کامیابی کاڈر!
17 نومبر 2019 2019-11-17

جب سبھی طرف سے بیجا تنقید کا سامنا ہو تو سمجھ لیں یا تو آپ کامیاب ہو چکے ہیں، یا پھر دوسروں کو آپکی کامیابی کا ڈر ہے۔حکومتِ عمرانی بھی آجکل اسی زد میں ہے۔وہ عظیم یونانی فلاسفر، تاریخ دان، نامور صحافی جو پہلے پہل کہتے تھے کہ’’ میراثی دا پتر‘‘ وزیراعظم نہیں بن سکتا انہوں نے الیکشن والے دن ہی الیکشن فوج پر ڈال دیا تھا، پھر پہلے دن ہی کہہ دیا کہ یہ حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی، اس کے بعد ہر دن ہر کام پر تنقید کی اور پچھلی حکومتیں جنہوں نے ستر سال اس ملک کی جڑیں کاٹیں ان کے درباری لکھاری بنے رہے، عمران خان نے جس جس ڈیپارٹمنٹ کو ہاتھ لگایا وہ احتجاج پر نکل آیا۔رکشہ ڈرائیور سے لیکر ڈاکٹرز تک ابھی تک سراپا احتجاج ہیں۔ ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے بہت پیارے بھائی تجزیہ نگار حکومت کو ایک ایک سٹیپ پر مشوروں کی لائن لگا دیتے ہیں۔ انفرادی طور پر ہر بندہ کرپٹ اور بے ایمان ہے اور پوچھتے ہیں تبدیلی کدھر ہے۔ عقل کے اندھو!! جس ملک میں سی ایس ایس کرنے والا احد چیمہ کرپشن پر گرفتار ہو اس ملک میں عمران خان تبدیلی جن بھوتوں سے لے آئے۔ اپنے گریبانوں میں جھانکا ہے کبھی ہم انتہائی لٹیری قوم ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے جو جج نواز شریف کو سزا دے دے وہ یوتھیوں کا جج، جو عمران خان کو سزا دے دے وہ نونیوں کا جج۔ ہم اپنے بہترین وکیل ہیں اور دوسروں کے بہترین جج ہیں۔ کوئی بندہ ہاتھ اٹھائے کہ میں اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سر انجام دیتا ہوں رزق حلال کھاتا ہوں، جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کوسچ کہتا ہوں، چاہے سامنے میرا بھائی کھڑا ہو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ریاست مدینہ کے خواہش مندوں میں کتنے حضرت ابوبکر صدیقؓ جیسے صدیق، فاروقؓ جیسے عادل،عثمان ؓ جیسے غنی اور علیؓ جیسے شجاع چھپے ہوئے ہیں۔ رب تعالیٰ منہ کے مطابق چپیڑ مارتا ہے۔ آپ یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ ہم چھ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کر کے، کم تول کے، ملاوٹ کرکے، فراڈ کرکے، 2نمبری کرکے اصل کی قیمت میں نقل بیچ کر، پڑھائی کے نام پر کاروبار کرکے یعنی کون سی برائی ہم میں نہیں ہے اور خواہش ہے کہ ریاست مدینہ کا قیام ہوجائے۔ بائیس کروڑ ہاتھ پر ہاتھ دھرے جادو کے انتظار میں ہیں کہ عمران خان تبدیلی لائے۔

واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دوست میرے پاس آیا کہ میرا ایک سوال ہے تو میں نے اسے کہا کہ ایک ہفتے بعد آنا ابھی میں جواب نہیں دے سکتا تو وہ ایک ہفتے بعد جب آیا اور کمرے میں داخل ہو ہی رہا تھا تو میں نے اس سے کہا وہ تمھارا سوال کیا تھا، وہ کہتا ہے کون سا سوال؟ مجھے تو یاد نہیں، تو میں نے اس کو جواب دیا کہ جو سوال تم ہفتہ بھر یاد نہیں رکھ سکتے خالقِ کائنات اس کا جواب کیونکر دیں گے۔ وہ کسی بھی غیر سنجیدہ شخص کے سوالوں کے جواب نہِیں دیتا ہم قوم کی صورت میں کتنے سنجیدہ ہیں آپ اور میں بہتر جانتے ہیں۔ تقریباً اگر کم وبیش بات کی جائے تو عمران کی 51فیصد کے ساتھ اکثریت ہے اور باقی 49 فیصد بریکیں لگا کے بیٹھی ہوئی کہ کب یہ حکومت ختم ہو اور 51 فیصد والے بھی جذباتی قوم ہونے کی وجہ سے اب تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ یعنی ہم اپنی حیثیت دیکھیں تو ایک مسخرہ سے بڑھ کر کچھ نہیں بدنام صرف فیصل آبادی ہیں جگتی ہم سارے پاکستانی ہیں۔ دنیا کے عظیم فلاسفر، محقق، حکیم ، مفتیانِ عرب و عجم پاکستان میں اکٹھے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ ذہین ہونے کا وہم ہمیں ہے حالانکہ ان پڑھ حکیم ہمیں مردانہ کمزوری کے نام پر ہی لوٹ لیتے ہیں جو سرے سے بیماری ہی نہیں ہے اور انہوں نے پاکستان کی ہر دیوار پر لکھوا دیا ہے کہ مردانہ کمزوری کا علاج ہم کریں گے کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ پوری دنیا کے کمزور ترین پرش یہاں پر آباد ہیں۔ میرا آپ لوگوں سے سوال ہے ایک پیج پر اپنے بارے میں لکھو کہ میں کیا ہوں؟ کیا کررہا ہوں؟ اور اس کے بعد دیکھنا کہ یہاں ریاست مدینہ قائم ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔

کون سا جرم ہے جو ہم نہیں کر رہے ذرا تصور کریں کیسے ملک درست ہو سکتا ہے جب آپ کا عام ناگرک سوچتا ہے کہ اس کے گھر کے سامنے لگا ہوا سولنگ حکومت کا ہے اس لئے اس سے اینٹیں اکھاڑ لو۔ آپ لوگوں نے کیا سوچ کر امید لگا رکھی ہے؟ بھائی ہمیں بدلنا ہے۔ ہمیں جو کہتے ہیں بھائی آجکل جھوٹ نہ بولیں تو نوکری نہیں بچتی، بے ایمانی نہ کریں تو کاروبار میں بچت کوئی نہیں، استاد جس کو روحانی باپ کہا گیا وہ اپنے ہی شاگردوں کے ساتھ گھنونے جرائم کر رہے ہیں۔مولوی مسجدوں اور منبروں پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کر رہے ہیں۔ریاست مدینہ کے خواہشمندو، تمہارے ملک میں مسجد کے لوٹے زنجیروں سے بندھے ہوتے ہیں۔دودھ میں پانی ڈال کر ہم نواز شریف پر ایک گھنٹے کا لیکچر جھاڑ دیتے ہیں مرچوں میں اینٹیں ملا کر ہم ساہیوال سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچتے کہ جج بھی پاکستانی ہی ہیں۔ اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیریں ریاست مدینہ بننے میں دیر نہیں ہے اور

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں قطاراندر قطار اب بھی


ای پیپر