علم دشمن تعلیم
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

گزشتہ کالم میں ہم نے قرآن کا نظریہ علم اورتعلیم بیان کیا۔آج ہمارا موضوع وطن عزیزمیں رائج دوہرا ،باہم متضادنظام تعلیم ہے ۔ ایک طرف اخلاقیات باختہ جدید سیکولرنظام تعلیم ہے جس کی کوکھ سے ملت فروش تک پیداکیے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف عہد حاضر کے لمس سے محروم مدارس کا نظام تعلیم ہے جو بیمارذہنیت، بیمارمعیشت اوربیمارحال امام وغسال پیداکررہاہے ۔یہ دونظام ہائے تعلیم ایسے دوطبقات کوجنم دے رہاہے جو بزعم خویش ایک ملت اورایک قوم ہوتے ہوئے باہم اجنبی ہیں۔زہدوتقویٰ کے پیکراہل مدارس مخلوط نظام تعلیم کی حامل جامعات میں جانکلیں تو "پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد" والی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔جدیدتعلیم یافتہ مدرسے کو پتھرکے زمانے سے تعبیرکرتاہے۔سوال یہ ہے کہ وطن عزیز میں نظام تعلیم کی یہ دوئی خودساختہ ہے؟ قیادت کے فریب نظرکا نتیجہ ہے؟، خودغرضی ہے؟ بین الاقوامی محرکات کا نتیجہ ہے؟ بے حس وملت فروش پالیسی ساز بیوروکریسی کا کیا دھرا ہے؟ یا بانیان پاکستان کے وژنکا کوئی گیپ تھا جوآج تک بھرا نہیں جا سکا؟

یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ملک تبدیلی کی لپیٹ میں ہے اورمقتدرپارٹی کا "کورایجنڈا" دونہیں ایک پاکستان ہے اورسمجھتی ہے کہ یونیفارم نظام تعلیم سے ایساممکن ہے ،جودرست ہے مگریونیفارم نظام تعلیم کی تشکیل اوراطلاق موجودہ قیادت کے چڑی مارشاہینوں کے حیطہ ادراک سے باہرہے۔جن کی تشخیص خالص اس نتیجے پرپہنچی کہ مدارس کے طلبہ کا بھی حق ہے کہ وہ ڈاکٹرزاورانجینئرزبن سکیں۔" شور پندناصح نے زخم پہ نمک چھڑکا،، آ پ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزہ پایا"حضرت ناصحا! ڈاکٹرز اور انجینئرز ٹیکنیکل پیشہ وارانہ مہارتوں پرمبنی شعبے ہیں اوران کی پیداوارمیں آپ کافی حدتک خودکفیل ہیں بلکہ بہت آگے ہیں، ایک ایٹمی طاقت ہیں جو اس شعبے میں ترقی کا چنگھاڑتا ثبوت ہے، آپ کے ڈاکٹرزترقی یافتہ ممالک میں اپنے ہنرکے جھنڈے گاڑچکے ہیں۔کسی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی ثقافت ہواکرتی ہے جو مجموعہ ہوتا ہے ان اقدار کا جو اس قوم کے اجتماعی ضمیر اور Cummulative effortکی پیداوارکا نتیجہ ہواکرتی ہیں پھراس قوم کا ایک نظام تعلیم ہوتاہے جوان اقدارکا پاسبان ونگہبان ہواکرتاہے، جب وہ نظام تعلیم ان اقدارکی نگہبانی میں ناکام ثابت ہوتوقوم کا ضمیرمضمحل ہوکرتحلیل ہوجایا کرتاہے اورثقافت مٹنے سے قومیں صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں۔تاریخ شاہد ہے"بجھی ہیں کتنے بڑے فلسفوں کی قندیلیں،،، ہوئے ہیں کتنے بڑے علم خاک کا پندار" جرمن مورخ اسپینگلرسمیت دیگرماہرعمرانیات یکسو ہیں کہ کلچراورثقافت کی فصل علم وتعلیم کے ہمہ دم رواں چشموں سے پھلتی پھولتی اوربارآورہوتی ہے، جب علم وتعلیم کے دریا رک جائیں توجوہڑبن جاتے ہیں ، ثقافتوں کے اشتراک سے تہذیب جنم لیتی ہے جو فرسودہ روایات کی شکل اختیارکرتی ہے۔ قرآن بتاتاہے کہ جب کوئی تہذیب بنی نوع انسان کیلئے نافع نہیں رہتی تو یا تووہ اپنے تضادات کی بھینٹ چڑھ جاتی اوراندرسے ردعمل پیداہوتاہے اور ازسرنوع زندگی کا آغازہوتاہے یا اس کے پہلو میں علم نو کی شمع سے نئی ثقافت جنم لیتی ہے جوزندگی کی حرارت سے اس عظیم الجثہ تہذیب کو نگل جاتی ہے، تاریخ بتاتی ہے ایران نے کلچرکی طاقت سے تہذیب مصرکو مسخرکیا، پھریونان کے طاقتورکلچرنے ایران کو فتح کیا۔ساتویں صدی عیسوی میں عرب کی ثقافت اسلامیہ نے سلطنت روم اورپارس کو فتح کیا۔جب ثقافت اسلامیہ کے سوتے خشک ہونے لگے توبغدادپرمنگولوں نے دھاوابول دیا، ابھی سب کچھ گنوایا نہ تھا کہ بچ رہے۔ پھریورپی نشاۃ ثانیہ سے اقوام مغرب نئے کلچرزسے فیض یاب ہوئیں توپورامسلم ایشیاء اورافریقہ یکے بعد دیگرے ڈھیرہوتا چلا گیا۔پھرمسلم ممالک اپنی شناخت اورکلچرکے متلاشی ہوئے نئی روح نے انگڑائی لی تو یکے بعد دیگرے آزادیوں سے سرفرازہوتے گئے۔ مگرآزادی کے بعد سب سے اہم ترین ذمہ داری قومی نظام تعلیم وضع کرنے کی تھی، پھرقدیم وجدید نظام تعلیم کی دوئی نے تاحال کسی اسلامی ملک کوپنپنے نہیں دیا۔ایک انتہااتاترک مصطفےٰ کمال پاشا کا ماڈل تھاجس نے ثقافتی اورتہذیبی ورثے کوخیربادکہہ کرتہذیب یورپ کی جگالی کو شعاربنایا، دوسری طرف سعودی عرب کا روایتی تعلیم کا ماڈل جس نے فکرونظرکوکارفضول سمجھ کرروایت کو دانتوں سے پکڑلیا۔

