فوٹوبشکریہ فیس بک

موجودہ حکومت جمہوری روایات مسخ کر رہی ہے: خورشید شاہ
17 اکتوبر 2018 (14:42) 2018-10-17

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ 1998 سے آج تک اپوزیشن لیڈر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت جمہوری روایات مسخ کر رہی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہم اس طرف جارہے ہیں جہاں پارلیمنٹ کو خطرہ ہے۔ پارلیمنٹ میں مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ ملکی اداروں کی ماں ہے، جو حالات پیدا ہوتے ہیں وہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آتے ہیں۔ پارلیمنٹ ملک اور آئین کیلئے قانون بناتی ہے۔ پارلیمنٹ میں اعتماد سازی کیلئے سپیکر کا اہم کردار ہے۔ میرے دوست نئے آئے ہیں انہیں علم نہیں کہ قومی اسمبلی کیا ہوتی ہے یہ صرف تقرریں کرنے کی جگہ نہیں۔ ایون میں جوبات کی جاتی ہے اسے چیلنج نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی ملک میں جمہوریت چاہتی ہے، ہم نے جمہوریت کیلئے جانوں کی قربانیاں دیں۔ ہمیں آج بھی ایوان اور عوام پر دباؤ کی فکر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک اور حکومت دونوں چلے۔ ہمیں پاکستان کے آج کے حالات کی فکر ہے۔ آمروں نے ملک توڑا اور 40 سال تک حکومت کی ہے۔ سارے قوانین ریاست کو چلانے کیلئے بنائے جاتے ہیں، لیکن یہاں ساری تلواریں سیاستدانوں پر گرتی ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن سے پہلے نعرے لگائے جاتے ہیں، ضروری نہیں خودکشی کی جائے۔ یوٹرن لینا کوئی مسئلہ نہیں ہے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ یوٹرن نہیں لیا جاسکتا۔ پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اس پر کیوں بات نہیں کی جاتی۔ گیس کی قیمت میں 143 فیصد اضافہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ حکومت بھی خوفزدہ ہے۔ ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور عوام مہنگائی سے پریشان ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک کو ایک ہزار ارب کا مقروض بنایا گیا۔ 2 ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 17 روپے تک بڑھ گئی ہے۔

پارلیمنٹ نے الیکشن دھاندلی پر کمیشن قائم کی ہے۔ میرے 30 سال کے کیریئر پر تفتیش کی جائے میں نے کہاں کرپشن کی۔


ای پیپر