مڈل ایسٹ اکھاڑہ: امریکہ اور سعودیہ مدِ مقابل
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

عالمی سیاست میں دوستی اور دشمنی کچھ بھی دائمی نہیں ہوتا۔ کل کے دوست آج کے مخالف اور کل کے دشمن آج کے دوست ہو سکتے ہیں ۔ 2015 ء میں جب باراک اوبامہ نے ایران کے ساتھ صلح کا آغاز کیا تو یہ ساری دنیا کے لیے باعث حیرت تھا۔ یہ الگ بات کے ڈونالڈ ٹرمپ اقتدار میں آ کر اوبامہ کے معاہدوں سے منحرف ہو گئے مگر گزشتہ 50 سال کی سب سے بڑی سر پرائز یہ ہے کہ امریکہ کو مڈل ایسٹ میں اپنے پرانے دوست سعودی عرب کے ساتھ سنگین اختلافات لاحق ہیں جو چند دن پہلے تک ناقابل یقین بات تھی۔ 2 اکتوبر کا دن دنیا کے لیے ایک حیرت انگیز دن تھا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان کو ہم نے ہٹا دیا ہے کہ آہ کی حکومت ہماری مدد کے بغیر 2 ہفتے بھی نہیں چل سکتی یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ اس بیان کے پیچھے کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کے لیے اتنی سخت دھمکی پر ایران بھی سکتے میں آ گیا کہ اچانک یہ کیا ہو گیا۔ آہستہ آہستہ حقائق سے پردہ اٹھ رہا ہے۔ 2 اکتوبر کو ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے پہلے سعودی عرب کے منحرف صحافی جو امریکہ میں قیام پزیر تھے اور واشنگٹن پوسٹ میں سعودی شاہی خاندان کے خلاف سعودی حکمرانوں کو خصوصاً ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر شدید تنقید کیا کرتے تھے ان کے بارے میں اطلاعات آنا شروع ہو گئیں کہ وہ ترکی میں لاپتہ ہو گئے ہیں انہیں آخری دفعہ اس وقت دیکھا گیا جب وہ بطور سعودی شہری اپنے کاغذات کی تصدیق کے لیے انقرہ میں سعودی سفارتخانے گئے اور وہاں سے لاپتہ ہو گئے۔ صحافی جمال خشوگی جن کی عمر 56 سال ہے وہ ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے مداحوں میں سے ہے مگر محمد بن سلمان کی پالیسیوں کی وجہ سے وہ ان کے مخالف ہو گئے اور امریکہ چلے گئے وہ ایک عرصے سے محمد بن سلمان کی یمن شام لبنان میں مداخلت، سعودی عرب کی اندرونی پالیسیوں فلسطین کے معاملے میں اسرائیل کے حمایت اور سعودی عرب کے اندر علماء اور دانشوروں کی گرفتاریوں پر لکھتے تھے۔ وہ ایک ترکی خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے اور جس وقت وہ سعودی سفارتخانے میں گئے ان کی منگیترگاڑی میں بیٹھ کر بار ان کا انتظار کر رہی تھی اور وہ دانستہ طور پر امنا موبائل فون گاڑی میں چھوڑ کر گئے تھے جب وہ 2 گھنٹے تک واپس نہ آئے تو ان کی منگیتر نے میڈیا سے رابطے شروع کر دیے اور ان کی جان کے بارے میں خطرات کا اظہار کیا۔ یہ کسی ہالی ووڈ فلم جیسی Thrilling سٹوری ہے۔ جس وقت جمال خشوگی ترکی میں سعودی سفارتخانے میں محصور ہوئے اس کی چند گھنٹے کے اندر

سعودی عرب سے 2 پرائیویٹ جیٹ 15 آدمیوں کو لے کر ترکی پہنچے۔ جمال خشوگی کی گمشدگی پر شروع میں تو یہ سمجھا گیا کہ انہیں اغواء کر کے ان مشتبہ طیاروں میں ترکی سے نکال لیاگیا ہے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں کے جمال خشوگی کو سعودی سفارتخانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔ سفارتخانہ کے باہر تاکی سکیورٹی کو اس دن چھٹی دیدی گئی تھی البتہ نہ کی سکیورٹی کیمرے کی cctv میں حکومت ترکی نے تصدیق کی کے جمال خشوگی کے اندر جانے کی فوٹیج موجود ہے مگر باہر نکلنے کا ثبوت نہیں ہے جس پر سعودی سفارتخانے نے موقف اپنایا کہ ان کو پیچھلے دروازے سے نکال لیا گیا تھا جس پر معاملات مزید مشکوک شکل اختیار کر گئے۔

