اساتذہ کی تذلیل
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

غلامانہ ذہنیت اور ثقافت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس میں مبتلا افراد طاقت کے سامنے سرنگوں رہتے ہیں اور کمزوروں پر اپنی طاقت آزماتے ہیں۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے تو یہ اپنی رعونت ، اختیارات اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے نہیں چونکتے۔ ایسے لوگوں کے لئے قانون ، ضابطے اور اختلافات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی انہیں تو اپنے سے طاقت ور لوگوں کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔اس مختصر تمہید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ نیب (NAB) لاہور کے اہلکاروں نے تین سینئر پروفیسرز اور سابق وائس چانسلروں کو ہتھکڑی لگا کر نیب کی عدالت میں پیش کیا۔ یہ تینوں اساتذہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ جہاں بھاگنا تو درکار صحیح طریقے سے چلنا بھی محال ہوتا ہے مگر نیب کے اہلکاروں کو شاید یہ خدشہ تھا کہ اگر بزرگ شہریوں ، اساتذہ اور نہایت پڑھے لکھے قابل احترام شخصیات تو ہتھکڑی نہ لگائی تو نیب کا رعب نہیں جمے گا۔ لوگوں کو پتا نہیں چلے گا کہ نیب کتنا طاقتور ادارہ ہے۔ یہ اتنا ادارہ اتنا طاقتور ہے کہ جب چاہے جس کو چاہے گرفتار کر لے۔ میڈیا ٹرائل کے ذریعے لوگوں کی پگڑیاں اچھالے۔ انہیں ذلیل کرے اور جب چاہے بغیر تحقیقات کئے کسی کو بھی پیشیوں کے نام پر بے عزت کرتا رہے۔

جب سے ہتھکڑی لگے اور سہارے کے ساتھ چلتے اساتذہ کی تصاویر اور وڈیوز منظر عام پر آئی ہیں تو اسکے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور جب انہوں نے عدالت میں ڈی جی نیب لاہور سے کہا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف مقدمہ درج کروا کر اسی طرح ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جائے تو اس پر ’’انتہائی نرم دل‘‘ ڈی جی نیب لاہور کے آنسو نکل آئے۔ وہ اپنے آپ کو ہتھکڑی میں دیکھنے کا تصور بھی برداشت نہ کر سکے۔ مگر ان کی ناک کے نیچے تین سینئر ترین اساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر عدالت کے سامنے پیش کیا مگر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ان کی آنکھوں میں اس وقت کوئی آنسو نہ آئے جب نیب ان اساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر لے جا رہی تھی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب سے یہ بھی استفسار کیا کہ اساتذہ کو ہتھکڑیاں کس قانون کے تحت لگائیں۔ قابل احترام چیف جسٹس صاحب اچھا کیا جو یہ سوال اٹھایا مگر انہیں نیب عدالت کے جج صاحب سے بھی پوچھنا چاہئے کہ جب ان اساتذہ کو اس حالت میں ان کی عدالت میں پیش کیا تو انہوں نے یہ سوال نیب سے کیوں نہ کیا اور عدالت میں ان کی ہتھکڑیاں کیوں نہ کھلوائیں۔

بدقسمتی سے ہمارے رشوت ستانی کے انسداد کے ادارے ہوں یا پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ اب تک قانون کے اطلاق و نفاذ اور اس پر عمل درآمد کروانے اور کسی بھی شہری کو ذلیل کرنے اسے بے عزت کرنے اور سرعام رسوا کرنے کے درمیان موجود باریک فرق کو نہیں سمجھ سکے۔ آج بھی پولیس بغیر کسی وارنٹ پر کسی بھی عام شہری کے گھر میں گھس جاتی ہے۔ خواتین اور بچوں سے بدتمیزی کرنا ، چادر اور چار دیواری کو پامال کرنا تو روزمرہ کا معمول

