بھارت سرکار اور ہندو شاؤن ازم
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

2002 ء میں بھارتی ریاست گجرات میں بدترین فسادات روکنے کی ذمے داری سنبھالنے والے بھارتی جنرل (ر) ضمیر الدین شاہ کے نئے ور لرزہ خیز انکشافات سامنے آ چکے ہیں۔ 10اکتوبر2018ء کو ایک انٹرویو میں جنرل ریٹائرڈ ضمیر شاہ نے بتایا کہ’ احمد آباد جل رہا تھا اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے تھے، 34 گھنٹوں تک فوج کو ایئرپورٹ پر گاڑیاں فراہم نہ کی گئیں، ٹرانسپورٹ کا بروقت انتظام ہو جاتا تو کم سے کم 300 زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں، فوج کو راجستھان سے بلایا گیا، پورا ایک دن ایئرپورٹ پر بٹھایا گیا، ریاستی حکومت نے بروقت ذمے داری نہیں نبھائی‘۔ بھارتی ریاست گجرات میں ہندوں کی اکثریت ہے اور یہاں اکثر ہندو مسلم فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ 2002ء میں بھی اس ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ان دنوں گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔

امر واقع یہ ہے کہ2014 عام انتخابات کے موقع پر یہ بنیادپرست انتہا پسند جماعت چوتھی بارپاکستان دشمنی اور مسلم بیزاری کا ایجنڈا لے کرسیاسی میدان میں اتری اور میدان مار لیا۔ بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے ،جہاں تقریباًگزشتہ 23برس سے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔ ہندو عوام کی اکثریت سیاسی طور پر بد راہ ہو چکی ہے ۔ بھارت کے کٹر تشدد پسند ہندو حکمران طبقات مسلم اقلیتی آبادی کی نسل کشی کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی نسل کشی نہ کی گئی اور انہیں دہشت زدہ اورہراساں نہ کیا گیا تو یہ آنے والے دور میں ’ بھارت ماتا‘ کے مزید جغرافیائی ٹکڑے کرنے کا موجب بنیں گے۔شو مئ قسمت کہ بھارت میں برسراقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا حقیقی منشور ہی پاکستان دشمنی اور مسلم کشی ہے۔ اس منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی، نیز یہ کہ خطے میں رام راج کا غلبہ اس جماعت کا دیرینہ خواب ہے ۔

ہر با خبر شہری کے علم میں ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 10مئی 2015ء کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کی ساتھ ملنے والی سرحدوں سے ہمیشہ دراندازی کے خدشات رہتے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے مؤثر ترین اقدامات کئے جا رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحد پر تار بندی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اگر اس میں کوئی کوتاہی رہی تو اس کو دور کیا جائے گا، ملک کی اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی حکومت پر عزم ہے‘۔۔۔بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ آئے روز ایسے بیانات داغتے رہتے ہیں جو اُن کی پاکستان بیزاری اور مسلم دشمنی کا مظہر ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے دراندازی کے حوالے سے بنگلہ دیش اور چین کا نام تو محض برائے وزن بیت لیا ہے دراصل وہ پاکستان کے خلاف اپنے متعصبانہ اور معاندانہ عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔ بھارت ، سری لنکا، برما،سکم، بھوٹان، نیپال، مشرقی پاکستان حتیٰ کہ مالدیپ میں بھی دراندازی کا مرتکب ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔ شو مئ قسمت کہ بھارت میں برسراقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا حقیقی منشور ہی پاکستان دشمنی اور مسلم کشی ہے۔ اس منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی، نیز یہ کہ خطے میں رام راج کا غلبہ اس جماعت کا دیرینہ خواب ہے ۔ گزشتہ برس عام انتخابات کے موقع پر یہ بنیادپرست انتہا پسند جماعت چوتھی بارپاکستان دشمنی اور مسلم بیزاری کا ایجنڈا لے کرسیاسی میدان میں اتری اور میدان مار لیا۔ بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے ،جہاں تقریباًگزشتہ 23برس سے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔ ہندو عوام کی اکثریت سیاسی طور پر بد راہ ہو چکی ہے ۔ بھارت کے کٹر تشدد پسند ہندو حکمران طبقات مسلم اقلیتی آبادی کی نسل کشی کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی نسل کشی نہ کی گئی اور انہیں دہشت زدہ اورہراساں نہ کیا گیا تو یہ آنے والے دور میں ’ بھارت ماتا‘ کے مزید جغرافیائی ٹکڑے کرنے کا موجب بنیں گے۔ بھارت کے صوبہ گجرات میں2004ء میں ایک ہی سال میں دو بار بنیاد پرست جنونی ہندوؤں نے مسلم کش فسادات کا آغاز کیا جو آج بھی جاری ہے۔ بھارت میں مجموعی طور پر مسلم اقلیتی آبادی کو اکثریتی ہندو آبادی سماجی و ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ آج بھی جب تشدد پسند ہندو تنظیموں کے مسلح غنڈے بھارت میں کسی مسلم بستی پر چڑھائی کرتے ہیں تو برملا یہ اعلان کرتے ہیں کہ ’’ہم بھارت میں موجود ’’منی پاکستان‘‘ کے شہریوں کو سبق سکھانے اور مزہ چکھانے جا رہے ہیں۔ احمد آباد، دہلی، لکھنو اور اترپردیش میں آج بھی جنونی ہندو عناصر مسلم محلوں پر ’’پاکستان‘‘ کی پھبتی کستے ہیں۔ بھارت کے طول و عرض میں یہ عناصر اس قسم کامذموم اور مسموم پروپیگنڈا بلاروک ٹوک کر رہے ہیں کہ بھارتی ’مسلمانوں کی بھارت سے وفاداری مشکوک ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد ہندو تنظیموں کی رہنما قومی و بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی میں متعدد بار بھارتی مسلمانوں کو یہ دھمکی دیتے رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے بھارت میں رہنا ہے تو انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ اگر وہ ہندومت قبول نہیں کرتے توانہیں اکیسویں صدی میں ایک بار مزید پاکستان کی جانب ہجرت کرنا ہوگی۔

