اللہ جانے کون بشر ہے، سعد رفیق یا شیخ رشید
17 اکتوبر 2018 2018-10-17

میری جان پہچان، اور راہ ورسم، خواجہ سعد رفیق اور ہمایوں اختر کے ساتھ برابری کی سطح کی تو نہیں، مگر باہمی عزت واحترام والی ضرورہے، البتہ ان دونوں کے ساتھ تعلقات میں ایک فرق ہے، کہ اگر وہ مجھے کوئی دعوت نامہ بھیجتے ہیں، تو میں بھی ہمایوں اختر خان کا محلہ دار ہونے کی وجہ سے اپنی خاندانی تقریبات میں انہیں مدعو کرتا ہوں، تو وہ شرکت کی زحمت برداشت کرلیتے ہیں، پھر میں ان کی خدمت میں صرف چائے، یا دوتین بسکٹ نہیں بلکہ کھانے، سویٹ ڈشز اور پھل فروٹ پیش کرتا ہوں، اور وہ جاتے ہوئے رسماً اور اخلاقاً میرے ہاتھ میں ”لفافہ“ پکڑا جاتے ہیں۔

ان کے اور میرے گھر کا فاصلہ زیادہ دور کا نہیں، بلکہ پچھلی سڑک کے اوپر ان کا گھر ہے، مگر اس کے باوجود مجھے یہ اہتمام کرنا پڑتا ہے، مگر قارئین امریکہ بھی پاکستان کا یار ہے، اور اس کے ساتھ پاکستان کا اصرار ہے، کہ تعلقات برابری کی سطح کے ہوں، برابری ہماری کسی صورت اور کسی لحاظ سے بنتی نہیں ہے، نہ معاشی لحاظ سے، اور نہ ہی اقتصادی لحاظ سے مگر ہم بضد ہیں، کہ ہمیں بھی اپنے جیسا سمجھو ، ہندوستان ہمارا ”ہمسایہ“ یا ہم اس کے ”ہمسایہ “ ہیں وہ تو اس کے ساتھ ”پھڈا“ نہیں ڈالتا، اور نہ ہی اس جیسے مطالبات پہ اپنی توانائی ضائع کرتا ہے بلکہ وہ تو انہیں ”جن جپھی “ لگا دیتا ہے، بیک وقت ٹرمپ اورپیوٹن دونوں کو اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے اور ذرہ عقل پہ زور دینے کی ضرورت ہے، کہ جو شخص بیس گھنٹے کا طویل سفر کرکے آپ کا مہمان بنا ہو، تو آپ اس کو صرف چائے اور دوتین بسکٹ کھلا کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ جب کہ اسلام کے تقاضے مہمان داری تو کچھ اور ہیں اس کے لیے تو ادھار بھی لیا جاسکتا ہے، خیر یہ ایک طویل ترین موضوع ہے، فرانس کے صدر کا جب فون آتا ہے، تو آپ سننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے ، جبکہ جہانگیر ترین کا فون آئے ، یا کسی اور کا، تو آپ کا رویہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ ایک طرف آپ کا رویہ اور طرزعمل ایسا ہے، اور دوسری طرف آپ اسی ٹرمپ کی سرپرستی میں چلنے والی آئی ایم ایف کے پاس ملک کو چلانے کے لیے ادھار لینے پہنچ جاتے ہیں، اگر ہمسایوں کی عورتیں آپس میں کمیٹی ڈالیں، یا کوئی ہمسائی دوسری ہمسائی سے ادھار لینے پہنچ جائے تو وہ پہلے اس سے تمام باتیں پوچھتی ہے، اور کہتی ہے، کہ بہن تمہاری تو عادت بن گئی ہے، ادھار لینے کی، اور تمہاری قرض واپس کرنے کی شہرت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد درمیان میں کچھ عورتیں سفارش کرتی ہیں تو بات بنتی ہے، ہمایوں اختر