ماتھے پر کلنک کا ٹیکا
17 نومبر 2019 2019-11-17

لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ اطمینان سے علاج کرائیں اور توسیع کی ضرورت پڑے تو عدالت سے رجوع کریں۔ شیخ رشید نے درخواست کی سماعت کے دوران صبح ہی سے ڈھول پیٹنا شروع کردیا کہ نواز شریف آج کل میں بیرون ملک روانہ ہوجائیں گے۔ جن کے قبضے میں جن بھوت ہیں انہیں ایک رات پہلے سے خبر ہوگئی روکنے والے رات بھر جاگتے رہے مزید دو دن جاگیں گے۔ ’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘ مگر موت کو بھول کر سیاست کرنے والوں کو ’’نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘ دن رات اجلاس، اجلاسوں میں مشاورت، بریفنگ، فرد واحد کے لیے اتنی پریشانی، اجلاسوں میں ایک ہی موقف، روکو، مت جانے دو۔ نکل گیا تو واپس نہیں آئے گا۔ اجلاسوں کی اندرونی کہانیاں، وزیروں مشیروں کی اکثریت ای سی ایل سے نام نکالنے کی حامی، پرانے مخالف، سنجیدگی کی بکل مارے معدودے چند مشیر خاموش مہر بلب،خوف دامن گیر رہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن خدانخواستہ کچھ ہوگیا تو ماتھے پر کلنک کا ایسا ٹیکا لگے گا جو دھویا نہ جاسکے گا۔ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی دھرنے کے دوران کتنے قریب ہوگئے بالکل اپنے لگنے لگے چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الٰہی بھی غیر نہیں، انہیں کے ووٹوں نے اقتدار کے سنگھاسن پربٹھایا۔ چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دے دی کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے دیا جائے۔ چوہدری برادران نے بھی یہی کچھ کہا لیکن سنی ان سنی کردی گئی۔ کلنک کا ٹیکا مقدر میں ہے تو کون روک سکتا ہے۔ ایک اور سہی تاریخ بن رہی ہے۔ سورج ڈھلنے دیں۔ چاند کی ٹھنڈی چھائوں اور سچ کا نور برساتی روشنی میں حقائق قلمبند کیے جائیں گے۔ اتنے حقائق کہ عوام الناس انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ مہنگائی، کرپشن، نااہلی، غفلت، اقربا پروری، دوست نوازی، بد عنوانی، اختیارات سے تجاوز اور بہت کچھ جسے عوام دیکھنا اور سننا پسند کریں گے۔ عدالتیں اسی طرح مصروف رہیں گی۔ فیصلے لکھے جائیں گے۔ بس مدعی اور مدعیٰ علیہان بدل جائیں گے۔ اس وقت تک عمر عزیز 70 تک پہنچ جائے گی۔ اللہ زندگی دے خدانخواستہ بڑھاپے کی بیماریوں کا علاج کرانا پڑا تو اول آخر بیرون ملک ہی جانا پڑے گا۔ شرط یہی ہوگی یا شاید انسانیت غالب آجائے، پتا نہیں لیکن ڈاکٹر صفدر محمود کہتے ہیں کہ کانٹے بکھیرنے والوں کے راستے میں پھول نہیں بچھائے جائیں گے۔ پتا بھی نہیں چلے گا اور قدرت حالات کا رخ بدل دے گی۔ اس صورت میں ذہنی و قلبی کیفیت کیا ہوگی؟ روایت قائم ہوگئی تو اس دور کے سکہ رائج الوقت کے مطابق کتنے ارب کے انڈیمنٹی بانڈ طلب کیے جائیں گے۔ اس وقت سے ڈرنا لازم جب لاد چلے گا بنجارا، جنہیں اپنا سمجھتے تھے وہ سب ساتھ چھوڑ کر غیروں کی زبان بولنے لگیں گے۔ ایسی گفتگو جو تیز دھار تلوار سے گہرے زخم لگاتی ہے۔ سینہ زخموں سے چھلنی ہوجائے تو کتنی ہی بیماریاں جسم میں ’’دھرنا‘‘ دے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ تب پچھتاوا ہوتا ہے۔ بقول نادر کا کوروی ’’کل شب شب تنہائی میں، کچھ دیر پہلے نیند سے ،گزری ہوئی دلچسپیاں، بیتے ہوئے دن عیش کے، بنتے ہیں شمع زندگی، اور ڈالتے ہیں روشنی، میرے دل صد چاک پر ‘‘ اقتدار دائمی نہیں عارضی شے، 5 سال کا مینڈیٹ مولانا فضل الرحمان ایک سال ہی میں جان کو آگئے، اسلام آباد تک اتنے لوگوں کو لے آئے لوگوں نے پوچھا، پوچھنے والے سارے غیر کہ مولانا 15 دن قبل کٹ مرنے کو تیار تھے۔ 15 دن بعد موم کیسے ہوگئے، مفتی کفایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کرلیا۔ عربی کا مقولہ ہے کل شئی یر جع الی اصلہ (ہر شے اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے) پوری شام اپنوں سے مشورے میں گزر گئی کیا کریں کیا نہ کریں کچھ تو کرنا ہوگا۔ ورنہ پھر دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا۔ کہا گیا کہ ’’روکو مت،جانے دو ‘‘ تین بار کا وزیر اعظم تشویشناک صورتحال سے دوچار حکومت سوچ بچار میں پڑیرہی۔ انسانیت، مصلحت، مصالحت، ووٹروں کے سامنے فیس سیونگ، اسی سے بچنے کے لیے اربوں مالیت کے مچلکے طلب، اتنی رقم تو عربوں نے بھی نہیں دی ہوگی۔ انسانیت پر کچھ دیر کے لیے سہی مصلحت اور سیاست غالب آگئی۔ نیک شگون نہیں چوہدری شجاعت جانے والے کے مخالف ، آنے والوں کے راستے میں ریڈ کارپٹ بچھانے میں حصہ دار بلکہ بڑے سہولت کار لیکن ایسی جان لیوا بیماریوں میں روکے جانے کے خلاف، اس دور سے خود بھی گزرے ہیں ہر 6 ماہ بعد جرمنی میں چیک اپ کرانے کے لیے جانا پڑتا ہے کیا یہاں علاج ممکن نہیں؟ نہیں ہے جب ہی تو جاتے ہیں سیاسی آدمی باہر رہ کر کیا کرے گا سیاست کا چسکا تو موت تک جان نہیں چھوڑتا، نواز شریف تو اپنی 45 سالہ ازدواجی رفاقت نظر انداز کر کے اپنی رفیقہ حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی کے ہمراہ گرفتاری دینے آگئے تھے، 307 دن جیل کی سختیاں جھیل چکے۔ اتنے مایوس صیاد سے ہوگئے اب رہائی ملے گی تو مرجائیں گے۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے فورم میں ضمانت دی قسم کھائی کہ نواز شریف واپس آئیں گے۔ 84 ارکان اسمبلی کو ضامن ٹھہرایا۔ مگر ایک ہی رٹ کہ مجرم اور ملزم میں فرق ہے۔ بھاگ گئے تو ذمہ دار کون ہوگا۔ بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو‘‘ معمولی فرق جان کو آگیا جان لینے کے در پے، ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا۔ نقطہ واضح، خود مختاری ووٹ کو عزت دو، جو چاہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا۔ والی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ، تینوں دفعہ اسی پر مار کھائی۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں،مشق ستم جاری ہے کتنے دن جاری رہے گی۔ جانے والا بھی ضدی بانڈ دینے سے انکاری بقول غالب

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

