علامہ اقبالؒاور سیدمودودیؒ کا پاکستان
17 نومبر 2019 2019-11-17

اقلیمِ تخیل و ادب، شناسائے حقائق، ترجمانِ حقیقت، مفکرِ پاکستان اور مفسر ِاِسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے صحرائے ادب کو گلستانِ رُشد و ہدایت بنا کر خود کو عالمی ادب میں امر کیا۔اہل قلب و نظر اور آشفتگانِ ذوق اُن کے افکار سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔اُن کے افکار کی ضربِ کلیمی نے برِصغیر پاک و ہندکے مسلمانوں کی مردہ رگوں میں زندگی اور حرارت پیدا کی۔فکرِ اقبال کا بحراحمر مسلمانانِ بر عظیم کے لیے پیغامِ انقلا ب ثابت ہو۔ 1930 کے خطبہ الہ آباد میں علامہ اقبال نے کارِ آسیاں بندی سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کا تصور عطا کیا۔1930 سے پہلے پاکستان کا خواب مبہم تھا، اقبال نے بحیثیت مصور پاکستان ایک ایسی ماڈل ریاست کا نقشہ پیش کیا جس میں قوسِ قزح کے دھنک رنگ اس مجوزہ ریاست میں نظر آنے لگے۔ اُنہوں نے جذب و کرب سے بالا تر ہو کر مسلمانوں کو پاکستان کی اُمید نو بخشی، انہیں مسلمانوں کی پسماندگی کا احساس تھا لیکن وہ کوکبِ غنچہ پر چمکنے والی شاخوں سے پھولوں کے لیے پراُمید رہے۔وہ عالمگیر باعمل تخلیق کار کی حیثیت سے مسلمانوں کے لیے اسرارورموز کے دریچے کھولتے ہوئے یقین محکم، عمل پہیم، حکمتِ بالغہ کا پرچار کرتے ہوئے مسلمانان ِعالم کو تصور پاکستان کی دعوت فکر دیتے رہے۔بالکل اِسی طرح ملت اسلامیہ کے عظیم مفکر، مفسر، ادیب، سکالر اور راہنما سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی فکر اور علمیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں۔ دُنیا میں کروڑوں مسلمان اُن کی تحریروں اور فکر سے ’’تعمیر سیرت‘‘ کے لیے راہنمائی حاصل کر تے آ رہے ہیں۔

سب سے پہلے اس بات کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک مفکر اور علوم اِسلامیہ اور جدید علوم سے بہرہ مند کامل شخصیت تھے، وہ اپنی علمیت اور سوچ کی بنا پر نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ عالم اِسلام میں اپنی شناخت رکھتے تھے اور ہر مکتب فکر آج بھی اُن کا احترام کرتا ہے۔ اس لیے اُن کو تحریک پاکستان کے پس منظر میں ایک فالور کے طور پر نہیں بلکہ ایک مفکر راہنما کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ دو قومی نظریے کے بانیوں میں سے تھے، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ڈاکٹر محمد اقبالؒ دونوں مفکر تھے اور اپنی اپنی فکر رکھتے تھے لیکن اُن کا مشترک نظریہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ جو نظریہ پاکستان کی بنیادی اساس ہے، یعنی دونوں مفکرین ہندوستان کے مسلمانوں کی بقا اِس بات میں سمجھتے تھے کہ مسلمان ایک الگ خطہ ارضی پر اِسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ علاوہ ازیں دیگر مسلمان زعماء و قائدین بھی تھے جنہوں نے اِس نظریہ کے مطابق اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ جیسے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سیکرٹری سید شریف الدین پیرزادہ نے ان الفاظ میں لکھا ہے۔

’’مولانا مودودیؒ نے ترجمان القرآن کے سلسلہ ہائے مضامین کے ذریعے جو 1938-39ء شائع ہوئے، کانگریس کے چہرے سے نقاب اُتارا؎؎؎ اور مسلمانوں کو متنبہ کیا، مولانا نے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیااور کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی ،، ۔

علامہ اقبالؒ کا مولانا مودودیؒ سے تعارف پہلی بار ان کی کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ سے ہوا جو انہوں نے محض 24 سال کی عمر میں لکھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن(کتابی صورت میں) 1930ء میں شائع ہوا، علامہ اقبالؒ نے اس کتاب کو اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر ایک بہترین تصنیف قرار دے کر اہل علم حضرات کو اس کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔

علامہ اقبالؒ 1930ء کے بعد سیاست میں کافی حد تک متحرک ہوئے لیکن ایک مفکر کے طور پر اُنہوں نے تخلیق اور فکر پر زیادہ زور دیا، یہ اُن کی تخلیق اور فکر کے حوالے سے اُوج کا زمانہ تھا، اُنہوں نے اپنی تخلیق اور فکر کے تصور کو عملی صورت میں ڈھالنے کے لیے جہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ و دیگر شخصیات کو اُبھارا، وہاں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو بھی لاہور منتقل ہونے کا مشورہ دیا تاکہ وہ اس خطے میں جہاں اُن کے خیال کے مطابق اِسلامی ریاست بنانا مقصود تھی بیٹھ کر عملی جدوجہد کریں۔ علامہ اقبالؒ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ ’’دو قومی نظریے‘‘ کے زبردست داعی بن سکتے ہیں۔ اُنہوں نے جس طرح کانگریس اور ان کے ہمنوائوں کا محاسبہ کیا وہ اُن کے نزدیک قابل تحسین تھا، اُس وقت ایک ایسے مصلح کی ضرورت تھی جو اپنی تحریروں سے قوم کو ہلاکت سے بچائے اور اِسلامی ہند کی گزشتہ تاریخ اور موجودہ حالت پر محض ایک صحافی، ادیب، مورخ یا سیاست دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے۔ ایک ایسی شخصیت جسے صرف سیاسی آزادی اور معاشی استقلال ایک ہندوستانی کی حیثیت سے درکار نہ ہو، جو کانگریس کے نظریہ قوم پرستی کے پرخچے اڑا سکے، جس کا قلم اس قابل ہو کہ مسلمانوں کے دِل میں اس کی بات اتر جائے، جو اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جرأتِ اِیمانی اور صفاتِ مومن سے مالا مال ہو، اُنہوں نے بھانپ لیا کہ یہ مولانا مودودیؒ ہی ہو سکتے ہیں جو کانگریس کے حقیقی روپ کو بے نقاب کرنے اور ہندو سامراج کے ہتھکنڈوں سے ملت اِسلامیہ کو آگاہ کریں ۔اقبالؒ سمجھتے تھے کانگریس کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے موثر اور لاجواب دلائل بہم پہنچانے والی شخصیت مولانا مودودیؒ ہی ہو سکتے ہیں۔جہاں تک کانگریس اور متحدہ ہندوستان کے حماتیوں کا تعلق ہے مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اُن کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل کئی سالوں تک قلمی جہاد کیا۔


ای پیپر