صاحب سے بیٹے کی شادی پہ ایک دفعہ سلامی کا لفافہ پکڑا تھا مگر میں ابھی تک زیربار احسان ہوں ہم تو ستر سال سے امریکہ کے آگے، بار بار ہاتھ پھیلا دیتے ہیں، مگر پھر بھی اسی کو کوستے، اور اسی کو ڈانٹتے ہیں، ہم تو وہ فقیر ہیں، آج کل میرے بیٹے نے راستے میں ایک فقیر کودس روپے دیئے تو اس نے بیس روپے اس کی ہتھیلی پہ رکھ دیئے، اور کہا تمہاری مہنگی گاڑی کا اگلا ٹائر پنکچر لگتا ہے، ہوا بھروا لینا، خیر خودستائی کے دور میں کل یا پرسوں میں کسی استاد کالم نگار کا کالم پڑھ رہا تھا، جس میں انہوں نے فرمایا کہ آج کل لکھنے والوں کو یہ پتہ نہیں کہ مضمون اور کالم میں کیا فرق ہوتاہے، میرے بہت سے دوستوں نے مجھے دست بستہ درخواست کی ہے کہ میں ان سے گزارش کروں کہ وہ ہمیں ٹیوشن پڑھا دیا کریں مگر صرف ایک دواعتراض کا میں انہیں جواب نہ دے سکا، کہ سوائے عمران خان کے آج تک انہوں نے کسی کے خلاف کالم نہیں لکھا ہمیشہ کسی نہ کسی کی تعریف ہی کرتے نظر آتے ہیں، میں نے اس بات پہ بھی ان کی مخالفت کی، کہ وہ ہمیشہ خاتون اول کی تو تعریف ہی کرتے ہیں، اور ہمیشہ کرتے رہیں گے ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ اردو کے استاد ہونے کے باوجود اردو کے غلط الفاظ لکھتے ہیں، میں نے کہا کہ پردہ ہی رہنے دو، آج کل کے دور میں تو پروفیسروں کو ہتھ کڑیاں اور ”مجرموں“ کے منہ پہ نقاب ڈال کر پیش کیا جاتا ہے، ان شاءاللہ بڑے ہوکر ٹھیک ہو جائیں گے۔ مگر نجانے کیوں میرا دل کرتا ہے کہ میں ”ریلوے“ کو پی آئی اے کی طرح نقصان میں لے جانے والے مجرموں کو کچھ تو بے نقاب کروں، مگر مجھے سمجھ نہیں آتی، جیسے عوام کو سمجھ نہیں آتی، کہ اس میں سعد رفیق ، جو انیس سال کی عمر میں والد کی شہادت کے بعد عملی زندگی میں آکر اپنی ماں، اور خاندان کا سہارا بنے، جوظالم حکمرانوں کے ظلم کا نشانہ بنے، مگر ان کی خوبی، جو بہت ہی کم پاکستانی سیاستدانوں میں ہے، اختلافات کے باوجود اپنی پارٹی کے ساتھ جڑے رہے کیونکہ اسی پارٹی نے یتیمی کے بعد اس کے سرپہ دست شفقت رکھا تھا، وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ قدم قدم پہ وہ محنت مشقت کرکے اس مقام پہ پہنچے ان کے مخالف عمران خان انہیں کے حلقے سے ستر ہزار کے ووٹوں سے جیتے تھے وہیں سے وہ مختصر مدت میں سات ہزار کی سبقت لے گئے، اور یوں سعدرفیق کے اور میرے مشترکہ دوست، اور ان کے کلاس فیلو، پیروں، فقیروں کے مزاج والے مگر ذہن اور نام کے ممتازعالم جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعد رفیق کی جیت کے لیے تیار رہو، میں تمہیں پانچ کلو لڈو کھلاﺅں گا، اور یوں حاتم طائی نے یار کے انتخاب پہ ، مالی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ بہرحال