ہے۔ پاکستان میں کونسا قانون پولیس کو یہ اختیار دیتا ہے مگر اس کے باوجود یہ معمول ہے۔ پولیس کسی کو گرفتار کرتے وقت جس طرح عام لوگوں پر تشدد کرتی ہے اور غلیظ گالیاں دیتی ہے یہ دراصل قانون پر عمل درآمد کروانے یا اسے لاگو کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس تذلیل اور رسوائی کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ بالادست ہیں ، طاقت ور ہیں اور کسی بھی قانون اور قاعدے سے بالا ہیں۔ ہم کیوں مہذب انداز سے قانون کا اطلاق نہیں کر سکتے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہی انداز اور اطوار سکھائی ہیں۔ ان کی ترتیب اس انداز سے کی گئی ہے کہ وہ طاقت ور اور بااختیار لوگوں کے اشاروں پر چلتے ہیں اور بے اختیاروں پر طاقت آزماتے ہیں۔ اساتذہ کے ساتھ نیب نے جو کچھ کیا یہ نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری۔71 سالوں سے آزاد ** شاعروں ، ادیبوں ، نظریاتی سیاسی کارکنوں ، دانشوروں اور آئین کی بالادستی اور جمہوری حکمرانی کی خواہش رکھنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا آ رہا ہے۔ یہ دراصل اس ریاستی ڈھانچے اور نظام کا حصہ ہے جو برطانوی سامراج نے اپنے نو آبادیاتی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان پر مسلط کیا تھا۔ یہ نو آبادیاتی ڈھانچہ ، قوانین ، ضابطے اور نظام ایک غیر جمہوری اور آمرانہ طرز حکومت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔مگر یہ کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس پورے نظام اور ڈھانچے کی سوچ غیر جمہوری ہے۔ یہ آزادانہ سوچ فکر اور اظہار کو پسند نہیں کرتا۔ اس لئے ہر دور میں غیر جمہوری اور آمرانہ رویوں کے خلاف آواز اٹھانے والے شاعر ، ادیب ، اساتذہ ، فحافی اور دانشور ریاستی طاقت کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اور آئندہ بھی بنتے رہیں گے جب تک اس نظام سے غیر جمہوری اور آمرانہ روح کو باہر نہیں نکالا جاتا۔

اب نیب کے ادارے کو ہی لے لیں۔ جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اسے قائم کیا تھا تو اس کا واحد مقصد حزب مخالف کو دبانا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا تھا جبکہ اس سے پہلے نوازشریف نے اپنے دوسرے دور میں احتساب کمیشن کے نام سے ادارہ قائم کیا تھا۔ اگر نیب کے قیام کا مقصد بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہوتا تو یہ ادارہ بلا امتیاز کارروائی کرتا اور حکومت کے ہاتھوں میں سیاسی مخالفین کو دبانے کا آلہ نہ بنتا۔ جنرل (ر) مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اس ادارے کو سیاسی استعمال کو مزید بڑھایا۔ مسلم لیگ (ق) کی تشکیل اور اس کی حکومت قائم کرنے میں نیب نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وجہ سے میثاق جمہوریت میں احتساب کے نئے ادارے کے قیام کی بات کی گئی تھی جو سب کا یکساں احتساب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایسا نہ کرنے کی سزا بھگت رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما تو روزانہ کی بنیاد پر نیب پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ ادارہ انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) والے کتنی آسانی سے یہ بھول گئے ہیں کہ یہ ادارہ انہوں نے بنایا ہی اس مقصد اور کام کے لئے تھا۔ نیب بنیادی طور پر وہی کر رہا ہے جو وہ گزشتہ 2 دہائیوں سے کرتا آیا ہے۔ یعنی مخصوص لوگوں کی گرفتاریاں ، ان کا میڈیا ٹرائیل اور الزامات کی بھرمار جو بعد میں ثابت کرنا مشکل ہو جاتے ہیں۔ نیب نے قابل احترام اساتذہ کے ساتھ جو کیا اس پر عدالت تو اسے معاف کر چکی ہے اور نیب نے معافی مانگ لی ہے مگر کسی نے یہ کوشش کی ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ محض شک کی بنیاد پر بغیر تحقیقات کئے گرفتاریوں ، الزامات اور میڈیا ٹرائیل کا سلسلہ بند کیا جائے۔ نیب کی تحقیقات کرنے اور وائٹ کالر جرائم کو روکنے اور پکڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے ۔ پاکستان کو بلاامتیاز اور سب کے یکساں احتساب کے ایک نئے ادارے کی ضرورت ہے جو پوری دلجمعی سے بدعنوانی کے خاتمے اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے مستعدی سے کام کرے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین، طور طریقوں اور سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنے کی روایات اور طور طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

اساتذہ ، دانشور، ادیب ، شاعر ، صحافی اور سیاسی کارکن کسی معاشرے میں جس مقام اور مرتبے کے حامل ہوتے ہیں ان کو جو عزت و مرتبہ حاصل ہوتا ہے وہ دراصل کسی بھی سماج کے عمومی مجموعی ثقافتی میعار اور روایات کا امین ہوتا ہے۔ مہذب اور غیر مہذب، جمہوری اور غیر جمہوری، ترقی پسند اور رجعتی سماج اور نظام میں ایک نمایاں فرق اس سماج کے دانشوروں ، ادیبوں اور اساتذہ کے مقام اور سماجی حیثیت کا ہوتا ہے۔ ہم کیا ہیں اس کا فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں۔


ای پیپر