عدالت پہنچ گئے اوراجازت مل گئی، بیماری پر سیاست غالب، دشمنی اور عداوت کی سیاست بغض قلبی، العیاذ باللہ، ملکی سیاست چار حلقوں کے اختلاف سے نکل کر 22 سالوں پر محیط ہوگئی اور ذاتی اختلافات سے ذاتی دشمنی تک آ پہنچی، سارے تجزیے سارے تبصرے بیکار، فضول کی مشق ’’آدمیت اور شے ہے اور سیاست اور شے‘‘ آدمی کتنا ہی فرشتہ صفت ہو 22 سالہ سفر کے اختتام پر اپنی خصوصیات کو خیر باد کہہ دیتا ہے۔ کسی کے خلاف دل میں نفرت بس جائے تو جان لے کر رہتی ہے سیاسی انتقام سے سیاست کے سینے میں ٹھنڈ پڑ جائے یہی کافی ہے۔ سیاستدان سے نفرت بجا، ذاتی پالیسیوں سے اختلاف جائز، راستے جدا درست، اقتدار تک پہنچنے کے رنگ ڈھنگ قومی رہنمائوں کا وتیرہ، آئے دن کا معمول لیکن ذاتی عداوت، شکل نہ دیکھنے تک دشمنی ایک گمنام ہوجانے والے سیاستدان کے رویہ پر رونا آیا جس نے کہا میرے کون سے سوشل تعلقات ہیں کہ میں عیادت کو جائوں، یہ سب کیا ہے، کیا روایت قائم ہوگی؟ دشمنی کا سلسلہ چل نکلا تو انتہا کیا ہوگی۔ ریاست مدینہ کے قائد پر ہماری جانیں قربان، ’’خوشا نصیب زباں پہ یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بو سے میری زبان کے لیے‘‘ میرے آقا و مولیٰ نے تو انتقامی روایات ختم کردی تھیں۔ برسوں کے خون کے پیاسے ایک ہی نظر کرم سے باہم شیر و شکر ہوگئے تھے یہ کیسی تقلید ہے جہاں دشمنیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انتقام کی بھٹی سے کتنے لاشے برآمد ہوں گے۔ 35 سالہ خانہ جنگی سے جی ٹھنڈا نہیں ہوا؟ عوام اس بھٹی کا ایندھن بن رہے ہیں دو واضح حصوں میں تقسیم، اپنے اپنے مورچوں میں گالیوں اور فحش ریمارکس کے گولے لیے مورچہ بند، سوشل میڈیا گالیوں سے بھرا ہے۔ قوم کو کس ڈگر پر ڈال دیا گیا۔ انجام گلستاں کیا ہوگا۔ 2018ء کے انتخابات اسی دوستی دشمنی کی بنیاد پر لڑے گئے چند لاکھ ووٹوں کے فرق سے دشمنی جیت گئی دوستی ہار گئی۔ مولانا لاکھ کہتے رہیں کہ کامیابی دلائی گئی لیکن یہ بھی قومی کھیل کا حصہ تھی۔ اس دشمنی میں انسانی خون کی بو شامل ہوگئی ہے کیا رنگ لائے گی ’’پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ‘‘ واضح تقسیم کے باوجود عوام کی اکثریت نواز شریف کو غیر مشروط باہر بھیجنے کی حامی ، گیلپ سروے کے مطابق 53 فیصد حامی جبکہ 44 فیصد مخالف نکلے سپریم کورٹ بار کے صدر سابق ججوں، وکلا اور مختلف طبقہ ہائے فکر کے نمائندہ افراد نے بر ملا کہا کہ بانڈ طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نے خود بھی مشروط باہر جانے سے انکار کردیا کہا کہ عدالت عالیہ نے اجازت دی تو باہر جائوں گا۔’’ اب طلاطم کیکوئی فکر نہیں، اپنی کشتنی ڈبو چکا ہوں میں‘‘ نگاہیں اہم فیصلوں اور آنے والے دنوں کی منتظر، بقول نجم ولی خان (ہمارے محترم کالم نگار) کہ’’ انڈیمنٹی بانڈ دینے میں بظاہر کوئی حرج نہیں کہ نواز شریف بہر صورت وطن واپس آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ مگر میرا کہنا ہے کہ کچھ معاملات صرف مالی نہیں ہوتے ان کا تعلق عقل، عزت اور غیرت سے بھی ہوسکتا ہے‘‘۔ معاملات عزت و غیرت اپنی جگہ لیکن یہ بھی سوچیے کہ لوگ اس یقین کے ساتھ کیوں کہنے لگے ہیں کہ 2020ء تبدیلی کا سال ہے اور پہلی سہ ماہی بری خبروں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، تبدیلی آئی نہیں کہ تبدیلی کا راستہ ہموار ہونے لگا ہے۔


ای پیپر