امریکی انٹیلی جنس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی سفارت خانے کی بلڈنگ میں ایسے آلات لگا رکھے ہیں جو انہیں اندر کا حال بیان کرتے ہیں اور ان ذرائع نے امریکی پریس میں خبر لیک کی جمال خشوگی کو سفارتخانے کے اندر قتل کر دیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ خبر بھی پھیلائی ہے کہ جو 2 سعودی طیارے ترکی میں داخل ہوئے تھے اور واپسی پر ایک دوبئی چلا گیا اور دوسرا مصر روانہ ہو گیا ان میں سعودی انٹیلی جنس کے لوگ تھے جو مقتول کی لاش کو ٹھکانے لگانے آئے تھے اچلاعات کے مطابق ان میں ایک forensic doctor تھا جس کے پاس انسانی ہڈیاں کاٹنے والا bonesaw تھا جس سے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کو دو سوٹ کیسوں میں بند کر کے طیاروں میں رکھ دیا گیا تاکہ ترکی کی سرزمین پر کسی طرح کا قتل کا ثبوت باقی نہ رہے۔ امریکہ کے پہلے ہی سعودی عرب کی پالیسیوں پر شدید تحفظات ہیں خصوصاً 2015 ء سے جاری یمن جنگ میں امریکہ سعودی عرب کی وجہ سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ جب ایران پر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ اقتصادی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا تو امیرکہ کو پتہ تھا کہ اس سے دنیا میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا جس کا ذمہ دار امریکہ ٹھہرے گا اس لیے ٹرمپ نے کئی بار سعودی عرب اور اوپیک ممالک کو کہا کہ وہ پٹرول کی قیمت کم کریں مگر اس کی بات نہیں مانی گئی جس پر ٹرمپ خاصے غصے مین ہیں دوسری جانب امریکی مجبوری یہ تھی کہ محمد بن سلمان نے گزشتہ سال امریکہ کو 100 بلین ڈالر کے اسلحہ خریداری کا جو آرڈر دیا تھا امریکہ وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

جمال خشوگی کی گزشتہ سال کی ایک ٹویٹ میں اس نے لکھا کہ سعودی عرب میں آزادی رائے کو دبانے کی پالیسی تاریخ میں نہیں ملتی میں اس پر بول رہا ہوں انہوں نے سعودی شہریوں سے کہا کہ وہ بھی اس پر آواز اٹھائیں ان کی اس طرح کی ٹویٹ اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبار میں سعودی عرب کے خلاف کالم نگاری محمد بن سلمان کے لیے ناقابل برداشت تھی لہٰذا اسے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکہ کے سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ جمال خشوگی کے کیس کی تحقیقات کی جائے اور اس میں ملوث ذمہ داروں کو قانون کے سامنے لایا جائے ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سازش کے پیچھے محمد بن سلمان خود ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ جو 15 سعودی خفیہ لوگ دار دات کے روز ترکی پہنچے تھے ان میں سے 4 کی حفاظت کر لی گئی ہے ان میں سے ایک محمد بن سلمان کا ذاتی محافظ ہے جو بیرونی ادواروں میں بھی اس کے پیچھے جہاز کی سیڑھیوں سے اترتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے امیرکی اس تھیوری پر کام کر ر ہا ہے کہ اس میں محمد بن سلمان کو ملوث کر کے سعودی عرب میں موجودہ باپ بیٹے کو اقتداد سے الگ کیا جائے۔ کل مائیک پومپیو اسی سلسلے میں سعودی عرب گئے اور محمد بن سلمان اور شاہ سلمان سے ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقات انتہائی کشیدگی میں ہوئی شاہ سلمان سے ان کی ملاقات صرف 15 منٹ جاری رہ سکی اسی طرح محمد بن سلمان نے انہیں کہا کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں۔ اس بارے میں تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اس معاملے پر کوئی درمیانی راستہ نکل آئے یہ درمیانی راستہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ مغربی میڈیا کہہ رہا ہے کہ سعودی عرب نے اس قتل کا اعتراف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن اس میں ردو بدل یہ ہے کہ محمد بن سلمان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سٹوری تیار کی جا رہی ہے کہ سعودی سفارتکاروں نے جمال خشوگی سے پاچھ گچھ شروع کر دی کہ وہ سعودی عرب میں wanted ہے اسی دوران تشدد سے اس کی موت واقع ہو گئی جو غیر ارادی تھی اس اچانک صورت ھال کے سامنے آنے پر اس کی لاش غائب کرنے کے لیے قونصلر سطح کے افسر ملوث ہو گئے۔ یہ سٹوری اگر لیک ہو گئی تو سعودی عرب ان اہل کاروں کو سزا دینے کا اعلان کرے گا اور جمال خشوگی کے لواحقین کے لیے معاوضہ کا اعلان کیا جائے گا لیکن ابھی یہ بالکل قبل ازوقت ہے۔

ایران اس سارے معاملے کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کے قومی دماغ میں کہیں یہ خواہش جنم لے رہی ہے۔ کے مڈل ایسٹ میں معاملات کے کنٹرول کے لیے کوئی نیا تجربہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں سعودی اور ایران دونوں کو پس پشت ڈال کر ترکی کو آگے لانے کی خبریں ہیں ایک تو ترکی یورپ کا حصہ اور اتحادی ہے ۔ دوسرا وہ غیر عرب ہے اور شام اور دیگر ممالک میں اپنا گہرا اثرو رسوخ رکھنے کے علاوہ اسلامی دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے کیونکہ پہلے نمبر پر پاکستان آرمی ہے ویسے بھی پاکستان مسلم دنیا کا واحد نیو کلیئر ملک ہے۔ لیکن ترکی اپنے اقتصادی حالات کی وجہ سے ایسا کوئی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اگر امریکہ کو اس سارے معاملے میں پھر سے سعودی عرب سے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا تو اس کی سعودی عرب کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی ۔ دوسری طرف محمد بن سلمان اپن اقتدار بچانے کے لیے کوئی بھی ڈیل کر سکتے ہیں۔


ای پیپر