کیا ہو نے جا رہا ہے ؟
17 نومبر 2019 2019-11-17

وہ جو انگر یزی ز با ن کی ایک ا صلا ح ہے ، Unprecedented،تو اس وقت و طنِ عز یز کو جو سیا سی مسا ئل در پیش ہیں، وہ ان پر یسیڈینٹڈ ہیں۔ یعنی نہ ہی حکو مت جا نتی ہے ، اور نہ ہی اپو ز یشن جا نتی ہے کہ کیا ہو نے جا رہا ہے ۔ ایک جا نب حکومت امڈتے طوفانوں سے نمٹنے میں مصروف ہے تو دو سری جانب اپوزیشن محاذ پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) میں چپقلش، کشیدگی اور تنائو اپنی انتہا پہ پہنچ چکا ہے ۔ سیاستدان ڈپلومیسی، عملیت پسندی اور جمہوری عمل کے انوکھے تجربے سے آشنا ہورہے ہیں۔ سیاسی مبصرین، تجزیہ کار اور معتبر رہنمائوں میں کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ قوم کو یہ بتاسکے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے او رسیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔معیشت کی ممکنہ مثبت صورت گری میں کتنا وقت لگے گا اور کب عوام کو جمہوریت ایک ہمو ار را ستے پہ گا مز ن ہو سکے گی۔ ایک طرف دھرنا ختم اور اہم شاہرایں بند کی جارہی ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کی جڑیں کاٹ دیں، اب تنا گرانا باقی رہ گیا۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف کی گرتی صحت کا ایشو انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر چکا ہے ۔ حکومت نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی ہے ۔ وہ 7 ارب روپے کا شیورٹی بانڈ جمع کرا کر بیرون ملک جاسکتے ہیں جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کے میمورنڈم کے مطابق نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب سے فوری طور پر 8 ملین برطانوی پائونڈ 25 ملین امریکی ڈالر یا اس کے برابر پاکستانی مالیت کے بانڈ جمع کرانے ہوں گے۔ ادھر مسلم لیگ ن نے نواز شریف کا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالنے کے مشروط حکومتی فیصلے کو انتقامی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔ نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے اسے حکومتی آفر کی بدترین مثال سے تعبیر کیا ہے ۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنا کام مکمل کرلیا اب آگے بڑھنے کا انحصار نون لیگ پر ہے ۔ وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ کوئی سیاسی رنگ نہیں ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک کھیل ہے ۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے مسلم لیگ نون نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا اورلاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت نامہ مجھے کرانے پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ دریں اثنا سابق وزیر اعظم نوازشریف کے علاج کے لیے بانڈ جمع کرانے کے موقف کو حکومتی رہنمائوں نے بھی بھی مسترد کیا ۔ تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر اور متحدہ قومی موومنٹ کے اتحادی سینیٹر محمد علی سیف نے اپنی جماعت کے وزیر قانون کے موقف کو تسلیم نہیں کیا ۔ دونوں رہنمائوںنے الگ الگ بیانات میں فروغ نسیم کے موقف کو رد کیا ۔ علی ظفر نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ حکومتی فیصلہ چیلنج ہوا تو عدالت اسے مسترد کردے۔ واضح رہے کہ نوازشریف کے بیرون ملک علاج کے لیے طویل ترین اجلاس ہوئے۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت پوری کابینہ نے بیماری کے بارے میں مکمل تصدیق کی، میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ نوازشریف کی صحت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نوازشریف کو ایک بار کے لیے یہ اجازت دی جارہی ہے کہ وہ بیرونِ ملک جائیں اور علاج کروائیں۔ حکومت نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا، ون ٹائم اجازت دی ہے ۔ دورانیہ چار ہفتے کا ہوگا جو قابل توسیع ہے ۔ فروغ نسیم نے وضاحت کی کہ حکومت نے ضمانتی بانڈ نہیں مانگے بلکہ انڈیمنٹی بانڈ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ جمع کرانے پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ اس پر کارروائی آگے بڑھائیں گے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ نوازشریف کی صحت اچھی نہیں، ہمیں اس چیز کا احساس ہے مگر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نوازشریف کی واپسی یقینی بنائے۔ مسلم لیگ ن پارٹی کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر قانون اور معاون خصوصی برائے احتساب کی پریس کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ قائد محمدنوازشریف کے بیرون ملک علاج کی شرط کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کو مشروط کرنے کا حکومتی فیصلہ عمران خان کے متعصبانہ رویے اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے کیونکہ ضمانت کے وقت تمام آئینی تقاضے پورے اور ضمانتی مچلکے جمع کرائے جاچکے ہیں۔ عدالت کے اوپر ایک حکومتی عدالت نہیں لگ سکتی۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی صحت بدستور گر رہی ہے ۔ ان کا بلڈ پریشر، شوگر لیول زیادہ، جسم پر بننے والے دھبے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ بیرون ملک روانگی سے مزید تاخیر سے زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سٹیرائڈز کی مزید ڈوزز سے دورے سمیت دیگر پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا پلیٹ لیٹس کی سطح برقرار رکھنے کے لیے مختلف آپشنز پر بھی غور جاری ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری عمل تیز ہو ، لوگ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں سرانجام دیں۔ معاشی عمل تیز ہونے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگ غربت سے نکلتے ہیں۔ حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں معیشت میں بہتری اور استحکام آیا ہے ۔ ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہورہا ہے ۔ ملکی برآمدات میں بڑھوتری جبکہ درآمدات میں کمی آئی ہے ۔ سٹاک مارکیٹ میں مسلسل بہتری آرہی ہے ۔ بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر باعث تعجب ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں صدقات و خیرات اور فلاح و بہبود کے کامو ں میں عوام سبقت لیتے ہیں وہاں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح سب سے کم ہے ۔ اس ملک میں انہوں نے سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستانی عوام کی جانب سے انسانی خدمت کا یہ مظاہرہ ہورہاہے لیکن دوسری طرف یہاں ٹیکس دینے کی شرح سب سے کم ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ ایف بی آر پر اعتماد نہیں کرتا، ان میں ایک خوف پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے ۔ ماضی میں جس طرح اس ملک کو چلایا جارہا تھا یہ ملک اب مزید اس طرح نہیں چل سکتا۔ ملک کو درپیش معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بڑا مسئلہ ملک کی نوجوان آبادی جو کہ کل آبادی کا 60 فیصد ہے اس کے ٹیلنٹ کو بروئے کار لانا ہے ۔ نوجوان نسل کو تعلیم دے کر ان کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کا جزو بنانا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک عوام کا ٹیکس کے نظام پر اعتماد بحال نہیں ہوگا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر پائے گا۔ سیاسی ذرائع کے مطابق سیاسی اور معاشی حوالے سے ہر چیز دھند کا شکار ہے ۔ بے یقینی، انتشار، بدنظمی، بے سمتی اور خود پیدا کردہ سماجی گرداب میں سب پھنسے ہوئے ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ صورت حال کی بہتری کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے، کیونکہ انا، ہٹ دھرمی اور منتقمانہ رویے نے آپشنز کے استعمال کو محدود کردیا ہے ، ایک رسہ کشی ہورہی ہے اور سیاسی بریک تھرو اور ڈیڈ لاک کے خاتمہ کے لیے جس تدبر اور سیاسی افہا م و تفہیم کی ملک کو ضرورت ہے ۔ اس کا فقدان ہر سطح پر محسوس کیا جاتا ہے ۔ بظاہر معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، کوئی خطرہ کی بات نہیں، مسائل، مشکلات اور دشواریاں ضرور ہیں جنہیں حکومت سیاسی دانش و حکمت سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر ہی ہے ۔لیکن کیا ہو نے جا رہا ہے ، کسی کو کچھ پتا نہیں۔


ای پیپر