجہ حساس نوعیت کی ہے جس کا اہل وطن کو فوراً نوٹس لینا چاہیے یہ کہ دوران تفتیش ان سے کہا گیا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ انہوں نے اور ان کے بچوں نے چین اور ترکی میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔۔۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہیں پر چیلنج کر دیا اگر آپ کے پاس معمولی درجے کا ثبوت ہے تو سامنے لائیں میں ہمیشہ کے لیے سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا۔۔۔ اس پر نیب والے کچھ نہ پیش کر سکے۔۔۔ شہباز شریف کا قومی اسمبلی کے ایوان میں گلہ تھا یوں پاکستان کے مخلص ترین دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ نیب نے جو انتقام لینا ہے ان سے لے چین اور ترکی کے ساتھ اس ملک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش نہ کرے ۔۔۔ مگر جو نیب اساتذہ کی سر رعام تذلیل کر سکتا ہے اسے کسی دوسرے ملک کی کیا پرواہ!


ای پیپر