’’چوہدری پرویز الٰہی کا بصیرت افروز بیان‘‘
17 نومبر 2019 2019-11-17

لاہور کی طرف موٹر وے پر رواں دواں بس میں انتالیس (39) مسافر تھے۔ ۔۔

میں اور بابا جی ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ باقی سب مسافروں کے پاس LATEST MODEL موبائل تھے مگر میرے اور بابا جی کے پاس پرانی طرز کے سیٹ تھے۔۔۔ بوسیدہ۔۔۔ مگر کیمرے سے بہر حال یہ بھی ’’لیس‘‘ تھے۔۔۔آج کے دور کا سب سے تیز دھار ہتھیار۔۔۔

’’دیکھ رہا ہے۔۔۔ چوہے کو۔۔۔۔؟‘‘

’’جی ۔۔۔ بابا جی۔۔۔۔ کون سا چوہا۔۔۔۔؟‘‘

ارے بھیاء وہ سیٹ نمبر چار پر جو بیٹھا ہے قینچی چپل پہن کے۔۔۔ وہ دیکھ۔۔۔ سیٹ نمبر سات والی کی ’’بے غیرت‘‘ فلم بنا رہا ہے۔۔۔ چھچھورا کہیں کا ۔۔۔۔

مجھے اچھا نہ لگا۔۔۔ میں نے سوچا ’’چوہے‘‘ کی چھترول کر دوں مگر بابا جی نے مجھے کالر سے پکڑ کر کھینچا۔۔۔ نہ کر بچے۔۔۔ ’’اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں‘‘۔۔۔ ’’ہم سب‘‘ میں بڑ بڑایا۔۔۔

’’آپ سب ہوں گے‘‘ ۔۔۔

’’ہم سب نہیں‘‘۔۔۔ میں نے جواب دیا۔

’’یہاں سب کے پاس اپنی اپنی ڈھولکی ہے اور اپنا اپنا راگ‘‘ ۔۔۔ ’’بس میں سکوت دیکھو کیسا ہے‘‘ ۔۔۔ پہلے محلے میں سب آپس میں ملتے جلتے تھے۔۔۔ شام کو گپ شپ لگاتے۔۔۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا۔۔۔ اب ذرا غور کر بس میں مجھ سمیت سب اپنے اپنے موبائل سے کھیل رہے ہیں۔۔۔ لگتا ہے بس میں ’’قل خوانی‘‘ ہو رہی ہے یا چالیسویں کا ختم ہے اور سامنے انواع و اقسام کی چیزیں ہیں۔۔۔ دُعا پڑھی جانے کا انتظار کر رہے ہیں سب۔۔۔ کیا خاموشی ہے۔۔۔ مگر دماغ مصروف۔۔۔ دلوں کی دھڑکنیں تیز۔۔۔ کسی کو معلوم نہیں بس مشرق کو جا رہی ہے یا مغرب کو۔۔۔

بابا جی۔۔۔ آپ بھی تو ابھی کسی کو SMS کر رہے تھے۔۔۔ کسی کو سالگرہ پر مبارکباد پیش کر رہے تھے۔۔۔ ’’بابا جی۔۔۔‘‘ کھیسانے ہو گئے۔۔۔ بھائی بارہ سال سے ’’رنڈوا‘‘ ہوں۔۔۔ ’’اُس‘‘ نے وعدہ کیا تھا اس سالگرہ پہ وہ مجھے بڑی سکرین والا موبائل تحفہ کرے گی۔۔۔؟ ویسے اُس کا شوہر بھی بس پل دو پل کا مہمان ہے۔۔۔ بس تھوڑی سی ڈاکٹروں کی سستی ہے۔۔۔؟

’’اُمید پہ بابے قائم ہیں۔۔۔ کب ہے ’’اُن‘‘ کی سالگرہ۔۔۔؟‘‘ میں بڑ بڑایا۔۔۔

’’25، مئی کو۔۔۔!‘‘ بابا جی شرما گئے۔۔۔

مبارکاں ۔۔۔ حضور۔۔۔ پیشگی مبارک قبول ہو۔۔۔ نیا موبائل اور ’’اُن‘‘ کا دیدار بھی۔۔۔

اچانک بس میں شور مچ گیا۔۔۔

’’خبیث اُلّو کے پٹھے۔۔۔ میری تصویریں بنا رہا ہے ۔۔۔ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہے۔۔‘‘

بس ہوسٹس گرج رہی تھی ایک پچپن سال کا بندہ اُس کی تصویریں بنا رہا تھا۔۔۔ یا شاید فلم۔۔؟ (سب نے کانوں میں اپنی اپنی ’’ہینڈ فریـ‘‘ کی ٹوٹیاں ٹھونس رکھی تھیں)۔۔۔ بابا جی ہنس دئیے اور آہستہ سے بولے۔۔۔۔

’’بے چاری کو میک اپ تو کروا لیتا۔۔۔ چڑیل لگ رہی ہے۔۔۔ اور دیکھ لیں یہ ظالم اُس کی تصویریں ’’فیس بک‘‘ پہ چڑھا دے گا۔۔۔

معاملہ ایک دم سے دفع دفع ہو گیا۔۔۔ پھر سے ’’ہو‘‘ کا عالم طاری ہو گیا۔۔۔ بس رواں دواں تھی۔۔۔ بڑی سرعت سے سب کچھ طے ہو گاپہ ہوتی ہے عقلمندی۔۔۔ نہ پولیس نہ کچہری۔۔۔ بالا بالا سب طے۔۔۔

بابا جی۔۔۔ یہ کیا MYSTRY (اندر کی کہانی) ہے۔۔۔!