محمد اقبال اورمحمد علی جناح صاف شفاف ویژن رکھتے تھے اوران کے نزدیک پاکستان ایک جغرافیے سے کہیں بڑھ کرایک ثقافت کے احیاء کی سرزمین تھی۔اقبال نے پے درپے مدرسہ اورجدیدطرزتعلیم پرکاری حملے کیے، اہل مدرسہ کو کورنگاہ اورمردہ ذوق قراردیاتو جدیدتعلیم کو کم طلب اورتہی کدومئے خانے قراردیا، اقدارسے محروم جدیدتعلیم سے نمویافتہ تہذیب کو شاخ نازک کا آشیانہ قراردیا۔یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے دودن بعدآئین سازاسمبلی کے اراکین کیلئے منعقدہ سماجی تقریب میں ماہرین تعلیم کو مخاطب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا" اب جبکہ سفینہ کنارے پہ آلگاہے اورریاست بن گئی ہے توآپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک مستحکم، تخلیقی اور مضبوط قومی تعلیمی نظام وضع کریں جس میں ہماری تاریخ، اقداراورثقافت کی جھلک ہو" تاریخ عالم کی سب سے بڑی ہجرت اورخونریزی سے گزرنے کے باوجود ستائیس نومبر 1947ء کو حکومت پاکستان نے ایک تعلیمی کانفرنس کاانعقادکیا جس میں وزیرتعلیم فضل الرحمان نے کہا" یہ میرے اورآپ سب کیلئے انتہائی تسلی بخش مرحلہ ہے کہ اب ہمارے سامنے ایک موقع ہے کہ ہم ایسی قومی تعلیمی پالیسی وضع کریں جو عصرحاضرکے چیلنجزکا جواب بھی ہواوران رہنما اصولوں اوراقدارکی آئینہ داربھی ہو جس کیلئے پاکستان بطوراسلامی ریاست وجود میں لائی گئی ہے۔یہ عظیم موقع ہے اوراس ذمہ داری کا ٹاسک اس سے عظیم ترہے"

