عوام کو کیا ملے گا؟
17 نومبر 2019 2019-11-17

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اپنا علاج کروانے کے لیے لندن روانہ ہو رہے ہیں ۔ حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت جو اینڈیمنٹی بانڈ کی شرط رکھی تھی وہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ہٹا دی گئی ہے اور ان کا نام ای سی ایل سے نکال کر انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت مل چکی ہے۔ اچھا ہوتا اگر حکومت خود ہی انسانی ہمدردی رکھا کر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دیتی۔

پی ٹی آئی کے حمایتیوں، چند وزراء اور عقابی نگاہیں رکھنے والے چند اینکرز اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے اس فیصلے پر ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان کے ردعمل سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کہ اس فیصلے سے دو پاکستان بن گئے ہیں ایک امیروں کا اور دوسرا غریبوں اور عام لوگوں کا۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے قانون کے یکساں نفاذ کا اصول اور تصور بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انتہائی پڑھے لکھے بیدار مغز اور دیواروں کے پار دیکھنے اور سننے کی صلاحیت رکھنے والے یہ اینکرز اور تجزیہ نگار ہم جیسے کوڑھ مغزوں اور کم علموں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے ہمارے ملک عزیز میں 72 سالوں سے ہر کام قانون اور قاعدے کے تحت ہو رہا ہے۔ اس ملک میں طبقاتی نظام اور تفریق کا تو نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ حکومتی فیصلے اور پالیسیاں طبقاتی مفادات کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائی جاتیں۔ پاکستان میں آج تک آئین اور قانون کی حکمرانی قائم ہے۔ یہاں پر کبھی مارشل لاء نہیں لگا۔ آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر کبھی الماری میں بند نہیں کیا گیا۔ اس ملک میں کبھی طاقتورں نے اپنی خواہشات اور مفادات کو قانون ، آئین اور قومی مفاد قرار نہیں دیا۔

قانون کی حکمرانی کا یہ عالم ہے کہ جاگیردار اپنے مزارعوں کے ساتھ زیادتی اور استحصال کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ فیکٹری مالکان من و عن لیبر قوانین پر عمل کر رہے تھے۔ عدالتی نظام سے محض انصاف کے سوتے پھوٹ رہے تھے۔ حکمران طبقات کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا تھا جو عام لوگوں کے ساتھ۔ کسی جاگیردار، سرمایہ دار، اعلیٰ سرکاری افسر اور طاقتور گروہ یا فرد کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک نہیں ہو رہا تھا۔ پاکستان میں ایک مثالی نظام اور معاشرہ قائم تھا کہ اچانک پہلے حکومت نے اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے ایک سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر اس مثالی نظام اور معاشرے کی بنیادیں ہلا دیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے اتنے سالوں اقتدار کے مزے لوٹے مگر عالمی معیار کا ایک ہسپتال بھی نہ بنا سکے مگر انہوں نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ پچھلے 6 سالوں سے خیبر پختونخوا میں تو صاد ق و امین حکومت ہے۔ اس حکومت نے عالمی معیار کے کتنے ہسپتالوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے اور کتنے ایسے ہسپتال زیر تعمیر ہیں جہاں ہر بیماری کا علاج ممکن ہو سکے۔

معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا جغادری دانشور اسے بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا سماج اور معاشی و سماجی ڈھانچہ طبقاتی ہے۔ ایک طرف طاقتور حکمران طبقات ہیں جن کا رہائشی ڈھانچہ، ذرائع پیداوار اور دولت کے بڑے حصے پر قبضہ ہے۔ انتظامیہ اور دیگر ریاستی ادارے اس طاقتور حکمران اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ کروڑوں عوام بنیادی سہولیات اور ضروریات کے لیے ترستے ہیں۔ طبقاتی نظام اور سماج میں طاقتور اور کمزور کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں ہوتا۔ ایسا کبھی کبھار نہیں ہوتا یہ روزمرہ کا معمول ہے۔ محنت کش روزانہ استحصال اور ظلم برداشت کرتے ہیں۔ مزارعوں اور بے زمین کسانوں کی کئی نسلیں ایک ہی طرح کے غلامانہ حالات اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ عام لوگ روزانہ ہی تھانوں اور کچہریوں میں ذلت برداشت کرتے ہیں۔ ہمارا نظام ہر وقت اور مسلسل طاقتوروں کے مفادات اور تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ روزمرہ کا معمول ہے نہ کہ کوئی غیر معمولی واقعہ یا انہونی۔

اسی طرح اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور اب پلان بی کے حوالے سے بھی اصول، اخلاقیات اور قانون پر عمل درآمد کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے آزادی مارچ سے پہلے ملک میں نظریاتی سیاست کا دور دورہ تھا۔ سیاست ، اخلاقیات ، اعلیٰ انسانی قدروں اور آفاقی اصولوں کے تحت ہو رہی تھی۔ اس سیاست میں نہ تو سرمائے کا عمل دخل تھا اور نہ ہی طاقت کے مراکز کا سبب کچھ جمہوری اصولوں، روایات اور اخلاقیات کی بنیاد پر ہو رہا تھا کہ اچانک مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے ذریعے سرمائے اور طاقت کی سیاست متعارف کروا دی۔ مولانا سے پہلے تو کبھی کسی نے منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ نہیں مانگا تھا۔ پاکستان میں انتخابات کے ذریعے برسراقتدار آنے والی کسی ایک حکومت کا نام پتا دیں جس سے اپوزیشن نے استعفیٰ نہ مانگا ہو۔ مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت گرانے کی کوشش نہ ہو یا حکومت کے خلاف احتجاج تحریک نہ چلائی ہو۔ اس ملک میں پیپلزپارٹی کے علاوہ وہ کونسی سیاسی جماعت ہے جس نے کسی نہ کسی موقع پر مذہبی کارڈ استعمال نہ کیا ہو۔ پاکستانی ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے مذہبی کارڈ کا استعمال کر رہی ہے۔ حکمران طبقات نے خود مذہبی کارڈ اور بیانیے کو استعمال کرنے کا آغاز کیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ جب ریاست اور حکمران طبقات مذہب کے سیاسی استعمال کو ترک نہیں کرتے اس وقت تک یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا۔

پاکستان میں سیاست نئی انگڑائی اور موڑ لینے کے لیے تیار ہے۔ اگلے چند ماہ میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے یا تبدیلی کے عمل کاآغاز ہو سکتا ہے۔ اگلے چند ماہ میں مولانا کے دھرنے کے اثرات بھی سامنے آ جائیں گے ۔ (اس پر اگلے کالم میں بات ہو گی)۔ مگر عوام خوش نہ ہوں اور نہ ہی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوں۔ اقتدار، طاقت اور سرمائے کی اس سیاست اور حکمران طبقات کی باہمی کشمکش کے نتیجے میں اگر سیاسی تبدیلی آ بھی گئی تو عوام کو اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ محض چہرے بدلنے سے معاشی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی جو موجودہ حالات کی بڑی وجہ ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی حکومتی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لیے معاشی پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اپوزیشن کو متبادل معاشی بیانیے اور پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ورنہ عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔ اقتدار حکمران طبقے کے ایک حصے سے دوسرے کو منتقل ہو جائے گا۔


ای پیپر