’’میاں تم بھولے ہو یا میرے سامنے بنے بیٹھے ہو۔۔۔؟‘‘ بابا جی نے پہلی بار مجھے غصے سے گھورا۔۔۔جی نہیں۔۔۔ میں کچھ کچھ ’’بھولا‘‘ ہوں۔۔۔ میری وضاحت پر بولے۔۔۔ (آنکھیں بند کر کے)۔۔۔

میاں تو نے دیکھا نہیں۔۔۔ اُس پچپن کے ’’لڑکے‘‘ نے ہوسٹس کو اپنا مہنگا سیٹ دے دیا ہے۔۔۔ بظاہر اُس نے غصے میں پچپن کے ’’لڑکے‘‘ کا سیٹ اپنے بیگ میں ڈال لیا ہے۔۔۔ مگر چہرے سے شرارت اور ’’خوشی‘‘ عیاں ہے۔۔۔ وہ اُسے اور ’’میں‘‘ دونوں کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور تم سر جھکائے ’’نئی بات‘‘ پڑھ رہے تھے۔۔۔ اب وہ لاہور جا کے اُسے شکریہ کا SMS کرے گی اور کہہ دے گی۔۔۔

’’جی۔۔۔ میں ایسی ویسی نہیں ہوں لیکن آپ نے سیٹ مجھے میری تصویروں سمیت "GIFT" کر دیا اور میں نے اپنی سالگرہ کا تحفہ سمجھ کے رکھ لیا۔۔۔ تحفے اور بھی تھے پر سب سے پیارا آپ کا تھا۔۔۔‘‘

میں نے کہا میں آپ کا شکریہ ادا کر دوں۔۔۔ اور ہاں بتاتی چلوں کہ پیر والے دن فون نہ کرنا۔۔۔ میری OFF ہوتی ہے اگر کوئی ’’بہت‘‘ ضروری بات کرنی ہو تو صبح دس بجے سے پانچ بجے تک کر سکتے ہیں۔۔۔ میں بھنڈی پکا کے فارغ ہو جائوں گی۔۔۔ آپ کو بھنڈی اچھی لگتی ہے۔۔۔؟‘‘

اب باقی تفصیلات بھنڈی کا قصیدہ بیان کر کے وہ خود ہی بتا دے گا۔۔۔ اور پھر Monday کے Monday۔۔۔

بابا جی۔۔۔۔ آپ نے تجربے کے زور پر سب کچھ بھانپ لیا۔۔۔۔؟

بابا جی کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔

میاں اس بس میں موجود ہر کوئی اپنے اپنے موبائل پہ فلمیں، تصویریں اور SMS دیکھ رہا ہے۔۔۔ کچھ تصویری گفتگو میں مصروف ہیں۔۔۔ تو کچھ نہایت آہستہ فون پہ ’’اُداسی‘‘ دور کر رہا ہے۔۔۔ اور ہم جیسے سادہ SMS پر گزارہ۔۔۔

اِس وقت بھی ملک بھر میں بڑے چھوٹے سیاستدانوں کی اپنی اپنی ڈھولکی اور اپنا اپنا راگ چل رہا ہے۔لیکن جو خوفناک بات ہے ... وہ ہے عوام کی سیاسی بصیرت ... اب پبلک کو یہ بات کھل کے سمجھانا نہیں پڑتی کہ سیاستدان کس کس طرف سے وار کر رہے ہیں اور کیسے کیسے ’’ وار ‘‘ ان پر ہو رہے ہیں.. جن کو سمجھنا اُن کے بس کی بات نہیں۔

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پارٹیوں میں واضح گروپ بندیاں ہو جاتی ہیں اور پھر نئے محاز اور نئی حکمت عملی سامنے آجاتی ہے۔حکومتیں ایسے بوجھ برداشت نہیں کر پاتیں... کیونکہ دور بین لگائے ’’ لوگ‘‘ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھا ہے اور ہوا کا رُخ بدل جائے گا ... کیونکہ کل رات جو بیان چوہدری پرویز الہی نے جاری کیا ہے اُس میں اُنہوں نے واضح کر دیا ہے ... کہ ’’ میں نے عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو نظام درہم برہم ہو جائے گا..؟‘‘

سواری نہیں تھی تو ہم کو بلاتے

’’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘

اگر آ پہنچتے یہاں وقت پر تم

دل اپنا تمہیں بھون کر ہم کھلاتے

اگر میں تمہاری محبت میں مرتا

تو تم بھی مگر مچھ کے آنسو بہاتے


ای پیپر