پھرسیاسی اکھاڑے میں سول اورملٹری بیوروکریسی کے اترنے سے برطانوی اداروں کے تربیت یافتہ افرادنے ملت کے مفادات کی قیمت پر"اسٹیٹس کو" کی محافظت کی اورصرف جغرافیے کو منزل سمجھ کرتصورپاکستان کو عملی شکل دینے سے انحراف کیاگیا۔ اسلام مدارس کو ٹھیکے پردے دیا گیا۔سیکولرنظام تعلیم کو بلاردوکدقبول کرلیا گیا۔نوبت بایں جہ رسید!سترکی دہائی میں تحریک پاکستان کے سرگرم رکن اورمعروف ماہرتعلیم اورنامورمورخ آئی ایچ قریشی یہ کہنے پرمجبورہوئے" ہمارے سیکولرنظام تعلیم کے فارغ التحصیل دنیا میں سب سے زیادہ تھڑدلے، اخلاق باختہ اورکرائے کے غدارہیں، گزشتہ تہائی صدی میں کیا غلط ہوا ہے جس نے ہماری معاشرت کے ستون نگل لیے ہیں اورقیادت سے حوصلہ چھین لیا ہے، بس ایک غلط، بے مقصداور بیمار نظام تعلیم کا تسلسل ہے جوسماجی اقدارکو نمو دینے سے قاصرہے، ہرطرف خودغرضی، کرپشن اورمردان کارکی کمی کا بحران ہے" مدارس سے متعلق کہتے ہیں " ان نام نہاد مسیحاؤں(علماء) نے جدید تعلیم کو اس حدتک نظراندازکیا ہے کہ مدارس اور جدیداداروں کے فارغ التحصیل افرادکے درمیان مکالمے کا امکان تک باقی نہیں رہا۔ مدارس کلاسیکی علم الکلام کی محافظت کے علاوہ بس بیمار ذہن بیمار حال بیمار معیشت امام پیداکررہے ہیں، بلا شبہ ایسا نظام تعلیم مذہبی تشخص میں بگاڑپیداکررہاہے"

تاہم آئی ایچ قریشی نے افغان جہاد کے دوران اوربعدکا پاکستان نہیں دیکھا۔اب جامعات سیکولرملائیت اورمذہبی ملائیت کے اکھاڑے ہیں۔کتنے ایک دوسرے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔موجودہ حکومت اگرتعلیم میں اصلاحات لانا چاہتی ہے تووہ مدارس میں انگریزی یا کمپیوٹرکی تعلیم اور جدیداداروں میں اسلام کی بطور مسالہ شمولیت سے بہتری نہیں لاسکتی۔دونوں طرف تاریخ ، فلسفہ، ادب اور سائنسی علوم کی مبادیات شامل کرنا ہوں گی۔یہ آسان کام نہیں ہے۔ مفتی عبدہ نے ایڑی چوٹی کا زورلگایاجامعہ الازہرمقدمہ ابن خلدون کو نصاب میں شامل نہ کرسکی۔جامعہ الازہرروایتی تعلیم کا معتبرترین ادارہ ہے ڈاکٹراسدلکھتے ہیں جب میں نے شیخ الازہرکیساتھ جامعہ کا دورہ کیا تو انہوں نے اساتذہ اورطلباء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " دیکھو ! یہ لوگ بھارت کی گلیوں میں آوارہ پھرتی گائیں ہیں جوتحریرشدہ کاغذنگلے جارہی ہوتی ہیں۔فرانسیسی سیاح لکھتاہے کہ اورنگ زیب عالمگیرجو مدارس سے فارغ التحصیل تھا اپنے استاذ ملا صالح کو ڈانٹتا پایا گیا کہ" تم نے جو مجھے تعلیم دی ہے وہ بلا ضرورت تھی، میرا اورقوم کا نقصان کیا ہے"۔اس بات کو بھی تین صدیاں گزرگئیں مگرہنوز" وہی ہم ہیں، قفس ہے اورماتم بال وپرکاہے"۔


ای پیپر