قبضہ!
17 نومبر 2020 2020-11-17

ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان کی عادت ہے وہ دل کی بات چُھپا نہیں سکتے، ویسے تو کئی حوالوں سے یہ اچھی عادت ہے، ایک غیر منافق انسان کا یہی رویہ ہونا چاہیے، لیکن جب کوئی شخص کسی اہم یا حساس عہدے پر فائز ہو یہی ”خوبی“ اُس کی ”خامی“ بن جاتی ہے، وزیراعظم کے منصب کے بنیادی تقاضوں میں اولین تقاضا یہ ہے وہ سوچ سمجھ کر بات کریں، جو بات دل میں ہو، چاہے درست ہی کیوں نہ ہو، سوچنا یہ چاہیے اِس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اُس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا اُنہوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور ذوالفقارحمید کو صرف اِس لیے تبدیل کیا کہ اُنہوں نے اُن کے بہنوئی اور اُن کے دوست کے لاہور کی پی آئی اے سوسائٹی میں واقع پلاٹوں پر قبضے ختم نہیں کروائے تھے، وزیراعظم غیرضروری طورپر یہ بات بار بار زوردے کر کہہ رہے تھے” اگر وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ ختم نہیں کروایا جاسکا تو عام لوگوں کی کیا حالت ہوگی؟“....میرے نزدیک سی سی پی او یا کسی ڈی آئی جی لیول کے افسر کے حوالے سے کسی سوال کا جواب دینا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان ہی نہیں تھا، میں اگر اُن کی جگہ ہوتا اِس قسم کے سوال کے جواب میں صرف یہی عرض کرتا ”وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کی سفارشات پر عمل کرتی ہے پنجاب حکومت افسروں کی تقرریوں تبادلوں میں مکمل طورپر آزاد ہے“....اِس سوال کا اِس سے زیادہ جواب بنتا ہی نہیں تھا، وزیراعظم نے اِس سوال کا جو جواب دیا، بلکہ جو تفصیلی جواب دیا اُس سے ایک تو اُن کی اپنی شخصیت مزید متنازعہ ہوئی، دوسرے ایک متنازعہ پولیس افسر( سی سی پی او لاہور) کے حوالے سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا وہ اِس وقت پاکستان کا پولیس کاسب سے طاقتور افسر ہے، جو وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ ختم کروانے کے صلے میں اپنی طبیعت اور ماضی کے مطابق اب جتنی جی چاہے مزید ” انھی “ ڈال دے کوئی اُسے پوچھنے والا نہیں ہوگا، .... وزیراعظم نے یہ بھی نہیں سوچا سی سی پی او لاہور یا آئی جی پنجاب کے بارے میں اُن سے سوال کن مخصوص مقاصد کے تحت کیا جارہا ہے؟، وزیراعظم خان صاحب آج کل اللہ جانے کس کے مشورے مانتے ہیں؟ جس کسی کے بھی مانتے ہیں اُس سے دست بستہ گزارش ہے وزیراعظم کو مشورہ دے، اُن سے کہے”پاکستان کے آدھے سے زیادہ مسائل صرف اُن کے کم بولنے، نہ بولنے، یا سوچ سمجھ کر بولنے سے ہی حل ہوسکتے ہیں، پاکستان کے مسائل حل کرنے میں وہ واقعی سنجیدہ ہیں صرف ایک کام کرلیں یہی اُن کی بڑی خدمت ہوگی کم بولا کریں، .... ہرٹی وی چینل کو انٹرویو دینا نہایت ضروری ہے تو صرف اُنہی سوالات کے جوابات دیں جو اُن کے منصب کے شایان شان ہوں، علاقائی سطح کے سوالات وزیراعظم سے کرنا مناسب ہیں، نہ اُن کے تفصیلی جوابات دینا وزیراعظم کو زیب دیتا ہے، کچھ اینکرز نے وزیراعظم کو اللہ جانے کیوں ایک ”کونسلر“ سمجھ رکھا ہے، اور وزیراعظم نے اُنہیں یہ سمجھنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے، .... اب کل کلاں کوئی اینکروزیراعظم سے یہ پوچھ لے کسی علاقے کا فلاں ایس ایچ او یا پٹواری بہت کرپٹ ہے اُسے کیوں لگایا گیا ؟ یا فلاں علاقے کا ایس ایچ او یا پٹواری بہت ایماندارہے، اُسے کیوں ہٹایا گیا ؟ تو جو وزیراعظم کی حالت ہے مجھے یقین ہے وہ اِس کا جواب بھی دینا شروع کردیں گے، وزیراعظم سے صرف قومی وعالمی امورپر بات ہونی چاہیے، اُنہیں جواب بھی صرف قومی وعالمی امور کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات کے دینے چاہئیں، اینکر کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ کی جوداستان سنائی وہ سو فی صددرست نہیں، وزیراعظم کے حقائق توڑ موروڑ کر پیش کئے گئے جن پر کانوں کے کچے وزیراعظم نے یقین کرلیا جس کے نتیجے میں کچھ انتہائی دیانتدار پولیس افسروں کو ناجائز طورپر انتقامی کارروائی کا نشانہ بننا پڑ گیا، اِس کیس میں، اپنے ذرائع سے میں نے جو معلومات حاصل کیں ذاتی طورپر بھی وزیراعظم کی خدمت میں عرض کروں گا، تحریری طورپر بھی سامنے لاﺅں گا، .... فی الحال عرض یہ ہے اپنے بہنوئی کا ذکر کرکے محترم وزیراعظم نے بہت سے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے خصوصاً ایسے لوگ جن کی زمینوں جائیدادوں پر سالہا سال سے قبضے ہوئے ہیں، اُن کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت ہیں، اُنہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے، وہ اِس احساس کمتری میں مبتلا ہوگئے ہیں کاش اُن کے بہنوئی بھی وزیراعظم ہوتے تو اُن کی جائیدادوں اور زمینوں وغیرہ سے قبضے ختم کروانے کے لیے یہ عمل رتی بھر اہمیت کا حامل نہ ہوتا کہ اُن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، .... مجھے اِس پر ایک پرانا واقعہ یاد آگیا، ہم جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے، ہمارے انگریزی ادب کے ایک انتہائی مقبول اُستاد (پروفیسر اے ایچ خیال) ہوتے تھے کمال کے انسان تھے، میرا ایمان ہے آج معاشرہ بداخلاقی کے بدترین مقام پر پہنچا ہی اس لیے ہے ایسے لوگ جہاں سے اُٹھ گئے، یہ سب دیئے بجھ گئے، وہ کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور کے قائم مقام پرنسپل بنے اُن دنوں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس علامہ اقبال ؒ کے فرزند محترم جاوید اقبال تھے، اُنہوں نے پروفیسر خیال کو فون کیا، اُن سے کہا ”فلاں بچی کو ایم اے انگریزی میں داخل کرلیں اِس کے دادا علامہ اقبالؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے“....پروفیسر خیال نے بڑے ادب سے جواب دیا ”سر آپ کا حکم سرآنکھوں پر ....مگر یہ بتادیں جن بچیوں کے دادا اقبالؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری نہیں تھے اُن کا کیا کریں؟“....ہماری یہ جسارت تو نہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کی طرح اُس جانے والے اپنے محبوب وزیراعظم سے زیادہ سوالات کریں، بس وہ ہمیں یہ بتا دیں جن عام لوگوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر سالہا سال سے قبضے ہوئے ہیں، اُن کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت ہیں، اُن کے بہنوئی اگر وزیراعظم نہیں اُن کی زمینوں، جائیدادوں پر قبضے بھی کبھی ختم ہوں گے یا نہیں ؟....ایک گزارش بھی وزیراعظم سے کرنی ہے، جس کے بارے میں وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں اُس نے آتے ہی اُن کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ ختم کروادیا اُس پر کڑی نظر رکھیں جو، اُس کا ماضی ہے صرف ایک پلاٹ پر قبضہ ختم کروانے کی آڑ میں کہیں وہ خود تو قبضے کروانا نہیں شروع کردے گا؟....جیسے ماضی میں پنجاب کے ایک حکمران اعلیٰ نے کچھ ”تھانیداروں“ کو جعلی پولیس مقابلوں کے لیے منتخب کیا تو اِس کی آڑ میں کچھ” تھانیداروں“ نے لوگوں سے بھاری رقمیں پکڑپکڑ کر اُنہیں پولیس مقابلوں میں پارکرنا شروع کردیا تھا، اور اس عمل سے اُنہوں نے اتنا مال بنایا اربوں کھربوں پتی ہوگئے، ....ویسے میرے بھی اِک پلاٹ پر قبضہ ہوا، ہوا ہے، میں نے اِس یقین کے ساتھ وزیراعظم سے کبھی اِس کی شکایت نہیں کی کہ وہ ایسے گھٹیا ، فضول اور چھوٹے چھوٹے کاموں کانوٹس نہیں لیتے !! 


ای پیپر