بھارت کی انتہا پسندہندو تنظیم ویشوا ہندو پریشد انٹرنیشنل کے صدر اشوک سنگھل بی جے پی حکومت سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ ’ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی ممکن نہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کرے‘۔ بھارتی انتہا پسند تنظیموں کے رہنما جانتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کو دہشت زدہ کر کے ان کی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ایسے میں ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں جو انہیں بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے سے روک سکے۔واقفان حال جانتے ہیں کہ بھارت کی انتہا پسند جنونی مسلح دہشت گرد تنظیموں کی ’’پرامن تحریکیں‘‘ بھی کس قدر خونخوار اور خوں آشام ہیں۔ اس قسم کی کئی ڈریکولائی تحریکیں آج بھی کشمیر، آسام، یوپی، مدراس، اڑیسہ اورگجرات میں بھارت کے مختلف مسلم اکثریتی قصبوں، شہروں اور دیہاتوں میں ہزاروں مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانے کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں۔ بھارت کے تمام تر ریاستی ادارے بھی ہندو شاؤن ازم کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ عدالتیں تک بھی اس شاؤن ازم کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکیں۔ بھارت کا قومی اور بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاتراکے ایک ایک لمحے کو اپنے سینے میں محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود رائے بریلی کی ایک خصوصی عدالت نے 2011ء میں ایل کے ایڈوانی کو اس الزام سے بری کر دیا کہ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نسل کش تحریک کا نقطہ آغاز ہمیشہ ممبئی میں رونما ہونے والا کوئی نہ کوئی ’’خودکاشتہ واقعہ‘‘ بنتا ہے۔ بھارت کا حساس ادارہ ’’را‘‘ بھارت کی تمام انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ سیکولر بھارت کے حساس ریاستی ادارے ’’را‘‘ کے تنظیمی نیٹ ورک میں غیر ہندو افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ صورت حال نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی حکمران طبقات اقلیتوں کے باب میں کس حد تک روادار،روشن خیال اور کشادہ فکر ہیں۔ اندریں حالات بھارت میں اقلیتی آبادیاں بدترین قسم کے عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔کسی بھی شہری کا مسلم ہونا ایک جرم بن چکا ہے۔ مسلم اقلیتی آبادی کو قدم قدم اس ’’جرم‘‘ کی سنگین سزائیں بھگتنا پڑ رہی ہیں۔ ان کی آبادیوں پر مسلح دہشت گرد ہندو تنظیمیں منظم دھاوے بولتی ہیں۔ مسلم شہری آزادانہ نقل و حرکت کے بین الاقوامی مسلمہ انسانی حق سے بھی محروم ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ وہ کسی ایسی بستی میں رہائشی املاک خرید سکیں جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہو۔ بھارتی حکام انتہائی عیاری کے ساتھ عالمی برادری کی نگاہوں سے بھارت سرکار کے ہندو شاؤن ازم کو چھپانے کے لیے پاکستان،بنگلہ دیش اور چین پر بھارت میں دراندازی کاالزام لگا رہے ہیں۔


ای پیپر