میں ذکر کررہا تھا، اپنے پاکستانی محکمہ ریلوے کی، ہماری ریلوے تو بس انگریز کے زمانے میںکوئٹہ سے پشاور تک جو بنادی گئی تھی ، اس کے بعد اس میں کسی حکومت نے دلچسپی نہیں لی، سوائے مرحوم جنرل ایوب خان کے جنہوں نے ریلوے ٹریک کو ڈبل کیا ، پہلے ایک ہی ٹریک پہ آنے اور جانے والی گاڑیاں چلتی تھیں، تو کسی ریلوے سٹیشن پہ گاڑی کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا، اور جب تک مخالف سمت سے گاڑی آنہ جاتی، اسے انتظار کرنا پڑتا تھا، جنرل ایوب خان نے ڈیزل کے بجائے بجلی پہ چلانے کی ابتدا کی تاکہ رفتار میں اضافہ کیا جاسکے، نئے انجن منگوائے، اسی طرح ،غلام احمد بلور ، اور شیخ رشید کے زمانے میں ریلوے کا حال ناگفتہ بہ تھا، انجن کھڑے کردیئے گئے حالانکہ ریلوے کسی بھی ملک کی آمدنی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، سعد رفیق نے ریلوے کے خسارے کو کم کرنے کے لیے نمایاں اقدامات اٹھائے، اس سے قبل ٹرانسپورٹرز ریلوے نے سے لین دین کرکے ٹرینوں کے اوقات میں تبدیلی کرالی تھی، ریلوے کے قوانین بھی انگریزوں کے دور سے چلے آرہے ہیں ،ایک دفعہ کسی دیہاتی سٹیشن پہ ایک دیہاتی شخص مرغی ساتھ لے کر جارہا تھا، تو چیکر نے اسے پکڑ لیا، اور پوچھا مرغی کی ٹکٹ کہاں ہے ؟ وہ بولا مرغی کی بھی ٹکٹ ہوتی ہے ؟ چیکر نے کہا ہاں اور اس کے آپ کو تین سو ادا کرنے پڑیں گے جب کافی منتوں کے بعد چیکر نہ مانا، تو دیہاتی نے مرغی ریلوے سٹیشن پہ پھینک دی کہ مرغی میری ہے ہی نہیں، کرلو جوکرنا ہے، پسنجر ٹرین کے ساتھ مال گاڑیوں کی اصلاح کرکے معقول منافع کمایا جاسکتا ہے ایک بات قابل غور ہے کہ ٹرینوں کے حادثات نجانے کیوں سندھ میں زیادہ ہوتے ہیں ، سانگی ریلوے سٹیشن پہ ہمارے ایک قریبی عزیز احمد خان شہید ہوگئے تھے، ان جیسے نمازی پرہیز گار شخص کا صدمہ ہمارے لیے تاحیات بھلایا نہ جاسکے گا۔ اگر ریلوے کا حال اتنا دگرگوں ہے تو شیخ صاحب 20ہزار ملازمین کسے دیں گے، اور کراچی سے پشاور تک جانے والی ہرگاڑی میانوالی سے ہوکرجاتی ہے، تو پھر ایک الگ سے ٹرین ” اپنے میاں والی“ کی خوشامد کے لیے چلانے اور ان سے افتتاح کرانے کا عمل کس چیز کی غمازی کرتا ہے، خدارا دکھاوے کے عمل کو خیر باد کہہ کر اللہ کو خوش کرنے، اور ریلوے کو بیرونی ممالک حتیٰ کہ ہندوستان کی سطح پر لانے کی کوشش تو کی جائے، ایک حقہ پینے والے مگر افلاک کی خبر رکھنے والے مرددرویش حکیم الامت اقبال ؒ، اپنی توانائیاں، چالیس ہزار کا سگار پینے والے شیخ رشید کو مشورہ دیتے ہیں

دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے

افلاک منور ہوں ترے نورسحر سے

تو پھر قوم کو خود ہی پتہ چلے گا کہ ان دونوں میں کون بشر ہے، یعنی سچا ہے۔


ای پیپر